اویس مظفر ٹپی کو گرفتار نہیں کیا گیا، ذرائع ایف آئی اے

صباح نیوز / ایکسپریس ڈیسک  بدھ 3 اپريل 2019
چینل تصدیق کیے بغیر ’’بریکنگ نیوز‘‘ دیتے رہے، حقیقت سامنے آنے پر بھی معذرت نہ کی۔ فوٹو: فائل

چینل تصدیق کیے بغیر ’’بریکنگ نیوز‘‘ دیتے رہے، حقیقت سامنے آنے پر بھی معذرت نہ کی۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد /  کراچی: ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ اویس مظفر ٹپی کو دبئی سے گرفتار نہیں کیا گیا۔

سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے منہ بولے بھائی اویس مظفر ٹپی کو دبئی سے گرفتار کیے جانے کی متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں جب کہ ایف آئی اے کے ذرائع کے مطابق اویس مظفر ٹپی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ دبئی سے گرفتار ہونے والے شخص کا نام عارف خان ہے اور وہ اومنی گروپ کے چیف فنانشنل آفیسر ہیں، اس سے پہلے کی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ انٹرپول نے انھیں گزشتہ شب دبئی سے گرفتار کر لیا تھا، اویس مظفر پر سرکاری زمین غیر قانونی طور پر فروخت کرنے کا الزام ہے، ذرائع نے یہ بھی بتایا تھا کہ سابق صوبائی وزیر اویس مظفر ٹپی کو جلد پاکستان منتقل کیا جائیگا۔

دریں اثنا ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے اویس مظفر ٹپی نے بتایا کہ وہ دبئی میں موجود ہیں، ان کی گرفتاری کی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں۔

خبر ایجنسی کے مطابق وہ جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ اور ہزاروں ایکڑ سرکاری اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے الزام میں متعدد مقدمات میں مطلوب ہیں، وہ سندھ حکومت میں وزیربلدیات بھی رہ چکے ہیں، وہ وزارت سے مستعفی ہوکر بیرون ملک روانہ ہوگئے تھے۔

علاوہ ازیں یہ بات غور طلب ہے کہ منگل کو الیکٹرانک میڈیا نے اویس مظفر ٹپی کی دبئی میں انٹرپول کے ذریعے گرفتاری کی خبر ’’بریکنگ نیوز‘‘ کے طور پر کافی دیر چلائی۔ ہر ٹی وی چینل ہم عصروں سے آگے نکلنے کے لیے مسلسل اس خبر کو تصدیق کیے بغیر اویس مظفر کی تصاویر کے ساتھ دکھاتا رہا۔

الیکٹرانک میڈیا کی اس ہیجان خیزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مختلف چینلوں نے اویس مظفر کی گرفتاری پر ماہرین سے تبصرے بھی لیے اور ان کی آرا براہ راست نشر کی۔ جب اس خبر کی ایف آئی اے کی جانب سے تردید کردی گئی توبھی کسی چینل نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معذرت نہیں کی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔