مصرمیں برطرف صدرمرسی کے حامیوں پر فوج کی فائرنگ، سینکڑوں مظاہرین ہلاک، ہزاروں زخمی

ویب ڈیسک  بدھ 14 اگست 2013
محمد مرسی کی برطرفی اور ان کی نظربندی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک سیکڑوں افراد ہلاک جبکہ ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔  فوٹو: اے ایف پی

محمد مرسی کی برطرفی اور ان کی نظربندی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک سیکڑوں افراد ہلاک جبکہ ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

قاہرہ: مصر میں برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں کا دھرنا ختم کرانے کے لئے فوج کی شیلنگ اور فائرنگ کے نتیجے میں سینکڑوں  سے زائد مظاہرین اور 2 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق قاہرہ کی مسجد رابعہ العدویہ اور قاہرہ یونیورسٹی کے قریب واقع نہدہ چوک پر کئی دنوں سے جاری دھرنے کے خاتمے کے لئے فوج نے منظم انداز میں کارروائی کی ہے، مظاہرین کو منتشر کرنے سے پہلے سیکیورٹی فورسز نے اطراف کی تمام گلیوں کو بند کردیا جس کے بعد مظاہرین پر شیلنگ کی گئی، دھرنے میں موجود افراد کی مزاحمت پر فوج نے فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے، اخوان المسلمون نے فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 600 افراد کی ہلاکت اور 10 ہزار کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

دوسری جانب مصر کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ دونوں کیمپوں پر صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہےاور فورسز نے نہدہ چوک کو خالی کرالیا ہے۔ مصری حکومت عوام کا خون نہ بہانے کے لیے پرعزم ہے اسی لئے مظاہرین کے انخلا کے لئے محفوظ راستہ فراہم کیا گیا ہے۔ مطلوب افراد کے علاوہ کسی کا بھی پیچھا نہیں کیا جارہا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ مصری افواج کی جانب سے منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی اور ان کی نظربندی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک سیکڑوں افراد ہلاک جبکہ ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔