توں بولدا کیوں نہیں…

شیریں حیدر  اتوار 14 اپريل 2019
Shireenhaider65@hotmail.com

[email protected]

بین کی بلند آوازوں کی تال کے ساتھ سسکیاں اور آنسو تھے… سسکیوں اور آنسوؤں کے ساتھ وہ رو رہی تھیں جن کا مرنے والے سے کوئی خونی رشتہ نہ تھا، اگر تھا تو کہیں دور کا، وہ یہاں تک آئی تھیں تو اس جوان مرگی پر رونا آ رہا تھا یا پھر بین سن سن کر سب کو یونہی رونا آ جاتا ہے۔ بین وہ کر رہی تھیں جن کے گھر کا ستون ٹوٹ گیا تھا، ان کا سہارا جو اللہ کے بعد تھا وہ ختم ہو گیا تھا، پردیس سے اس کی میت آئی تھی۔

بیس برس پہلے وہ ملک سے اپنے گھر کے حالات بدلنے کے لیے نکلا تھا، ملک بدر ہوا اور گھرکے حالات تو بدل گئے مگر نہ بدلا تو اس کا نصیب، وہ مشقت کی چکی میں پستا ہوا بالآخر ختم ہو گیا۔ اس کے جانے سے سب کچھ ختم ہو گیا تھا۔

’’ توں بولدا کیوں نہیں میریا سوہنیا لالیا؟؟ ‘‘ ایک نوجوان لڑکی کی چیختی ہوئی آواز سے سب کے دل مٹھیوں میں آ گئے۔ وہ اس تابوت سے لپٹ لپٹ کر بلک رہی تھی جس کے اندر اس کا بھائی بند ہو کر آیا تھا اور اس کے آخری دیدار کے لیے فقط ایک چھوٹا سا شیشہ چہرے والی جگہ پر لگا تھا۔ چیخ چیخ کر بھی اسے کوئی جواب نہ ملا تو اس نے اپنا سر تابوت کے اوپر رکھ دیا اور شیشے پر ہاتھ پھیرنے لگی جس کے نیچے لالے کا چہرہ تھا۔ لالہ تو کیا بولتا، اس کی ابدی خاموشی بول رہی تھی، ’’میں کیا بولوں میری پیاری بہن، میں اس بات پر خوش ہوں کہ آج میرے تابوت پر رکھے تیرے ہاتھوں کی کلائیوں میں پانسے کے سونے کی وہ بارہ چوڑیاں رونے والوں کی نظروں کو بھی خیرہ کر رہی ہیں، وہ چوڑیاں جن کا بننا میرے وطن آ کر تیری ڈولی کو کندھا دینے سے اہم ٹھہرا تھا۔ جب میں یہاں سے گیا تو تو مجھ سے چھوٹی چھوٹی فرمائشیں کرتی تھی، میں اپنی گڑیا کی ہر فرمائش پوری کرنے کے لیے تیار رہتا تھا۔ تیری ٹافیوں تک کی فرمائشیں تو میں اپنی چھوٹی سی جیب سے بھی پوری کر لیتا تھا جس میں اب ہر روز گھر سے اسکول کے لیے نکلتے سمے ایک روپیہ ڈال دیتے تھے مگر جب تو ذرا بڑی ہوئی تو تیری خواہشات میری جیب سے بڑی ہو گئیں۔ میرے گھر میں داخل ہوتے ہی میرے کندھوں پر سوار ہو کر، ’’ میری ٹافیاں لالہ!‘‘ کہنے والی گڑیا دیکھتے ہی دیکھتے اتنی بڑی ہو گئی کہ میں اس سے نظر چرانے لگا۔ وہ اسکول سے جب تک گھر نہ لوٹ آتی میں بے چین رہتا ۔ اب تیری فرمائشیں اتنی بڑی ہو گئیں کہ انھیں پورا کرنے کے لیے میں چھوٹے موٹے کام اسکول کے بعد کرنے لگا۔ کبھی کسی کی گاڑی دھو دی تو کبھی کسی کا سودا سلف اٹھا کر اس کے گھر تک پہنچا دیتا اور کبھی اماں سے بہانے سے کچھ رقم بٹور کر تجھے دے دیتا کہ تجھے اپنی کسی سہیلی سے یہ طعنہ نہ سننا پڑے کہ تو غریب گھر کی بیٹی ہے۔ میں بھی عمر میں تجھ سے کچھ زیادہ بڑا نہ تھا مگر گھر کے حالات نے مجھے بہت حساس بنا دیا تھا اور ابا کی اچانک بیماری اور ملازمت چھوٹ جانے سے جو پہاڑ ٹوٹا تھا اسے میں نے ہی کندھوں پر اٹھانا تھا۔ مانگ تانگ کر ایجنٹ کی ایڈوانس رقم پوری کر کے اماں نے مجھے بیس سال کی عمر میں دیس نکالا دے دیا کہ مجھ سے چھوٹے سارے بہن بھائیوں کی ذمے داری میری بن گئی تھی۔ میں ایک دن میں ایک عشرہ بڑا ہو گیا تھا، پردیس تھا ہی ایسا ۔ ’’ میریا شیر جوانا!! چپ کیوں ہو گیا ایں … ماں نال کوئی تے دکھ سکھ دی گل کر!!‘‘ ماں نے تابوت سے لپٹ کر بلک کر کہا، ’’ کوئی اک گل تے کہہ دے جاندی واری!!‘‘

’’ کوئی اک گل… ‘‘ تابوت کے اندر سے سسکی ابھری تھی۔ ’’ میں تو بہت سی باتیں کرنا چاہتا تھا اماں تیرے ساتھ، میں تو تڑپتا تھا تیری آواز سننے کو، تجھے چھونے کو، تجھ سے لپٹ کر سونے کو، تیری گود میں سر رکھ کر اپنی دن بھر کی تھکاوٹ اتارنے کو۔ ہر کال پر میں کہنے کی کوشش کرتا تھا اماں کہ میں واپس آ جانا چاہتا ہوں، بہت کما لیا، سارے بہن بھائیوں کو پڑھا بھی لیا اور بیاہ بھی لیااور یہی سوچتا تھا کہ میری سگھڑ ماں نے بہت کچھ بچا کرر کھا ہو گا۔ سننے کو ترس گیا تھا اماں کہ کبھی تو کہے اب لوٹ آ پتر، تیرا بھی بیاہ کروں ، تیرے بال بچے کو بھی اپنے آنگن میں ہنستے کھیلتے دیکھوں ۔ اب کیا بولوں اماں … جب بولنے کے لیے کال کرتا تھا اور سلام کے جواب کے بعد مجھے باری ہی نہیں ملتی تھی کہ ایک لفظ بھی بولوں ۔ اماں اور ابا کے مسائل ، بھائیوں کی ضرورتیں، بہنوں کی فرمائشیں، ان کے جہیز اور ان کی سسرالوں سے لین دین، نان اسٹاپ سب شروع ہو جاتا تھا، مجھے تو کبھی ایک لفظ کہنے کا موقع ہی نہیں ملتا تھا اماں ۔ کبھی مجھے سننے کو نہ ملا کہ ماں اداس ہے بیٹا ، ایک بار آکر اس کی ترستی نظروں کو اپنا دیدار کروا جا!!

پہلے اماں اور ابا کافی تھے… پھر بھائیوں اور بہنوں کی فرمائشوں کی فہرستیں طویل ہوئیں اور مجھے علم ہی نہیں ہوا کہ کب ان کے بچے مجھے ماموں ، چاچا اور تایا کہہ کر فرمائشیں کرنے لگے۔ میں ان میں سے کسی کی شکل سے آشنا تھا نہ ناموں اور عمروں سے مگر ہاں یہ جانتا تھا کہ منی اب کئی منیوں اورمنوں کی ماں بن گئی ہے اور اس کے بچوں کو ساری امیدیں بڑے ماما سے ہیں ۔ چھوٹے بھائیوں کے بچے بھی تایا جان کو ہی اپنی ساری ضرورتیں بتاتے تھے کہ انھیں اپنے ابا اور اماں سے کوئی امید نہ تھی۔ وقت کتنا بدل گیا تھا، کاش میں ملک ہی نہ چھوڑ کر آیا ہوتا۔ مشکل حالات تو دیکھتا مگر وہیں کچھ کر لیتا تو پردیس میں تنہائی کا بن باس نہ کاٹ رہا ہوتا۔ کوئی میری تھکاوٹ کو بھی اپنی انگلیوں کی پوروں سے چننے والی، شام کو میرے گھر کے آنگن میںکوئی میری راہ تکنے والی ، میرے دکھ سکھ کی ساتھی ہوتی ۔ مگر کسی کا اس طرف دھیان ہی نہ جاتا تھا۔ کسی کو احساس نہ ہوتا تھا کہ ان کی ساری ضرورتوں کو پوری کرنیوالے کی بھی کوئی ضرورتیں ہوں گی۔‘‘

فضا میں دیگوں میں چاول اور بکرے کے گوشت کے پکنے کی سوندھی خوشبو پھیل رہی تھی۔ جنازے کا وقت قریب ہو تو لوگ تعداد میں یک دم کافی ہوجاتے ہیں، رش کافی زیادہ ہو گیا تھا، صحن کم پڑنے لگا تھا۔ آخر کو اتنا بڑا خاندان تھا، بیٹیوں اور بیٹوں کی سسرالیں تھیں، اپنے قریبی رشتہ داروں کے علاوہ دور پار کے بھی رشتہ دار تھے، دوست احباب اور محلے دار بھی تھے۔ جہاں پیسے کی ریل پیل ہوتی ہے وہاں کئی نئے رشتے بھی بن جاتے ہیں، یہ دنیا کی ریت ہے۔ غریب رشتہ دار سے لوگ منہ پھیر کر بھی گزر جاتے ہیں ، اپنے سگے باپ اور بھائی کو ملنے سے کتراتے ہیں کہ اسے کوئی غرض یاد نہ آ جائے۔

تابوت کے اندر سے آواز آئی کہ کیسے آپ میرے مرنے پر لوگوں کی تواضع بکرے کے گوشت سے کر رہے ہیں۔ اس سے آپ کی واہ واہ ہو گی۔ بیس سال تک کسی کو ایک بار بھی توفیق نہ ہوئی کہ وہ مجھے کہتا کہ ایک بار آ کر مل ہی جاؤ!! اب بھی آپ لوگ مجھے اسی مٹی میں دفن ہونے دیتے، کیوں میرا مردہ ملک میں منگوایا؟ شایداس لیے کہ آپ لوگوں کو اپنی شان و شوکت دکھا سکیں … انھیں رو رو کر اور بین کر کے بتا سکیں کہ آپ سب کو مجھ سے کتنی محبت ہے؟ آپ سب کے لیے تو میں اسی روز مر گیا تھا جب یہ ملک چھوڑ کر گیا تھا، بس رہ گیا تھا ایک مشین نما جسم جو مشقت کر کے آپ لوگوں کے معیار زندگی کو بلند کرنے میں کامیاب ہو گیا اور آج آپ سب اچھے لباس پہنے، زیورات سے لدے، ہاتھوں میں اسمارٹ فون تھامے، گیٹ کے باہر مہنگی گاڑیوں کی قطاریں، مجھے دفنانے سے پہلے ہی سرو کیے جانے والے کھانے کی تیاری، بہترین اسکولوں میں پڑھنے والے بھائیوں کے بچے انگریزی فرفر بولتے ہوئے… سب سے پرسے وصول کر رہے ہیں۔ اس وجود کے لیے جس کے سر پر آپ سب کی زندگیوں کی عمارت کھڑی تھی، اب جانے میرے بعد کون وہ ستون بننے والا ہے؟ اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔ مجھ سے بولنے کو نہ کہیں، خاموش ہی رہنے دیں، میری خاموشی میں مضمر نالے آپ ہی سمجھ سکتے ہیں، مجھے بولنے پر مجبور نہ کریں !!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔