بچوں کو قابو کریں…

شیریں حیدر  اتوار 7 اپريل 2019
Shireenhaider65@hotmail.com

[email protected]

ایک پوش رہائشی علاقے میں جہاں سڑکیں نہ اتنی کشادہ ہیں اور نہ ہی ان پر لین مارک کی گئی ہیں۔ ہر چند گز کے فاصلے پر کوئی نہ کوئی اسٹریٹ یا لین آ جاتی ہے، اس لیے گاڑی کافی آہستہ رفتار سے چلانی پڑتی ہے۔

میں نے اپنے گیٹ کے سامنے گاڑی پارک کی، باہرنکلی ہی تھی کہ زن کی آواز آئی… مجھے لگا کہ کوئی گولی میرے کان کو چھو کر گئی ہے۔ جسم سن ہو گیا، نگاہ سامنے پڑی جہاں پر میرے پاس سے گولی کی رفتار سے گزرنے والی گاڑی کافی دور جا چکی تھی، یقیناً اس کی رفتار اتنی زیادہ تھی کہ اس کے میرے پاس سے گزرنے سے ویسی زن کی آواز آئی تھی۔ میں نے حتی الوسع اسے دل ہی دل میں اور بڑبڑا کر بھی برا بھلا کہا، ایسے منچلوں کو نظر انداز کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ میں کھڑی دیکھتی رہی اور وہ اسٹریٹ کے آخری گھر کے سامنے جا کر گاڑی ’’ لینڈ ‘‘ کر کے گھر کے اندر چلا گیا۔

دل چاہا کہ جاؤں اور اس کے ماں باپ سے اس کی شکایت کروں کہ آپ کا بچہ حد رفتار سے کہیں زیادہ تیز گاڑی چلا رہا تھا، لیکن یہ سوچ کرگھر کی طرف قدم بڑھائے کہ ایسے بچے ناقابل مرمت ہیں۔ گھنٹی پر ہاتھ رکھا تو میرے ضمیر نے مجھے گھر کی گھنٹی نہ بجانے دی، گھسیٹ کر واپس مجھے اپنی گاڑی میں لا کر پٹخا اور کہا، ’’ یہ بچہ کسی اور کا ہے ، تمہارا بھی ہو سکتا تھا، گاڑی تیز رفتاری سے چلا بلکہ اڑا رہا ہے، ممکن ہے کہ اس کے ماں باپ کو علم ہی نہ ہو… ہو سکتا ہے کہ اس کے پاس لائسنس بھی نہ ہو۔ تمہارے نظر انداز کر دینے سے یہ اپنا اور کسی اور کا نقصان کر بیٹھا تو بعد میں تمہیں پچھتاوا ہو گا، بہترہے کہ ابھی جاؤ اور اس کے ماں باپ سے بات کرو! ‘‘

دل میں الفاظ ترتیب دیتی ہوئی میں اس گھر میں جا پہنچی جہاں پر تھوڑی دیر پہلے وہ بچہ غائب ہوا تھا۔ بیرونی گھنٹی بجا کر انتظار کا ایک طویل وقفہ آیا اور ایک ملازم نے آکر سوال کیا کہ میں کون ہوں اور میری آمد کی غایت کیا ہے۔ میںنے اس سے کہا کہ میں اس گھر کے مالک سے ملنا چاہتی ہوں ۔ اس نے بتایا کہ صاحب تو کام پر ہیں، گھر پر صرف بیگم صاحبہ ہیں۔

’’ چلو انھی کو بتا دو بیٹا… ‘‘ میں نے اپنا تعارف بتایا اور ملنے کا سبب میں نے ان سے کوئی ذاتی کام کہا تھا۔ ماؤں سے اولاد کی شکایت کرنے کا میں عموما کوئی فائدہ نہیں سمجھتی کیونکہ ماؤں کو اولاد کی ساری غلط سلط حرکتوں کا علم ہوتا ہے۔ نہ صرف وہ ان کی پردہ پوشی اور چشم پوشی کرتی ہیں بلکہ ان حقائق کو وہ باپوں تک بھی نہیں پہنچنے دیتیں۔ باپ دن بھر اپنے کام کار کے سلسلے میں باہر رہتے ہیں اور گھروں اور اولاد کی مکمل ذمے داری ماؤں پر چھوڑ دیتے ہیں ۔

’’ باجی تو باتھ روم میں ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ آپ کو ڈرائنگ روم میں بٹھاؤں ! ‘‘ ملازم نے واپس آ کر کہا۔

’’ بہت شکریہ، میں یہیں ٹھیک ہوں ، لان دیکھ رہی ہوں ! ‘‘ میں نے اسے کہا۔ وہ بھی وہیں کھڑا ہو گیا۔ ’’ یہ لال گاڑی کس کی ہے؟ ‘‘ میںنے سوال کیا۔’’ بیگم صاحبہ کی ہے جی! ‘‘ اس نے کہا۔

’’ اچھا… اس پر تو ابھی چند سیکنڈ پہلے بیگم صاحبہ گھر آئی ہیں؟ ‘‘ میں نے کہا۔’’ نہیں جی… وہ تو گھر پر ہی تھیں، ابھی چھوٹے صاحب باہر سے آئے ہیںاس گاڑی پر! ‘‘ جو کچھ میں پوچھنا چاہتی تھی وہ اس نے خود ہی بتا دیا۔

’’ اچھا… کون سی کلاس میں پڑھتے ہیںچھوٹے صاحب؟ ‘‘

’’ جی ابھی وہ نویں جماعت کا امتحان دیں گے!! ‘‘ اس نے مختصر جواب دیا۔ اس کے بعد وہ لان میں کھڑے مالی کو ہدایات دینے لگا۔ میں وہیں کھڑی تھی، دس منٹ اور گزر گئے تھے۔’’ بیٹا بیگم صاحبہ کو بلائیں !! ‘‘ میںنے مجبوراً اسے کہا، کئی بار سوچا کہ واپس چلی جاتی ہوں مگر پھر رک جاتی۔

وہ اندر گیا اور تھوڑی دیر کے بعد نک سک سے تیار بیگم صاحبہ تشریف لائیں اور اصرار کیا کہ میں اندر چلوں ، یوں باہر کھڑے ہونا انھیں مناسب نہ لگا تھا۔ ’’ میںآپ کا خوبصورت لان دیکھ رہی تھی… یوں بھی مجھے آپ سے مختصر سی بات کرنا تھی!‘‘ وہ ہمہ تن گوش ہوئیں ۔ آپ کا نویں جماعت میں پڑھنے والا بیٹا، چند منٹ قبل اس گاڑی پر میرے پاس سے گزرا ہے اور اس کی رفتار اسی نوے کلومیٹر سے ہر گز کم نہ تھی۔ اس اسٹریٹ پر جہاں سے کئی اور گلیاں نکلتی ہیں اور مین اسٹریٹ پر سائیکل سوار بھی ہیں اور پیدل بھی، کسی گھر سے کوئی بچہ بھی نکل کر اچانک سامنے آ سکتاہے… کسی اور کی نہ سہی اس کی اپنی زندگی خطرے میں ہے، کم از کم یہ سوچ کر اسے گاڑی آہستہ چلانا چاہیے اور میں نہیں جانتی کہ اس کی عمر کیا ہے مگر اگر یہ نویں میں پڑھتاہے تو میرا خیال ہے کہ اس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں ہو گا! ‘‘

’’ میرا بیٹا تو صبح سے گھر پر ہے… ‘‘ وہ نرمی سے گویا ہوئیں ، ’’ ڈرائیور چلا رہا ہو گا گاڑی! ‘‘

’’ آپ کا بیٹا چلا رہا تھا یہ گاڑی اور میں نے اس بات کو کنفرم کیا ہے… میں نے اسے گاڑی سے نکل کر گھر کے اندر جاتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ آپ کا بیٹا ایک دبلا پتلا سا نوجوان ہے اور اس نے نیلی جینز کے ساتھ پیلے رنگ کی شرٹ پہن رکھی ہے، آپ اپنے ڈرائیور کو بلائیں تو میں ابھی دیکھ لیتی ہوں ! ‘‘

’’ ڈرائیور صاحب کے ساتھ گیا ہوا ہے! ‘‘ ان کے ملازم نے بے اختیاری میں کہا۔’’ آپ کا بیٹا ہے، میںنے اپنے بیٹے کی طرح سمجھا اور سوچا کہ اس کے والدین کو بتاؤں کہ وہ کیا غلطی کر رہا ہے… اگر آپ کا ڈرائیور اس وقت یہ گاڑی چلا رہا ہوتا تو میں یہیں کھڑے کھڑے پولیس کو کال کرتی اور وہ اس سے پوچھتے! ‘‘

’’ میرا بیٹا تو بہت احتیاط سے گاڑی چلاتا ہے۔ یہ گاڑی میری ہے، اسی کو کبھی کبھار چلا لیتا ہے کیونکہ اس کے پاس تو گاڑی ہے بھی نہیں اور نہ ہی ابھی وہ گاڑی چلانے کی عمر میں ہے۔ ممکن ہے کہ قریبی کسی دکان تک کچھ لینے گیا ہو!!‘‘

بالکل اسی طرح جیسا کہ میں نے سوچا تھا، وہ خاتون اپنے اور اپنے بیٹے کے پروں پر پانی نہیں پڑنے دے رہی تھیں۔ ’’ چلیں میرا کام اتنا ہی تھا کہ میں آپ کو اس ممکنہ خطرے سے آگاہ کرتی، اس کے بعد اپنے بھلے برے کی آپ خود ذمے دار ہیں۔ آپ کو خود ہی اپنے بیٹے کی سلامتی عزیز ہے نہ دوسروں کی۔ اس کے بعد اگر میں نے اسے اس رفتار سے گاڑی چلاتے دیکھا تو میں آپ کے شوہر سے بات کروں گی کیونکہ مجھے علم ہے کہ آپ انھیں نہیں بتائیں گی! ‘‘

’’ نہیں نہیں… آپ فکر نہ کریں، میں اسے بھی سمجھاتی ہوں اور اس کے پاپا کو بھی بتاؤں گی کہ اسے سمجھائیں!‘‘

’’ بہتر تو یہی ہے کہ آپ اسے اپنے گھر کی کوئی بھی گاڑی نہ چلانے دیں جب تک کہ وہ اس عمر کو نہیں پہنچ جاتا! ‘‘

’’ ابھی میں باتھ روم میں تھی تو نکل گیا ورنہ میں تو بہت سختی کرتی ہوں ! ‘‘ اب اس نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ میں سمجھ سکتی تھی کہ کتنی سختی کر سکتی ہوں گی وہ خاتون ۔

بغیر لائسنس کے اور تیز رفتاری سے سڑک پر گاڑی لے کر نکلنا تو ایک ایسی غیر قانونی حرکت ہے کہ جس کا خمیازہ کئی لوگ بھگتتے ہیں۔ آج کل ہم ماؤں نے بچوں سے اتنا ڈرنا شروع کر دیا ہے کہ ان کے بھلے کی بات کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کون سی بات ان کا موڈ آف کردے گی، کس بات پروہ ہم سے بات کرنا چھوڑ دیں گے، کس بات پر وہ کھانا پینا چھوڑ دیں گے اور کس بات پر وہ ہمیں خود کشی کی دھمکی دے دیں گے۔ اس عفریت کو بڑھنے سے پہلے اس کا قلع قمع کرنے کی ضرورت ہے۔ قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بتائی گئی ہے کہ عورتیں اپنے آقا پیدا کریں گی… وہ وقت آ چکا ہے، بس اتنی کوشش کریں کہ انھیں اتنی لگام دی جا سکے کہ قیامت سے پہلے قیامت واقع نہ ہو جائے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔