القاعدہ اپنا مرکز پاکستان سے یمن منتقل کر رہی ہے

اے ایف پی  جمعرات 15 اگست 2013
القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری اور یمنی گروپ کے رہنما نصیر الوہیشی کے درمیان رابطوں کی بھی اطلاعات ہیں، اوباما  فوٹو: فائل

القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری اور یمنی گروپ کے رہنما نصیر الوہیشی کے درمیان رابطوں کی بھی اطلاعات ہیں، اوباما فوٹو: فائل

اسلام آباد:  پاکستان میں وجود میں آنیوالی تنظیم القاعدہ رواں ماہ اپنی25 ویں سالگرہ منا رہی ہے، ماہرین اور تجزیہ کاروں کاخیال ہے کہ یمن میں غیر ملکیوں پر حملوں کے شدیدخطرات کے بعد یہ ظاہر ہوتا ہے کہ القاعدہ اپنا مرکز پاکستان سے یمن منتقل کررہی ہے۔

امریکی صدراوباما نے خبردارکیا ہے کہ یمن میں القاعدہ سے منسلک گروپ بڑاخطرہ ہے۔ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری اور یمنی گروپ کے رہنما نصیر الوہیشی کے درمیان رابطوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ القاعدہ کی روایتی لیڈرشپ کی علامتی اہمیت برقرار ہے لیکن اس کا آپریشنل سینٹر پاکستان سے منتقل ہوچکا ہے۔ دفاعی تجزیہ کار امتیاز گل کا کہنا تھا کہ القاعدہ کی لیڈرشپ علاقائی فرنچائزز میں پھیل چکی ہے۔ یمن میں 2 شہروں اور ایک آئل ٹرمینل کاکنٹرول سنبھالنا القاعدہ کیلیے اہم ہے اور یوں لگتا ہے کہ نصیرالوہیشی ایمن الظواہری کے بعد گروپ کے دوسرے بڑے رہنما بن چکے ہیں۔

واشنگٹن کی ڈیفنس آف ڈیموکریسیز فائونڈیشن کے ڈیوڈ روز کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے رہنما صرف پاکستان یا افغانستان میں ہی موجود نہیں ہیں بلکہ یمن میں نصیر الوہیشی بطور جنرل منیجر القاعدہ کے ایک اہم رہنما کی حیثیت اختیارکرچکے ہیں۔فاٹا ریسرچ سینٹر اسلام آباد کے سیف اللہ محسود بھی اس بات سے متفق ہیں کہ افغانستان میں مختلف گروپوں میں اتحادکے بعد اب یہ مشکل ہے کہ یہاں القاعدہ کو ویسی پناہ گاہیں مل سکیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔