خبر دینے والا خبر کیسے بنا؟

جاوید احمد ادریسی  پير 15 اپريل 2019
اچانک ’’میڈیا بحران‘‘ کا طوفان اٹھا اور ہزاروں ملازمین کو بے یار و مددگار کر گیا۔(فوٹو: انٹرنیٹ)

اچانک ’’میڈیا بحران‘‘ کا طوفان اٹھا اور ہزاروں ملازمین کو بے یار و مددگار کر گیا۔(فوٹو: انٹرنیٹ)

ہوٹل پر ابھی چائے کی چُسکی لینا شروع ہی کی تھی کہ اچانک ایک جانی پہچانی آواز نے مجھے اپنی جانب متوجہ ہونے پر مجبور کردیا۔ ’’ہاں بھئی! چائے پی جارہی ہے، وہ بھی اکیلے اکیلے۔‘‘ مُڑ کر دیکھا تو یونیورسٹی کے زمانے کا میرا دوست، باوردی کھڑا ہوا تھا۔ انتہائی گرم جوشی سے ملاقات ہوئی۔ بعد ازاں دونوں ہی ایک دوسرے کے ہمراہ، ہاتھوں میں چائے کی پیالی تھامے اپنے ماضی کی سیر کو چل پڑے۔ ہم دونوں نے ساتھ ہی گریجویشن کی تعلیم حاصل کی۔ سال آخر کے امتحانات کے چند ماہ بعد قومی اخبارات میں سندھ پولیس میں بھرتیوں کا اشتہار شائع ہوا جسے پڑھ کر اُس نے اپنی درخواست جمع کرادی۔ خوش قسمتی سے اُس کی سلیکشن میرٹ پر ہوگئی اور وہ ٹریننگ پر چلا گیا۔ میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد شعبۂ صحافت سے وابستہ ہوگیا اور اب پندرہ سال کے طویل عرصے بعد ہماری ملاقات ہوئی۔

یادِ ماضی کی حسین وادیوں میں ہم جانے کہاں کہاں آوارہ گردی کرتے پھر رہے تھے کہ اچانک اُس نے موضوع تبدیل کیا اور ملک میں جاری میڈیا بحران کا ذکر چھیڑ کر مجھے خوابوں کی حسین دنیا سے گھسیٹ کر واپس حقیقی دنیا میں دھکیل دیا۔ دیرینہ رفیق نے میرے دل کے وہ تمام تر زخم ایک بار پھر سے ہرے کر ڈالے جو ابھی بھرنا شروع ہی ہوئے تھے۔ جب اُس نے صحافتی ادارے سے وابستہ متوسط ملازمین کی حالت زار کا بطور محقق ٹھیک ٹھیک نقشہ کھینچا تو میں دنگ سا رہ گیا۔ وہ ایک ایک بات بہ انداز آپ بیتی بیان کیے جارہا تھا، جسے سن کر مارے حیرت کے میری آنکھیں پھٹی جارہی تھیں اور میرے وجود کو تو جیسے لقوہ ہی مار گیا ہو۔

دورانِ گفتگو ایک کانسٹیبل نے اُسے آکر کہا کہ سر وائرلیس پر آپ کےلیے میسیج ہے۔ وہ اٹھا اور یہ کہہ کر اپنی موبائل کی جانب چلا کہ میں بس ابھی آیا۔ میں، جو کہ پہلے ہی مخمصے کا شکار تھا، مزید گہری سوچ میں پڑگیا کہ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ پولیس کے محکمے سے وابستہ ایک معمولی سب انسپکٹر کو میڈیا بحران کے پسِ پردہ حقائق پر مبنی اتنی وسیع معلومات حاصل ہوں؟ جب وہ واپس آیا تو مجھے حیرت کے سمندر میں غوطہ زن دیکھ کر سمجھ گیا کہ ماجرا کیا ہے۔

میری حالت زار پر جیسے ترس کھاتے ہوئے وہ مجھے دیکھ کر مسکرایا اور مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہنے لگا ’’یہی سوچ رہے ہو ناں کہ میں یہ سب کیسے جانتا ہوں؟‘‘ میں، جو کہ غائب دماغی کی سی کیفیت میں دوچار تھا، بس سر ہلا کر ہی رہ گیا۔ اس نے قہقہہ لگایا اور اس راز کی حقیقت مجھ پر کچھ یوں آشکار کی:

’’میں اپنی ٹیم کے ہمراہ گشت کر رہا تھا کہ اچانک ڈرائیونگ سیٹ پر موجود کانسٹیبل نے مجھے دکھایا کہ کچھ فاصلے پر ایک مسلح شخص کسی راہ گیر کو اسلحے کے زور پر لوٹ رہا ہے۔ ہم نے اسے باآسانی رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔ اس کے قبضے سے ایک عدد زنگ آلود پستول برآمد ہوا جو شاید کسی قابل بھی نہ تھا۔ تلاشی کے دوران اس کے شناختی کارڈ کے ساتھ ایک نیوز چینل کا ایمپلائی کارڈ بھی ملا جس سے معلوم ہوا کہ یہ شخص ایک صحافتی ادارے سے بطورکیمرہ مین وابستہ ہے۔ میں نے اس کا آفس کارڈ لیتے ہوئے اسے دیکھا تو وہ مجھے نظریں چراتا ہوا دکھائی دیا۔

’’میں نے یہ اندازہ لگایا کہ یہ پیشہ ور مجرم نہیں۔ مجھے اس واقعے کی ایف آئی آر کاٹنا مناسب نہیں لگا تو میں نے را ہ گیر کو اس کا لوٹا ہوا سامان واپس کرکے چلتا کیا، اور ہم اس لڑکے کو موبائل میں بٹھا کر تھانے کی جانب روانہ ہوگئے۔ میرے ساتھی اہلکاروں نے (جو میرے مزاج سے سے بخوبی واقف ہیں) میری کیفیت بھانپتے ہوئے اس وقت مجھ سے اس بارے میں کوئی بھی بات کرنا مناسب نہ سمجھا۔

’’تھانے پہنچ کر میں نے اسے بنچ پر بیٹھنے کو کہا اور خود اپنے کمرے میں جا بیٹھا۔ میرے ساتھی اہلکار بھی اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے۔ میں اپنے کمرے کی کھڑکی سے اس لڑکے کو مسلسل سے دیکھ رہا تھا۔ کبھی وہ بیٹھے ہوئے ہاتھ باندھے آتے جاتے لوگوں کو تکتا، کبھی گھبراتے ہوئے جیل کی طرف دیکھتا اور اپنا سر پکڑ لیتا۔ اس کی عجیب و غریب حرکات و سکنات دیکھ کر مجھے یہ یقین ہو چلا کہ یہ پیشہ ور مجرم نہیں۔

’’اپنی رائے کی صحت جاننے کےلیے میں نے اپنے ماتحت کام کرنے والے ہیڈ کانسٹیبل کو بلایا، جو تجربے میں مجھ سے کئی سال بڑا تھا۔ اس سے پہلے میں کچھ پوچھتا، وہ خود ہی بول پڑا، ’سر یہ لڑکا نو سیکھیا ہے اور میرے حساب سے یہ اس کی پہلی کارروائی ہے۔‘ میں نے روایتی پولیس افسر والے انداز میں اسے کہا کہ میڈیا کا جعلی کارڈ رکھ کر لوگوں کو لوٹنے والا پکا مجرم نہیں تو اور کیا ہے؟

’’یہ سن کر وہ کہنے لگا، ’سر یہ لڑکا واقعی اسی چینل میں کیمرہ مین تھا۔ ابھی بے روزگار ہے۔ میں نے وہاں کے کرائم رپورٹر سے تصدیق کی، اسی نے بتایا ہے کہ یہ تقریباً پانچ سال بطور کیمرہ مین کراچی بیورو میں کام کرچکا ہے۔‘‘ یہ سن کر مجھ سے رہا نہیں گیا۔ میں نے کہا اسے میرے پاس لے کر آؤ۔ ہیڈ کانسٹیبل نے آواز دے کر اسے بلایا، وہ گھبراتا ہوا اندر داخل ہوا۔ اس سے پہلے کہ میں اسے بیٹھنے کو کہتا، وہ ہاتھ جوڑ کر مجھ سے کہنے لگا، ’سر بس ایک منٹ کےلیے مجھے اپنے گھر والوں سے بات کرنے دیجیے۔ وہ بہت پریشان ہورہے ہوں گے۔ اس کے بعد آپ گولی بھی مار دیں گے تو اف تک نہیں کروں گا سر، پلیز سر…‘ یہ کہتے ہوئے اس کے چہرے پر پریشانی کے جو آثار نمایاں ہورہے تھے، وہ اپنے آپ میں ایک الگ ہی داستان بیان کررہے تھے۔ خیر، میں نے اپنا فون دے کر اسے اپنے گھر بات کرنے کی اجازت دی۔ بات کرنے کے بعد وہ بالکل پرسکون دکھائی دے رہا تھا۔

’’میں نے اس کےلیے چائے منگوائی اور پوچھا کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے؟ تو اس نے مجھے بتایا، ’آج میں جس نہج پر ہوں، اس کے اصل ذمے دار میرے ادارے کے مالکان ہیں۔ شعبۂ صحافت سے وابستہ، کئی سال سے بطور کیمرہ مین اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہوں۔ میں نے شہر قائد کے عروج و زوال کی کئی داستانوں کو عکس بند کیا ہے۔ برسوں پہلے جس تنخواہ پر لگا تھا، اسی پر کام کرتا چلا آرہا تھا۔ پھر اچانک ’’میڈیا بحران‘‘ کا طوفان اٹھا اور مجھ جیسے ہزاروں ملازمین کو بے یار و مددگار کر گیا۔ پہلے تنخواہ میں کٹوتی ہوئی، پھر بغیر بتائے ملازمت سے جبری طور پر برطرف کردیا گیا۔ چھ ماہ کی رکی ہوئی تنخواہیں، گریجویٹی، فنڈز کی رقم مانگتے مانگتے آج کئی مہینے گزر گئے، اب تک ایک پیسہ بھی ہاتھ نہیں آیا۔ موٹر سائیکل اور موبائل بیچ کر کچھ عرصے تک تو گزر بسر کرلیا مگر جب ہاتھ بالکل ہی خالی ہوگیا تو میں جس کرائے کے مکان میں رہتا تھا، اس کے مالک نے نکال دیا۔ کئی ماہ سے میں اور میرے اہل خانہ بنجاروں کی سی زندگی جی رہے ہیں۔

’’بچوں کی فیس ادا نہ کرسکا تو ان کو بھی اسکول سے نکال دیا گیا۔ عارضۂ قلب کی شکار اپنی والدہ کی دوا کے اخراجات مانگ تانگ کر پورے کررہا ہوں۔ ابھی جن رشتے دار کے ہاں گھر والوں کو پناہ دلوائی ہے، وہ بھی تقاضا کررہے ہیں کہ بھائی ہم کب تک تمہارے بیوی بچوں کا بوجھ برداشت کریں؟ یہ سوچ کر کہ کہیں میرے بیوی بچے راستے پر نہ آجائیں، اسی لیے ڈر کے مارے میں نے آج یہ انتہائی غلط قدم اٹھا ہی لیا۔‘‘ تقریباً دو گھنٹے کی نشست میں اس نے خود پر بیتے ایسے ایسے حالات بیان کیے کہ جنہیں سن کر میری اور میرے ساتھی ہیڈ کانسٹیبل کی آنکھوں میں آنسوؤں کا ایک سیلاب امڈ آیا۔

چائے کا آخری گھونٹ لیتے ہوئے اس نے پیالی رکھی اور مجھ سے پوچھا ’’یار ایک بات تو بتا۔ اگر ہمارا میڈیا مالیاتی خسارے کا شکار ہے تو بھائی مجھے ذرا یہ تو سمجھا دے کہ جس سیٹھ سے چند ہزار ماہانہ کمانے والے ملازمین کی تنخواہ برداشت کرنا مشکل ہورہا ہو، وہی سیٹھ اپنے ان اینکرز کی لاکھوں روپے ماہوار تنخواہ کی ادائیگی کیسے کررہا ہے؟ اگر میڈیا واقعی مالی بحران کا شکار ہے تو مجھے یہ بتا کہ پی ایس ایل کی ٹیموں کو خریدنے کےلیے ان میڈیا مالکان کے پاس لاکھوں ڈالرز کہاں سے آئے؟ رمضان کی آمد آمد ہے، ہر سال کی طرح اس سال بھی کئی کئی گھنٹوں پر مشتمل براہ راست ٹرانسمیشن کےلیے کروڑوں روپے خرچ کرنے کےلیے اتنا پیسہ کہاں سے آئے گا؟ اس میں غریبوں، ناداروں کی دادرسی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی مالی معاونت بھی کی جاتی ہے، جہیز سے لے کر جہاز تک مال غنیمت کی طرح بانٹا جاتا ہے۔ اس سب کا کیا؟ اور تمہاری درجن بھر سے زائد صحافتی تنظیمیں کہاں ہیں اور ان تمام تر معاملات کو حل کرنے کےلیے وہ کیا کررہی ہیں…؟‘‘

’’سر! پانچ بج گئے ہیں۔ ایس پی صاحب آپ کا انتظار کررہے ہوں گے۔‘‘ کانسٹیبل کی یاد دہانی پر اس نے گھڑی پر نظر ڈالی، یک دم اٹھا اور کہا ’’ارے باپ رے! دیکھ میں تو باتوں باتوں میں بھول ہی گیا تھا! ایس پی صاحب کے ساتھ شب برأت کا سیکیورٹی پروگرام ڈسکس کرنا ہے۔‘‘ وہ جلدی سے اٹھا اور میرے منع کرنے کے باوجود چائے کے پیسے دیتے ہوئے موبائل میں جا بیٹھا اورجاتے جاتے زور سے چلاتے ہوئے یہ کہتا چلا گیا:

’’یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی! پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست!‘‘

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔