503 ارب کی ’’دھاندلی‘‘ کی تفصیل

طارق محمود میاں  بدھ 14 اگست 2013
tariq@tariqmian.com

[email protected]

دوستو! میں شرمندہ ہوں کہ آج آپ کو بور کرنے لگا ہوں۔ یا یوں سمجھ لیجیے کہ پہلے سے زیادہ بور کرنے لگا ہوں۔ اس میں مجھ سے زیادہ ان لوگوں کا قصور ہے جنھیں موقع ملا اور انھوں نے جہالت اور تساہل سے بھرپور کارکردگی دکھا کے ایک ہاہاکار مچا دی۔ میں اسی کے نتیجے میں دو جمع دو، چار والا یہ اعداد و شمار سے بھرپور کالم لکھ رہا ہوں۔ حالانکہ 503 ارب روپے کے گردشی قرضوں کا معاملہ کوئی اتنا گنجلک نہیں تھا کہ آسانی سے سمجھ میں نہ آ سکے۔ لیکن کیا کیجیے کہ ہماری اختلافی سیاست اور ابلاغی فصاحت میں ایک سے بڑھ کر ایک سورما اور افلاطون موجود ہے۔ ان معاملات پر وہ لوگ بھی تبصرہ فرماتے ہیں جو دو دن پہلے گرم حمام کے باہر بازو پر تولیہ لے کر کھڑے ہوتے تھے۔ آج وہ ہر فن مولا ہیں۔ ہر کام کرتے ہیں۔ مالک تھوڑا سا تڑکا انھیں بھی لگاتا ہے تو یہ اس وقت تک چیخ مارتے رہتے ہیں جب تک توے کے نیچے کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوتی۔ جھوٹ پر جھوٹ بولے جانا ہے۔ محنت ٹکے کی نہیں کرنی۔ نہ کسی کی بات سننی ہے اور نہ اخبار پڑھنا ہے۔ حتیٰ کہ اپنا اخبار بھی نہیں پڑھنا۔ انھیں پتہ ہونا چاہیے کہ عوام میں ان کی بے خبری کا کتنا مذاق اڑتا ہے۔

موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو بجلی کے مسئلے سے نپٹنے کے لیے پہلے قدم کے طور پر ان گردشی قرضوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا جو گزشتہ دور میں جمع ہو چکے تھے۔ قرض خواہوں اور قرض داروں میں تیل اور گیس نکالنے والی کمپنیوں کے علاوہ انھیں صاف کرنے، فروخت کرنے اور ان سے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں بھی شامل تھیں۔ ایک نے دوسرے کے اور دوسرے نے تیسرے کے پیسے دینا تھے۔ اسی لیے اسے “Circular Debt” یعنی گردشی قرض کہا جاتا ہے۔ اس قرض کا حجم 503 ارب روپے ہو چکا تھا اور روز اول سے یہ بات بالکل واضح تھی کہ کون سی کمپنی کو واجب الادا رقم کتنی ہو چکی ہے۔ یہ ایک سیدھا سادا سا جواب تھا۔ یوں جیسے بجلی کے کسی میٹر کی ریڈنگ کرنی ہو۔ اور پھر کچھ دیر سویر کا خرچہ۔ ایک ایک آنہ، پیسہ اور پائی بالکل واضح تھا۔ انھیں دو مرحلوں میں ادائیگی کی گئی۔

پہلی ادائیگی جون کے آخر میں ہوئی اور یکم جولائی سے ان میں سے بیشتر کمپنیوں نے اطلاع نامے جاری کرنا شروع کر دیے جن میں رقم کی وصولی کی تفصیل درج تھی۔ مثلاً ’’حب پاور‘‘ نے اطلاع دی کہ 31 مئی 2013ء کو اس کی کل زائد المعیاد قابل وصول رقم 83.2 ارب تھی جن میں سے 75 ارب وصول ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اسے حب پاور کے نارووال پلانٹ کے حساب میں بھی 17.4 ارب روپے مل گئے ہیں۔ اسی نوٹس میں کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ اس تمام رقم میں سے اس نے 55.8 ارب روپے کی ’’پی ایس او‘‘ کو ادائیگی کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے یہ بھی بتایا کہ رقم لیتے وقت اس نے حکومت کے ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے ہیں جس کے تحت وہ اپنے پلانٹ کو تیل کی بجائے کوئلے سے چلانے کے پابند ہوں گے۔ یوں ’’حب پاور‘‘ کو گردشی قرض کا سب سے بڑا حصہ وصول ہوا ہے۔

یکم جولائی کو ’’کوہ نور انرجی‘‘ نے اطلاع جاری کی کہ اسے 3.504 ارب روپے ملے ہیں۔ اسی روز ’’نشاط پاور‘‘ نے 7.08 ارب اور ’’پاک جن پاور‘‘ نے 6.98 ارب ملنے کی اطلاع دی۔ اسی طرح ’’کوٹ ادو پاور‘‘ یعنی کیپکو کو 41.354 ارب روپے وصول ہوئے، ’’اوچ پاور‘‘ کو 19.261 ارب، ’’فوجی‘‘ کو 5.1 ارب، ’’اینگرو پاور‘‘ کو 8.974 ارب، ’’روش‘‘ کو 8.687 ارب، ’’اٹلس‘‘ کو 5.4 ارب، اور ’’لبرٹی پاور‘‘ کو 9.906 ارب روپے ملے۔ رقم وصول کرنے والی دیگر کمپنیوں میں لال پیر، حبیب اللہ، آلٹرن، اے جی ایل، اورینٹ، سفائر، سیف، فاؤنڈیشن، نشاط چونیاں پاور اور ہالمور وغیرہ شامل ہیں۔ پانچ جولائی کو OGDC (آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی) نے تفصیل جاری کی کہ حکومت نے اس کے لیے 50.77 ارب روپے کے PIB (پاکستان انوسٹمنٹ بانڈز) جاری کیے ہیں جو 19 جولائی 2017 کو میچور ہوں گے اور اس سے 55.728 ارب کے زائد المعیاد قرضے طے پا گئے ہیں۔ اسی سے ملتی جلتی تفصیل آٹھ جولائی کو PPL (پاکستان پٹرولیم) نے جاری کی جس میں اس نے بتایا کہ انوسٹمنٹ بانڈز کے ذریعے 22.3 ارب روپے کے قرضے طے ہوئے ہیں۔ PSO کو جو رقم دی گئی وہ 81.333 ارب روپے تھی اور اس رقم میں 48.116 ارب روپے کے انوسٹمنٹ بانڈز بھی شامل ہیں۔

مجھے سب سے زیادہ خوشی ایک چھوٹی سی رقم کی ادائیگی دیکھ کر ہوئی۔ ’’لاریب انرجی‘‘ کو ساڑھے دس کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔ یہ ایک چھوٹا سا پلانٹ ہے جو پانی سے بجلی پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح ایٹمی توانائی سے چلنے والے پلانٹس کے بھی 22.964 ارب روپے طے پا گئے۔ نان کیش سیٹلمنٹ میں واپڈا کے 90 ارب اور NTDC کے 10.216 ارب روپے طے ہوئے۔ سوئی ناردرن، سوئی سادرن، ماری، پی پی پی ایل اور پی ایس او کی GENCOS کو 71.667 ارب ادا ہوئے۔ یوں 21 جولائی 2013 کو یہ تمام گردشی قرض کلیئر کر دیا گیا۔

ادا کیے گئے اس گردشی قرض کی اصلی رقم 503 ارب روپے نہیں بلکہ 480.109 ارب ہے۔ 22.916 ارب روپے “LIQUIDATED DAMAGES” کے کھاتے میں تھے جو کمپنیاں مختلف نقصانات کی مد میں مانگ رہی تھیں۔ فی الحال ان کی ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔

تو جناب یہ ہے تفصیل اس ’’دھاندلی‘‘ کی جس کا شور مچا ہوا ہے۔ یہ تفصیل کتنی پوشیدہ ہے، اس کے بارے میں آپ اب جان ہی چکے ہیں لیکن حیرت ہے کہ خود مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو بھی علم نہیں ہے کہ ادائیگی کی تمام تفصیل تو روز اول سے جاری ہو چکی ہے۔ اعتراض ہو تو وہ آئیں بائیں شائیں کرتے ہیں اور لاجواب ہو جاتے ہیں۔ تب کچھ اس قسم کی گفتگو ہوتی ہے۔

اپوزیشن: ’’آپ نے اپنے دوستوں کو نوازا ہے۔ قرض اتارنے کے بہانے انھیں رقم دے دی ہے جو حکومت کے بیٹوں کو اپنے جہاز میں لے کے پھرتے ہیں‘‘۔

حکومت: ’’ایسا تو نہیں ہے‘‘۔

اپوزیشن: ’’پھر آپ تفصیل کیوں چھپاتے ہیں۔ بتاتے کیوں نہیں کہ 503 ارب کی اتنی بڑی رقم کس کس کو دی ہے؟‘‘

حکومت: ’’یہ تو کوئی مسئلہ نہیں۔ تفصیل بھی دے دیں گے‘‘۔

اپوزیشن: ’’آپ نہیں دیں گے۔ اسی وجہ سے یہ معاملہ مشکوک ہے‘‘۔

حکومت: ’’آپ مانگیں گے تو دے دیں گے‘‘۔

اپوزیشن: ’’مانگ تو رہے ہیں‘‘۔

حکومت: ’’ٹھیک ہے میں آپ کو بھجوا دوں گا‘‘۔

اینکر: ’’بس بات فائنل ہو گئی۔ اگلے ہفتے، آج ہی کے دن میں آپ کو پھر دعوت دوں گا۔ آپ سب کے سامنے یہ تفصیل ان کے حوالے کر دیں‘‘۔

لاحول ولا قوۃ۔ یہ ساری گفتگو اس چیز کے بارے میں ہو رہی ہے جو ایک مہینہ پہلے بتائی جا چکی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر کو چاہیے کہ اپنے بندوں کو چست بنائیں۔ کسی الزام کی بس ایک بار وضاحت کر کے خاموش ہونے سے بات نہیں بنے گی۔ یہ میڈیا کا زمانہ ہے۔ وہ کسی کے خلاف چل پڑے تو بڑے بڑے کارناموں کی چٹنی بنا ڈالتا ہے۔ پبلک کے نزدیک حرف آخر وہی ہوتا ہے جو میڈیا کے کسی معتبر ذریعے سے ان تک پہنچتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر کو چاہیے کہ اگر اس نے لیگی گھوڑے صحیح طرح دوڑانے ہیں تو اس کے لیے مرچوں کا انتظام بھی کر لے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔