قائداعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے

 بدھ 14 اگست 2013
ممتاز دانش ور خواجہ مسعود کی یادگار تحریر۔  فوٹو : فائل

ممتاز دانش ور خواجہ مسعود کی یادگار تحریر۔ فوٹو : فائل

ان کی عظمت کی پرکھ، ان کے علم اور تجربے کی رنگارنگی اور وسعت سے نہیں بلکہ ان کے ذہین دماغ اور تخلیقی سوچ کی پختگی اور درستی سے ہوتی ہے۔

اس لیے محض ایک مشہور شخصیت کے مقاصد کے تنوع یا اس کو درپیش چیلنجوں کو نہیں بلکہ مقصد کے ساتھ اس کی پرخلوص لگن اور بے پناہ انفرادی صلاحیتوں کو اور سب سے بڑھ کر یہ دیکھنا چاہیے کہ فرض کی ادائیگی میں کسی خوف کی پراہ نہ ہونے اور ذاتی وقار اور قومی افتخار جیسے پسندیدہ سادہ اصول پر عمل پیرا ہونے سے ان کی شخصیت کس قدر مسحور کن بن گئی تھی۔(سروجنی نائیڈو)

قائداعظم سامراج کے شدید مخالف اور آزادیٔ فکر کے زبردست حامی تھے۔ انہیں آمریت، ظلم اور ناانصافی سے شدید نفرت تھی۔ وہ ایک سامراج دشمن، سوشلسٹ، ملاؤں کی حکمرانی سے پاک اور جمہوری پاکستان چاہتے تھے۔

برصغیر کے مسلمانوں کے قائداعظم کو اپنا لیڈر تسلیم کرنے اور ان کے ساتھ وفاداری کو عملی طور نبھانے کے پیچھے ان کا قائداعظم پر یہ اعتبار تھا کہ وہ قومی آزادی کے عظیم مقصد کے ساتھ پوری طرح پر خلوص ہیں۔ معاشرے کو برائیوں سے پاک کرنا چاہتے ہیں اور اسلام کے بنیادی اصولوں، مساوات، بھائی چارے اور سماجی انصاف کے نفاذ کو معاشرے کی راہ نجات مانتے ہیں۔

ان کے بارے میں فرانک موریس نے لکھا تھا، ’’ان کے ہم عصر مسلمان لیڈروں میں سے کوئی بھی برصغیر کے عام مسلمانوں کے دل کی آواز سننے کی صلاحیت نہیںرکھتا، نہ ہی کوئی ایسا تھا کہ جس کی کہی کسی بات کو لوگ اپنے دل کی آواز سمجھنے لگتے اور وہ انہیں کچھ بھی کرنے پر آمادہ کر سکتا۔ پاکستان کا لفظ جناح کے منہ سے نکلنا ایک ایسی گھنٹی کی آواز جیسا تھا کہ جس پر لوگوں نے یوں ردعمل کا اظہار کیا جیسے وہ کسی خطرے کی گھنٹی کی آواز سن کر کرتے۔‘‘ قائداعظم نے پاکستان کی ضرورت، اس قدر واضح، دو ٹوک اور عام آدمی کی زبان استعمال کرتے ہوئے اجاگر کی تھی کہ عام مسلمان نہ صرف اسے باآسانی سمجھ پائے، بلکہ بخوشی اسے قبول کرے اور شعوری طور پر اس کے لیے جدوجہد کرے۔

قائداعظم کی برصغیر کے عام آدمی کی حالت زار کے بارے میں گہری تشویش نے ہی انہیں پاکستان کے تصور سے آشنا کیا۔ ان کا ایمان تھا کہ معاشرتی پسماندگی سے نجات اور حصول آزادی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ان کے نزدیک آزادی حاصل کرنے کا اصل مقصد ہی عام آدمی کی حالت کو بہتر بنانا تھا۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہم بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوتے چلے آئے ہیں اب جب ایک نئے دور کا آغاز ہونے جارہا ہے تو ہمیں سب سے پہلے اپنے اب تک صرف لٹتے چلے آرہے عام آدمی کی حالت کو بہتر بنانے کو اپنی اولین ترجیح قرار دینا چاہیے۔‘‘

ایک اور موقعے پر انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ ان کا سب سے بڑا فریضہ یہ ہے کہ ’’وہ عوامی فلاح و بہبود کا ایک ایسا تعمیری اور جامع پروگرام مرتب کریں کہ جس کے ذریعے مسلمانوں کی سماجی، معاشی اور سیاسی ترقی کی سبیل پیدا ہو تاکہ مسلم عوام کو برطانوی حکومت، کانگریس اور نام نہاد ملاؤں کے شکنجے سے نجات دلائی جاسکے۔‘‘

قائد اچھی طرح جانتے تھے کہ ترقی کے راستے میں کون لوگ رکاوٹ ہیں۔ 24 اپریل 1943ء کو منعقد ہونے والے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں قائداعظم نے خطبہ صدارت دیتے ہوئے ان عناصر پر گرجتے ہوئے فرمایا: ’’میں ان جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو خبردار کرنا چاہتا ہوں جو ہمارا خون چوس چوس کر اس قدر طاقتور ہوتے جارہے ہیں، انہیں یہ موقع ایک ایسے نظام نے مہیا کیا ہے جو انہیں اس قدر خود غرض بنا دیتا ہے کہ کوئی نصیحت ان پر اثر ہی نہیں کرتی۔ لوگوں کا استحصال کرنا ان کی فطرت بن چکی ہے۔ ذرا دیہات میں جاکر دیکھیں۔ میں نے جاکر دیکھا ہے۔ وہاں ہزاروں، لاکھوں لوگ روزانہ کی شدید مشقت کے باوجود محض اتنا کماپاتے ہیں کہ ایک وقت کے کھانے کے اخراجات پورے کرسکیں۔ کیا اسے تہذیب کہتے ہیں؟ ‘‘

اس سے بڑھ کر اورجاگیرداری اور سرمایہ داری کی مذمت کیا ہوسکتی تھی۔ قائد نے تو ایسا پاکستان چاہا تھا جہاں لالچ اور طاقت کے لیے مزدوروں اور کسانوں کا استحصال نہ ہو لیکن افسوس کہ ہم نے قائد کے اس سپنے کوچکنا چور کردیا۔

قائداعظم سامراجیت کے سخت مخالف تھے اور اس پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا ’’اس الزام سے بڑا اور کوئی سفید جھوٹ نہیں ہوسکتا کہ مسلم لیگ سامراج کی حاشیہ بردار ہے۔ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ اسمبلی کے اندر یا باہر میں نے ایک بھی لفظ سامراج کی حمایت میں کہا ہو، اگر ایسی کوئی مثال نہیں تو پھر اس الزام کی کیا وقعت رہ جاتی ہے۔‘‘

جب ماؤنٹ بیٹن نے قائد کو اپنی ہدایت پر عمل کرنے پر مجبور کرنے کے لیے یہ دھمکی دی کہ بصورت دیگر ہوسکتا ہے کہ وہ کبھی بھی پاکستان حاصل نہ کرپائیں تو قائد اسی وقت کھڑے ہوگئے اور جواب دیا ’’جوہو سو ہو۔‘‘ یہ تیکھا اور بے خوف جواب ہی پاکستان کی اصل روح تھا کہ سامراج کی بالادستی کسی صورت قابل قبول نہیں ہے اور یہی وہ دلیر اور کبھی نہ بکنے والے قائد تھے کہ جو پاکستان کو معرض وجود میں لے آئے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب میں عوام سے اپنے آخری خطاب کے دوران قائداعظم نے مغرب کے معاشی نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے فرمایا: ’’مغرب کے معاشی نظام نے پوری انسانیت کو ایک ایسی تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے کہ جس کے بارے میں ہم میں سے بہت سوں کا یہ خیال ہے کہ کوئی معجزہ ہی دنیا کو اس سے بچاسکتا ہے۔ یہ انسانوں کے درمیان توازن قائم کرنے میں ناکام ہوچکا ہے اور قوموں کے درمیان مسابقت اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی ہوس کو بھی ختم نہیں کرپایا۔

طرہ یہ کہ اس کی بدولت پچھلے پچاس سال کے عرصے میں دنیا دو عالمی جنگوں کا شکار ہوچکی ہے۔ مغربی دنیا اپنی تمام تر مشینی ایجادات اور صنعتی ترقی کے جس بحران کا شکار ہے وہ دنیا کی تاریخ میں کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ مغربی معاشی نظریات کو اپنانا ہمارے جیسے ملک کے لیے کسی طرح بھی مفید ثابت نہیں ہوسکتا کیونکہ ہم اس پر عمل پیرا ہوکر اپنے عوام کو مسرت اور خود کفالت مہیا نہیں کرپائیں گے۔ ہمیں اپنا مستقبل خود اپنے انداز میں سنوارنا ہوگا اور دنیا کو تمام انسانوں کی برابری اور سماجی انصاف کے اسلامی اصولوں پر مبنی معاشی نظام کا ایک نمونہ دکھانا ہوگا۔‘‘

پاکستان کی آئندہ معاشی پالیسی کے خدوخال واضح کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ ’’میں ذاتی طور پر یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ موجودہ جدید دور کا تقاضا ہے کہ بعض ضروری اور کلیدی صنعتیں ریاستی ملکیت اور انتظام کے تحت چلائی جانی چاہئیں۔‘‘

قائد نے اس قوت متحرکہ کی نشاندہی میں کسی شک کی گنجائش نہیں چھوڑی کہ جو پاکستان کے بننے کے پیچھے کارفرما تھی۔ 26 مارچ 1948ء کو چٹاگانگ کے ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا: ’’آپ اس وقت میرے اور لاکھوں دوسرے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں جب آپ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی اصل بنیاد انصاف اور اسلامی سوشلزم ہونی چاہیے جوکہ انسانی برابری اور بھائی چارے کا دوسرا نام ہے۔

یہ ہمارے مذہب، کلچر اور تہذیب کے بنیادی نکات ہیں اور ہم نے پاکستان کی جدوجہد انہی بنیادی انسانی حقوق کے حصول کے لیے کی تھی کیونکہ ہمیں خدشہ تھا کہ متحدہ ہندوستان میں رہتے ہوئے ہمیں ہمارے ان بنیادی انسانی حقوق سے محروم کردیا جائے گا۔ غیر ملکی حکمرانوں اور ایک ذات پات کے ماتحت سماجی نظام کی دوہری غلامی نے ہمارے اندر ان زریں اصولوں کی آرزو کو اور شدید کردیا تھا۔ غلامی کا یہ دور دو صدیوں سے زائد عرصے پر محیط رہنے سے ہمیں لگنے لگا تھا کہ مسلمان بحیثیت فرد اور من حیث القوم بالکل ہی مٹ کر رہ جائیں گے۔ حتمی تجزیے میں پاکستان، اس کے لیے جدوجہد اور اس کے حصول کی کہانی، دراصل تمام رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود جدوجہد کے ذریعے عظیم انسانی مقاصد کو حاصل کرنے کی کہانی ہے۔‘‘

آزادی، مساوات اور بھائی چارہ‘ قائداعظم کے پسندیدہ ترین نعرے تھے۔ اس کا ثبوت ہمیں ان کی اس تقریر سے ملتا ہے جو انہوں نے 2 جنوری 1948ء کو فرانسیسی سفیر کی تقریر کے جواب میں کی تھی جو اس نے انہیں اپنی اسناد سفارت پیش کرتے وقت کی تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’جیسا کہ تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ آزادی، مساوات اور بھائی چارے کے نعرے کی گونج ساری دنیا میں سنی گئی تھی جو آپ کی قوم نے اپنے عظیم انقلاب کے دوران لگایا اور جسے پھر آپ کی عظیم جمہوریہ نے سرکاری طور پر اپنایا۔ یہ نصب العین اور یہ اصول آج بھی دنیا بھر کے مظلوم و محکوم لوگوں میں امید پیدا کرنے اور انہیں جدوجہد پر ابھارنے کے کام آرہے ہیں۔‘‘

قائد کے نزدیک آئین کی تشکیل عوام کا حق تھا، اپریل 1943ء میں دہلی میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کے کنونشن میں خطبہ صدارت دیتے ہوئے آپ نے فرمایا: ’’پاکستان کا آئین صرف اور صرف ملت یعنی عوام ہی مرتب کرسکتے ہیں۔ اس کا آئین اور حکومت وہی ہوگئی جسے عوام منتخب کریں گے‘‘۔

1944ء میں روزنامہ ’’ورکر‘‘ لندن کواپنا انٹرویو دیتے ہوئے قائد نے واضح کردیا تھا۔ ’’پاکستانی مسلمان اس قابل بننا چاہتے ہیں کہ اپنی ایک مقبول، جمہوری حکومت بناسکیں۔ یہ حکومت تمام پاکستانی عوام کی رضا مندی سے وجود میں آئے گی اور پاکستان کے تمام عوام، بلالحاظ ذات، رنگ اور نسل کی مرضی اور دیئے گئے اختیارات کے مطابق کام کرے گی۔‘‘

قائد جمہوری طریق کار پر غیر متزلزل ایمان رکھتے تھے۔ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ ’’میرے ذہن میں اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں پایا جاتا کہ پاکستانی عوام کی اکثریت پاکستان کو ایک عوامی حکومت رکھنے والے ملک کے طور پر تصور میں لائی ہے۔ آپ پاکستان طاقت کے ذریعے حاصل کریں یا کسی سمجھوتے کے ذریعے اس کی آئین سازی بہرحال آپ کو اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے ہی کرنا ہوگی۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کو اپنے منتخب نمائندوں سے کام لینا نہ آتاہو، تاہم اگر ایسا ہو بھی، تو یہ آپ کی ہی غلطی ہوگی لیکن میرا پختہ عقیدہ ہے کہ جمہوریت ہمارے خون میں شامل ہے۔

یہ ہماری ہڈیوں کا گودا ہے، محض صدیوں کی غلامی نے ہمارے خون کی گردش کو ٹھنڈا کردیا ہے۔ یہ ٹھنڈا پڑگیا ہے اور آپ کی شریانیں کام نہیں کررہیں۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ مسلم لیگ کی کوششوں سے یہ لہو پھر گردش کرنے لگا ہے۔ عوام کی حاکمیت قائم ہوکر رہے گی۔‘‘

قائد نے عوامی حکومت کے تصور کو اس لیے اپنایا کیونکہ وہ عوام کی طاقت سے بخوبی آگاہ تھے اور یہ بھی تو حقیقت ہے کہ عوام ہی تاریخ کے دھارے کا رخ موڑا کرتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’مسلم لیگ ایک عوامی جماعت ہے، ہر مسلمان کوحق حاصل ہے کہ اس کا ممبر بن سکے۔ یہ عام لوگوں کی تنظیم ہے اور اس کے سیاہ و سفید کے وہی مالک ہیں۔ اگر آپ کسی بھی شخص کو اپنے درمیان نہیں دیکھنا چاہتے تو چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اسے نکال باہر کرسکتے ہیں۔ طاقت یعنی حقیقی طاقت آپ کے پاس ہے۔ مسلم لیگ عام لوگوں کے بل پر قائم ہے۔ یہ تحریک، مسلمانوں کے قومی احیائے نو کی یہ اٹھتی ہوئی موج کسی طاقت سے نہیں دبائی جاسکتی‘‘۔

قائداعظم تھیوکریسی (مذہبی پیشواؤں کی حکومت) کے خطرے کو بھی بڑی اچھی طرح بھانپ چکے تھے اور انہوں نے کئی مواقع پر قوم کو اس سے خبردار بھی کیا۔ مسلم لیگ کے منتخب اسمبلی ممبران سے خطاب کے دوران آپ نے فرمایا: ’’ہماری جدوجہد کی منزل کیا ہے؟ یہ نہ تو تھیوکریسی اور نہ ہی کسی مذہبی ریاست کا حصول ہے۔ مذہب کا اپنا ایک مقام ہے اور وہ ہم سب کو دل و جان سے عزیز ہے۔ جب مذہب کا سوال ہو تودنیا کی ہر شے اس کے مقابلے میں غیر اہم ہے لیکن اس کے علاوہ اور بھی کئی معاملات ہیں جو اپنی جگہ پر بہت اہم ہیں جیسے کہ ہماری سماجی اور معاشی زندگی۔‘‘

پھر ایک بار ریڈیو آسٹریلیا پر 14 فروری 1948ء کو نشر ہونے والی گفتگو کے دوران آپ نے فرمایا: ’’ہم اسلامی اخوت کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں جس کے تحت حقوق، وقار اور عزت نفس کے حوالے سے ہم سب برابر ہیں۔ نتیجتاً ہم میں اتحاد کا ایک گہرا احساس پایا جاتا ہے لیکن اس سے آپ کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ پاکستان کوئی مذہبی اور نہ ہی اس سے ملتی جلتی اور طرح کی ریاست ہے۔ اسلام ہمیں دیگر مخلوقات سے حسن سلوک کی تلقین کرتا ہے لیکن ہم ایسے تمام انسانوں کو گلے لگانے کے لیے تیار ہیں جو اپنی مرضی سے پاکستانی شہریت اختیار کرنا اور اس کی فلاح و بہبود میں کوئی حصہ ڈالنا چاہیں۔‘‘

جب پاکستان بن گیا تو قائد میں اس قدر جرأت، دانائی اور بیش بینی موجود تھی کہ انہوں نے اس کی پہلی آئین ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس منعقدہ 11 اگست 1947ء میں اپنی تقریر کے ذریعے 23 مارچ 1940ء کی قرارداد پاکستان کی اصل روح کو ایک ٹھوس شکل دینے کی اہمیت اجاگر کرنا ضروری سمجھا، لیکن ان کے جانشینوں نے اس تقریر کو اپنا نصب العین ماننے سے ہمیشہ گریز کیا۔ انہوں نے آزادی کے حصول کے اصل مقصد (یعنی یہاں کے مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کی بحالی) کو ہمیشہ پس پشت ڈالے رکھا۔

افسوس! ہم نے پاکستان کے اس تصور کو دھندلا دیا جو قائداعظم نے ہمیں بڑے واضح انداز میں دکھایا تھا۔ یہ تصور سامراج دشمنی، آزادیٔ فکر کی علمبرداری، جمہوریت کی آبیاری اور معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کے مفادات کے حصول کے لیے جدوجہد کو ہمیشہ اپنے دل میں جگہ دیئے رکھنے کے قائد کے اپنے اصولوں سے عبارت تھا۔ ہم نے قائداعظم کے تصور پاکستان کو بھلا کر اس کے حصول کے اصل مقاصد سے روگردانی کی اور پھر اس کی اچھی خاصی سزا بھی بھگتی۔ ہمیں اس داغ داغ اجالے والی سحر کے سَحر سے نکلنا ہوگا اور بابائے قوم کے تصورات کو ایک بار پھر نئے سرے اور عزم سے گلے لگانا ہوگا۔ تبھی ہم اس بحران سے نکل سکیں گے جس نے ہمارے حال کو بے حال بنا دیا ہے اور ہمارے مستقبل کو گہنا کر رکھ دیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔