شاہد آفریدی کی اپنی زندگی پر بننے والی فلم سے غیر اخلاقی مناظر نکالنے کی درخواست

آئی این پی  جمعرات 15 اگست 2013
فلم بنانے كی اجازت اس لئے دی تھی تاكہ بچے اور نوجوان نسل اس سے مثبت پيغام حاصل كريں اور كركٹ كی جانب مائل ہوں ،شاہد آفریدی۔ فوٹو فیس بک

فلم بنانے كی اجازت اس لئے دی تھی تاكہ بچے اور نوجوان نسل اس سے مثبت پيغام حاصل كريں اور كركٹ كی جانب مائل ہوں ،شاہد آفریدی۔ فوٹو فیس بک

کراچی: پاکسانی آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے اپنی زندگی پر بننے والی فلم سے غیر اخلاقی مناظر نکالنے کی درخواست کی ہے

پاكستان كركٹ ٹيم كے اسٹار اور آل راؤنڈر شاہد  آفريدی نے اپنی زندگی پر بننے والی فلم “ميں ہوں شاہد آفريدی” سے غير اخلاقی مناظر نكالنے كی درخواست کی ہے، ایک انٹرويو ميں شاہد آفريدی نے كہا كہ ميں نے اپنی جدوجہد اور كيريئر ميں آنے والے عروج و زوال پر مشتمل كہانی پر فلم بنانے كی اجازت اس لئے دی تھی تاكہ بچے اور نوجوان نسل اس سے مثبت پيغام حاصل كريں اور كركٹ كی جانب مائل ہوں لہذا اس فلم ميں كوئی غير اخلاقی منظر نہیں ہونا چاہیئے۔

شاہد آفریدی نے كہا كہ ہزاروں افراد صرف ميری وجہ سے فلم ديكھنے جائيں گے اور جب وہ فلم میں عکس بند غير اخلاقی مناظر ديكھیں گے تو انہیں دكھ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ فلم میں ایک منظر ایسا بھی دکھایا ہے جہاں نوجوان نائٹ کلب میں قابل اعتراض حالت میں ہیں، آفریدی نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ فلم  سے غیراخلاقی مناظر نكال دیئے جائیں۔

فلم ” میں ہوں شاہد آفریدی” ميں ايک نوجوان كی كہانی دكھائی گئی ہے جو شاہد آفريدی كو اپنا ہيرو مانتا ہے اور ان ہی كے نقش قدم پر چلنا چاہتا ہے، فلم كے پروڈيوسر ہمايوں سعيد ہيں جنہوں نے پہلے شاہد آفريدی كو فلم ميں كام كرنے كی پيشكش كی تھی تاہم آفریدی نے مصروفیات کے باعث ان سے معذرت کرلی تھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔