جشن آزادی کے نام پر نوجوانوں کی ہلڑ بازی

اسٹاف رپورٹر  جمعرات 15 اگست 2013
ہزاروں کی تعداد میں موٹر سائیکل سوار نوجوان منگل اور بدھ کی درمیانی شب سڑکوں پر نکل آئے اور نہ صرف ٹریفک بلکہ دیگر قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی کرتے رہے. فوٹو: راشد اجمیری/ ایکسپریس

ہزاروں کی تعداد میں موٹر سائیکل سوار نوجوان منگل اور بدھ کی درمیانی شب سڑکوں پر نکل آئے اور نہ صرف ٹریفک بلکہ دیگر قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی کرتے رہے. فوٹو: راشد اجمیری/ ایکسپریس

کراچی:  منچلے نوجوانوں کی بڑی تعداد جشن آزادی کے نام پر بے ہنگم انداز میں سڑکوں پر نکل آئی، سائلنسر کے بغیر موٹرسائیکلوں نے شہر یوںکا سکون برباد کردیا، اوباش نوجوانوں نے جشن آزادی کے موقع پر اہل خانہ کے ہمراہ تفریحی مقامات کا رخ کرنے والے شہریوں کی زندگی عذاب کردی ، ٹریفک پولیس حسب سابق غائب رہی۔

قانون نافذ کرنیوالے ادارے غیرقانونی اور اخلاق باختہ حرکتوں کے سامنے خاموش تماشائی بنے رہے، مزار قائدآنے والے درجنوں نوجوان مزار کی چھت پر چڑھ گئے، تفصیلات کے مطابق 67 ویں یوم آزادی کے جشن کے نام پر منچلے نوجوانوں نے سڑکوں، مرکزی شاہراہوں اور تفریحی مقامات پر طوفان بدتمیزی برپا کیا، ہزاروں کی تعداد میں موٹر سائیکل سوار نوجوان منگل اور بدھ کی درمیانی شب سڑکوں پر نکل آئے اور نہ صرف ٹریفک بلکہ دیگر قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی کرتے رہے، موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کی ٹولیاں تمام رات اور بدھ کے روز رات گئے تک سڑکوں پر گشت کرتی رہیں، بیشتر موٹرسائیکلوں سے سائلنسر نکال لیے گئے تھے جس کی وجہ سے سڑکوں پر کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی جس کی وجہ سے ڈیفنس، کلفٹن، سی ویو دیگر مرکزی شاہراہوں سے متصل رہائشی آبادیوں میں شہریوں کو رات جاگ کر گزارنی پڑی جبکہ دن بھر یہ سلسلہ جاری رہا ، اس ساری صورتحال کے دوران ٹریفک پولیس سڑکوں سے اس طرح غائب تھی جیسے اس کا وجود ہی نہیں ہے ۔

جبکہ یہ نوجوان ٹریفک کی روانی میں دانستہ خلل ڈال رہے تھے جس کی وجہ سے متعدد مقامات پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا ایسا لگتا تھا کہ شہر کا انتظام ان نوجوانوں کے سپرد کردیا گیا ہے دیگر شہری یرغمال بنالیے گئے ہیں، موٹرسائیکل سوار نوجوانوں کی ٹولیوں نے صرف اس پر بس نہیں کیا بلکہ اہل خانہ کے ساتھ جشن آزادی کے موقع پر تفریحی مقامات اور ریسٹورنٹس کا رخ کرنے والے شہریوں کیلیے بھی وبال جان بن گئے۔

تفریحی مقامات پر ان نوجوانوں نے خواتین سے چھیڑ چھاڑ شروع کردی اور اہل خانہ کے ہمراہ تفریح کے لیے نکلنے والے شہریوں کو گھروں میں محصور ہونے پر مجبور کردیا ، تمام مرکزی شاہراہوں پر نوجوانوں کی ٹولیاں کسی بھی گاڑی میں خواتین کو دیکھ کر کرتب بازی شروع کردیتے تھے اور اپنی موٹرسائیکلوں کے ذریعے ایسی گاڑیوں کو گھیر کر ان کے راستے مسدود کردیتے تھے جس کی وجہ سے شہری خاص طور پر بچے اور خواتین شدید خوفزدہ ہوگئے۔

تاہم اس ساری صورتحال میں ٹریفک پولیس کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنیوالے ادارے بھی خاموش تماشائی بنے رہے چند مقامات پر جہاں پولیس اور رینجرز موجود بھی تھی وہاں ان خواتین کو ہراساں کرنے والے نوجوانوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، مزار قائدآنے والے درجنوں نوجوان مزار کی چھت پر چڑھ گئے ،جشن آزادی کے نام پر برپا کیے جانے والے اس طوفان بدتمیزی سے نمٹنے کیلیے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئی اقدامات دکھائی نہیں دیے ، اہل خانہ کے ہمراہ تفریحی مقامات کا رخ کرنے والے شہریوں نے جب اوباش نوجوانوں کو ان کی غیر اخلاقی حرکتوں پر سرزنش کرنے کی کوشش کی تو یہ نوجوان تشدد پر اتر آئے اور شہر میں متعدد مقامات پر پرتشدد واقعات کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں ، شہریوں کا کہنا ہے کہ جشن آزادی کے نام پر 24 گھنٹے جاری رہنے والے غنڈہ راج سے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت ہوگیا ہے کہ شہر قائد میں قانون نام کی شے کا کوئی وجود نہیں، شہریوں نے کہا کہ اس صورتحال سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم اخلاقی طور پر انتہائی پستی کا شکار ہوچکی ہے ،انھوں نے کہا کہ جو قوم اپنے یوم آزادی کو باوقار انداز میں نہیں مناسکتی اس کی مجموعی اخلاقیات کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔