اسلام آباد میں جناح ایوینیو پرموجود مسلح شخص پیپلز پارٹی کے رہنما زمرد خان کی مدد سے گرفتار

ویب ڈیسک  جمعرات 15 اگست 2013
پیپلز پارٹی کے رہنما زمرد خان سکندر خان کے بچے کو پیار کرنے کے لئے آگے بڑھے اور پھر مسلح شخص کو دبوچ لیا۔ فوٹو: ایکسپریس

پیپلز پارٹی کے رہنما زمرد خان سکندر خان کے بچے کو پیار کرنے کے لئے آگے بڑھے اور پھر مسلح شخص کو دبوچ لیا۔ فوٹو: ایکسپریس

اسلام آباد:  وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ریڈزون کے قریب ساڑھے5گھنٹے کے بعد مسلح شخص کو پیپلزپارٹی کے رہنما زمرد خان کی بہادری کے باعث زخمی حالت میں گرفتارکرلیا گیا جبکہ اس کے بیوی بچوں کو بھی تحویل میں لیاگیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما زمرد خان سکندر حیات کے بچے کو پیار کرنے کے لئے آگے بڑھے اور پھر مسلح شخص کو دبوچ لیا، زمرد خان جب سکندر پر جھپٹے تو مسلح شخص نے فائرنگ شروع کر دی لیکن خوش قسمتی سے زمرد خان کو گولی نہیں لگ سکی۔ اس موقع پر اسنائپرز نے سکندر پر فائرنگ کر دی اور ایک گولی اس کے سینے اور دوسری ٹانگ میں لگی جس کے بعد پولیس نے اسے زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔ پولیس اہلکاروں نے سکندر اور اس کی بیوی کو علاج کے لئے پمز اسپتال منتقل کر دیا  جب کہ ان کے بچوں کو پولیس لائن ہیڈ کوارٹر بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس نے سکندر کی گاڑی کی تلاشی لے کر اسے کلیئر قرار دے دیا۔

بے مثال بہادری کا مظاہرہ کرنے پر زمرد خان کو موقع پر موجود عوام نے خوشی میں کندھوں پر اٹھا لیا اور انہیں خوب شاباشی دی، صدر آصف علی زرداری نے بھی زمرد خان کی بہادری اور شجاعت کے لئے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ زمرد خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سے گھر پر بیٹھے یہ سارا ڈرامہ نہیں دیکھا گیا اور میری غیرت نے یہ سب گوارا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں اس معاملے میں سرخرو ہوا۔

جدید اسلحہ سے لیس سکندر حیات نے  اپنی بیوی اور 2 بچوں کے ہمراہ جناح ایوینیو کی سڑک اور ریڈ زون کو 5  گھنٹوں سے  بلاک کر رکھا تھا اور اس کا مطالبہ تھا کہ ملک میں اسلامی شریعت کا نفاذ کیا جائے اور دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔ پولیس اور مسلح افراد کے درمیان پیغامات کی ترسیل کے بعد ایس ایس پی آپریشنز ڈاکٹر رضوان نے مسلح شخص سے مذاکرات کئے تاہم اس نے اسلحہ رکھنے سے انکار کردیا تھا۔

مذاکرات میں ناکامی کے بعد پولیس نے سکندر کی گاڑی کو گھیرے میں لے لیا اور گاڑی کے گرد ٹینٹ لگا دیئےتھے، سکندر کی بیوی نے پولیس کو ایک تحریر دی تھی جس میں چند مطالبات درج تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ سکندر کے مطالبات دیکھ کر اس کی دماغی کیفیت صحیح معلوم نہیں ہوتی۔ ایس ایس پی آپریشنز ڈاکٹر رضوان نے اعلیٰ حکام کو صورت حال سے آگاہ کرنے کے بعد ایک بار پھر  سکندر سے مذاکرات کئے،   دوسری بار بھی ناکامی پر رینجرز کے خصوصی دستوں نے اپنی پوزیشنز سنبھال لی تھیں۔

ایکپسریس نیوز کو ملنے والی تفصیلات کے مطابق مسلح شخص کا پورا نام سکندر حیات اور یہ حافظ آباد کا رہائشی ہے، سکندر کی بیوی کا نام کنول ظاہر کیا گیا ہے اور اس نے  معاشیات میں ایم فل کررکھا ہے۔ سکندر حیات کے محلے داروں کے مطابق وہ منشیات کا عادی ہے اور 25 برس دبئی میں رہنے کے بعد کچھ عرصہ قبل وطن واپس آیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔