ممبئی کے حامد کو پاکستانی دلہنیا نہ ملی خفیہ ایجنسی والے مل گئے

نیٹ نیوز  جمعرات 15 اگست 2013
والدین نے طویل چیٹنگ دستاویز بھی نکال لی،سرحد پار محبت کرنیوالا گھر کب واپس جا سکے گا؟۔ فوٹو: فائل

والدین نے طویل چیٹنگ دستاویز بھی نکال لی،سرحد پار محبت کرنیوالا گھر کب واپس جا سکے گا؟۔ فوٹو: فائل

ممبئی: ممبئی کے نوجوان حامد انصاری جو ایک پاکستانی دوشیزہ کی محبت میں اس حد تک دیوانے ہوئے کہ افغانستان کے راستے غیرقانونی طور پر سرحد پارکرکے پاکستان میں داخل ہوئے اورخفیہ اداروں کے ہاتھ لگ گئے۔

ممبئی میں رہنے والے حامد انصاری کی فیس بک کے ذریعے پاکستان کی پشتون دوشیرہ کے ساتھ دوستی ہوئی، جو جلد ہی محبت میں بدل گئی، حامد انصاری جن کی عمر26 برس تھی، وہ مینجمنٹ کے ٹیچر تھے جبکہ پشتون دوشیزہ بی ایڈکی طالبہ تھی۔ ایک سال کے عرصے میں انٹرنیٹ، فون اور فون میسنجرزکے ذریعے وہ ذہنی طور پر ایک دوسرے کے بہت قریب آتے گئے، ایک روز حامد کو اس نے روتے ہوئے فون کیا۔ اس نے اپنی بہن کو آن لائن محبت کے حوالے سے اعتماد میں لیا تھا، لیکن اس کی بہن نے اپنے والدین سے اس کے بارے میں سب کچھ بتادیا۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ اس کی فوری طور پرشادی کردینی چاہیے۔ یہ اس کی آخری فون کال تھی، اس کے بعد وہ فیس بک سے بھی غائب ہوگئی۔پریشانی میں مبتلا حامد نے اس لڑکی کو تلاش کرنے کیلیے ہر ممکن کوشش کی، ان کا کوہاٹ کی ایک دوسری لڑکی سے رابطہ ہوا اور انھوں نے اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی درخواست کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

بالآخر تھک ہار کر انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ کوہاٹ کا ویزا حاصل کرنے کی کوشش کریں گے چنانچہ انھوں نے کئی مرتبہ دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو فون کیا،روٹری کلب کے رکن کی حیثیت سے انھوں نے پشاور میں روٹری کلب کی جانب سے پشاور اور کوہاٹ میں نوجوانوں کے ساتھ رابطے کیلیے ایک باضابطہ دعوت نامے کا بندوبست کیا لیکن اس سے بھی ان کو ویزے کے حصول میں مدد نہیں مل سکی۔پھر انھوں نے پاکستان انڈیا پیپلز فورم برائے امن و جمہوریت کے جیتن ڈیسائی سے ملاقات کی کہ شاید وہ ویزے کے حصول میں ان کی مدد کرسکیں۔ جیتن نے بتایا کہ کوہاٹ کا ویزا حاصل کرنا کسی صورت ممکن نہیں۔انھوں نے کہا کہ کوہاٹ اس علاقے کا مرکزخیال کیا جاتا ہے، جہاں شدت پسندوں کے ٹھکانے موجود ہیں اور اس کے علاوہ یہ علاقہ غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے بھی شہرت رکھتا ہے، لہٰذا بہتر یہی ہے کہ تم اس لڑکی کو بھلا دو۔ جیتن نے دیکھا کہ حامد اس لڑکی کے عشق میں پاگل ہوا جارہا ہے اور اس لڑکی کیلیے اس نے دیگر باتوں کو سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے۔

پھر حامد نے اپنے والدین کو آمادہ کیا کہ وہ کابل ایئرپورٹ پرجاب انٹرویو کیلیے نومبر2012 کوکابل جارہا ہے۔ ایک ہفتے ہی کے بعد اس کا فون بند ہوگیا،جب انھیں اپنے بیٹے حامد کی کوئی خبر نہ ملی تو انھوں نے اس کا کمپیوٹرکھولا اور دیکھاکہ وہ اپنے فیس بک کے اکاؤنٹ اور ای میل سے لاگ آؤٹ نہیں کرسکا تھا، انھوں نے اس کی فیس بک پر کی گئی سیکڑوں چیٹ پڑھیں اور پھر بہت سارے ٹکڑوں کو جوڑنے کے بعد ان پر اصل حقیقت منکشف ہوگئی۔ تین پاکستانی آن لائن فرینڈز نے حامد پر زور دیا تھا کہ وہ غیرقانونی طور پر پاک افغان سرحد پارکرکے کوہاٹ بذریعہ کابل پہنچے۔ انھوں نے ناصرف حامد کی اس سلسلے میں حوصلہ افزائی کی تھی بلکہ تفصیلی ہدایات بھی فراہم کی تھیں اور انھیں ایسا کرنے پر اکسایا تھا۔

حامد کے اکاؤنٹ سے ان کے والدین کوکوہاٹ میں ایک اردو میگزین سے منسلک ایک گرافک ڈیزائنر عطاالرحمن کے بارے میں علم ہوا، ایک شازیہ خان تھیں، جن کا دعویٰ تھا کہ وہ اسلام آباد میں میڈیکل ڈاکٹر ہیں، ایک پراسرار سی محترمہ تھیں صبا خان،شازیہ خان اور حامد انصاری کے درمیان ہونے والی انٹرنیٹ پر بات چیت سے ایک اقتباس،شازیہ خان: ان دنوں تمہارے لیے پاکستان کا ویزا حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔ تم اس کے بجائے افغانستان کا ویزا حاصل کیوں نہیں کرلیتے؟ اور کابل سے تم پاکستانی سرحد طورخم پہنچ جانا، پھر میں تمہیں وہاں سے کرک یا کوہاٹ لے آؤں گی۔ اس کے علاوہ لقمان نے بھی تم سے کہا تھا کہ تمہیں کابل کے راستے آنا چاہیے،کابل سے طورخم کا فاصلہ صرف150کلومیٹر ہے۔حامد: کوہاٹ کیلیے ویزے کا حصول بہت دشوار ہے، لیکن لاہور کیلیے آسان ہے۔ میں نے پاکستانی ہائی کمیشن، دہلی میں کئی لوگوں سے اس بارے میں بات کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مجھے ایک دعوت نامے کی ضرورت ہے یا پھر وزارت داخلہ کی جانب سے کلیئرنس کی۔ ویسے جلال آباد میں بھی میرا ایک دوست ہے۔شازیہ: جلال آباد، پشاور سے محض50 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔حامد: میں نے جلال آباد کے راستے پشاور جانے کے بارے میں اپنے دوستوں سے مشورہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہاں نگرانی بہت سخت ہے اور اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ میں پکڑا جاؤں گا، پاکستانی ویزے کے بغیر دوبارہ افغانستان میں داخل ہونا بھی بہت مشکل ہوگا۔ یہ زیادہ آسان ہوگا کہ میں لاہور کا ویزا حاصل کرلوں۔ میرا ایک دوست سندھ میں بھی ہے، وہ کہتا ہے کہ تم کسی طرح ایک بار لاہور پہنچ جاؤ، تو وہ مجھے کوہاٹ کے لیے ویزا ایکسٹینشن دلوادے گا۔ لیکن اس سے پہلے مجھے لاہور کا ویزا حاصل کرنا ہوگا۔ میں ہر قسم کا رسک لینے کے لیے تیار ہوں۔شازیہ: اوہو۔ افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوتے وقت کوئی چیکنگ نہیں کی جاتی۔ میں تمہیں اپنی کار میں پشاور لے آؤں گی۔ اس کے علاوہ میں تمہارے لیے پاکستان یا افغانستان کا آئی ڈی کارڈ بھی حاصل کرلوں گی۔

حامد: چلو اب تم ہی بتاؤ کہ مجھے کیاکرنا چاہیے ،حامد انصاری کی والدہ ممبئی کے ایک کالج میں لیکچرار ہیں اور ان کے والد ایک بینکر ہیں۔ انھوں نے ان تمام لوگوں کو ای میل کی، لیکن ان کا کوئی جواب نہیں آیا۔ بہت سے فون نمبرز جو چیٹنگ میں دیے گئے تھے، پر کال بھی کی، لیکن انڈیا کا نمبر دیکھ کرفون کال کاٹ دی گئی۔پھر حامد کی والدہ مسز فوزیہ انصاری نے دبئی میں مقیم اپنے عزیز سے عطا الرحمن اعوان کو کال کروائی۔ جو ریسیو کرلی گئی، عطا نے کہاکہ انھوں نے ایک ڈھابے میں حامد کے قیام کا بندوبست کیا تھا، جہاں وہ 2 دن تک رہے لیکن پھر انھیں خفیہ ایجنسی والے پکڑ کرلے گئے۔حامد انصاری نے ایک بہت بڑی غلطی کی تھی لیکن اس کے آن لائن پاکستانی فرینڈز کے بارے میں ہر ایک کو زیادہ ہی غصہ تھا، جنھوں نے اس کو یہ احمقانہ مشورہ دیا کہ کابل کے راستے کوہاٹ پہنچو اور لڑکی کو اپنے ہمراہ لے کر ممبئی واپس چلے جاؤ۔حامد کے ذہن پر فلم ’’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘‘ کی کہانی چھائی ہوئی تھی، وہ سمجھتے تھے کہ لڑکی کے والد باآسانی اسے لڑکی کولے جانے کی اجازت دے دیں گے۔

اس چیٹ میں لڑکی کے والد کا ایڈریس اور فون نمبر بھی موجود تھا، میں نے انھیں فون کیا، انھوں نے غصے بھرے لہجے میں وہی جواب دیاکہ جوکوئی بھی باپ ایسے کسی معاملے میں کہہ سکتاتھا: ’’اس کا کوئی دوست نہیں۔ نہ ہی یہاں کوئی آیا تھا۔ اس کی اب شادی ہوچکی ہے۔‘‘شاید پاکستانی ایجنسیاں یہ خیال کرتی ہیں کہ وہ ایک ہندوستانی جاسوس ہے، انھیں شبہ ہے کہ وہ افغان سرحد پر پاکستان کے حوالے سے انڈیا کی مبینہ سرگرمیوں میں ملوث ہے لیکن دوسری جانب ہندوستانی تفتیش کاروں کولگتا ہے کہ اس نے شاید ہندوستان مخالف سرگرمیوں کی تربیت حاصل کر رکھی ہے۔حامد کو لاپتہ ہوئے 10 مہینے گزر گئے ہیں۔ غیرقانونی طور پر سرحد پار کرنے کی زیادہ سے زیادہ سزا 6 ماہ کی جیل ہے۔جس کسی کے پاس بھی حامد زیرحراست ہیں، انھیں چاہیے کہ وہ اس جدید دنوں کی ’’ویرزارا‘‘ کا اختتام کریں اور سرحد پار محبت کرنے والے اس اسٹارکواس کے گھر بھیج دیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔