کے پی کے اور بلوچستان میں طوفانی بارشیں

ایڈیٹوریل  پير 15 اپريل 2019
سیلابی اور بارشی پانی کو محفوظ کرنے کے ذخائر بنائے جن سے سیلاب کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی فوٹو: فائل

سیلابی اور بارشی پانی کو محفوظ کرنے کے ذخائر بنائے جن سے سیلاب کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی فوٹو: فائل

موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی ملک کے کئی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں میں سیلاب آگیا ہے۔میڈیا کی اطلاعات کے مطابق گزشتہ روزجنوبی وزیرستان میں باراتیوں کی گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی جس کے نتیجے میں6 خواتین جاں بحق ہو گئیں۔ادھر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کی اطلاعات مل رہی ہیں۔

گزشتہ روز کی اطلاعات کے مطابق 5 افراد سیلابی ریلے میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے تاہم ایک خاتون کو بر وقت امداد کے ذریعے بچا لیا گیا، ادھر شوران میں 150 ہندو یاتری سیلابی ریلے میں پھنس گئے ہیں جنھیں بروقت کارروائی کرکے بچا لیا گیا ہے، اطلاعات کے مطابق یہ یاتری شوران کے علاقے ناگاؤ میں یاترا کے لیے آئے ہیں۔

دریں اثناء محکمہ موسمیات نے آیندہ مسلسل پانچ دنوں کے لیے پنجاب، خیبر پختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں وقفے وقفے سے بارشوں، آندھی، طوفان اور ژالہ باری کی نوید سنا دی۔ بلوچستان میں گزشتہ کافی عرصہ سے خشک سالی تھی اور پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی۔

ایسی صورت میں بارشوں کا برسنا قدرت کی کمال مہربانی ہے جس سے نہ صرف خشک سالی اور قحط کا خطرہ ٹل گیا ہے بلکہ آیندہ کے لیے اچھی فصلوں کی نوید بھی نظر آنے لگی ہے۔ اب ارباب بست و کشاد کا فرض ہے کہ بارشوں اور سیلاب کے اس پانی کو محفوظ کرنے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کریں تا کہ اسے ضرورت کے وقت استعمال کیا جا سکے۔ بلوچستان کا صوبہ عموماً پانی کی قلت کا شکار رہتا ہے، اس صوبے میں تو بارش کے ایک قطرے کا بھی ضیاع نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ سیلابی اور بارشی پانی کو محفوظ کرنے کے ذخائر بنائے جن سے سیلاب کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔