ٹرسٹ کی املاک خالی نہ کرنے پر چیف سیکریٹری طلب

اسٹاف رپورٹر  جمعـء 16 اگست 2013
چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے اسلامک ایجوکیشن ٹرسٹ کی درخواست کی سماعت کی۔ فوٹو: فائل

چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے اسلامک ایجوکیشن ٹرسٹ کی درخواست کی سماعت کی۔ فوٹو: فائل

کراچی:  سندھ ہائیکورٹ نے اسلامیہ کالج اور اسکول کی عمارتیں خالی کرنے کے حکم پر عمل درآمد نہ کرنے پرچیف سیکریٹری اور سیکریٹری تعلیم کو 20 اگست کو ذاتی طور پر طلب کرلیا۔

چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے اسلامک ایجوکیشن ٹرسٹ کی درخواست کی سماعت کی، مرید علی شاہ ایڈووکیٹ نے توہین عدالت کی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ عدالت عالیہ نے 31مئی کو مذکورہ عمارتیں 6ہفتے میں خالی کرانے کا حکم دیا تھا مگر مدعا علیہان عمل درآمد نہ کرنے کے باعث توہین عدالت کے مرتکب ہورہے ہیں، حکومت کی جانب سے عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد کے سلسلے میں مسلسل خلاف ورزی کی جارہی ہے، 5نومبر 2012 کو سرکاری وکیل نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اسلامیہ کالج اور اسکول کی عمارتیں خالی کرکے طلبا کیلیے جلد متبادل انتظام کرلیا جائے گا مگر تا حال عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا گیا۔

عدالت نے درخواست کی سماعت کے بعد چیف سیکریٹری اور سیکریٹری تعلیم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش ہو کر وضاحت کرنے کی ہدایت کی ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلامیہ کالج اور اسکول کی عمارتیں 1952میں نیو ایم اے جناح روڈ پر قائم کی گئی تھیں، 1972میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں اسے قومی تحویل میں لے لیا گیا تھا ،کراچی کی مقامی عدالت نے اسلامک ایجوکیشن ٹرسٹ کی درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے ٹرسٹ کی ملکیت کو تسلیم کرلیااور حکومت کو کرایہ ادا کرنے کی ہدایت کی تھی، حکومت نے کرایہ ادا کرنے کے بجائے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی اور تاخیری حربے استعمال کیے، قبل ازیں عدالت نے آبزرویشن دی تھی کہ عدالت طلبا کا مستقبل داؤ پر لگنے نہیں دے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔