خواب کی تعبیر ڈھونڈنے والے

ایم جے گوہر  ہفتہ 17 اگست 2013
mjgoher@yahoo.com

[email protected]

پاکستان کی عوام نے ہر سال کی طرح امسال بھی اپنا یوم آزادی پوری ’’شان وشوکت‘‘ اور روایتی ’’جوش وجذبے‘‘ کے ساتھ منایا۔ حکمراں طبقے نے حسب سابق سرکاری تقریبات کا انعقاد کیا جہاں اکابرین حکومت نے اپنی تقاریر کے ’’جوہر‘‘ دکھاتے ہوئے رٹے رٹائے  جملوں کا سہارا  لے کر قوم کو یہ یقین دہانیاں کرائیں کہ وہ پاکستان کو قائد اعظم کے خوابوں کی تعبیر بنانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ قوم گزشتہ چھ دہائیوں سے حکمرانوں اور رہبران قوم کی ’’جدوجہد‘‘ کی کہانیاں سن رہی ہے۔ لیکن افسوس کہ قائد اعظم کے خواب کی تعبیر کے حصول کے لیے کی جانے والی ارباب حل وعقد کی ’’جدوجہد‘‘ کے جو ’’ثمرات‘‘ عوام کی جھولی میں ڈال دیے گئے ہیں وہ دنیا بھر میں ہماری رسوائی اور ندامت کا باعث بن رہے ہیں۔

سیاسی، مذہبی، صحافتی، معاشی غرض قومی زندگی کے ہر شعبے میں ہمارے ارباب اختیار نے جو فیصلے اور اقدامات کیے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم ہر سطح پر تقسیم در تقسیم ہوتے چلے گئے لسانیت، صوبائیت اور فرقہ واریت ہماری پہچان بن گئی۔ قائد کے پیغام اتحاد، تنظیم اور یقین محکم کی جگہ تفریق، انتشار، غیر یقینی، نفرت، عداوت، فتنہ گری اور انتقام کے کلچر کو فروغ ملنے لگا یہاں تک کہ ہم ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے اور آج یہ حالت ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے وطن میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے قتل کو اپنے مخصوص ’’اسلامی عقائد‘‘ کے تحت جائز قرار دیتا ہے۔

خودکش حملوں، بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے اسکولوں، عبادت گاہوں، حساس قومی تنصیبات کو نشانہ بنانا اور سڑکوں، بازاروں وگلیوں میں عام بے گناہ لوگوں، سرکاری اہلکاروں، مذہبی و حکومتی شخصیات کو گھات لگا کر قتل کرنا ’’اسلام کی خدمت‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ حکومت، خفیہ ایجنسیاں، عسکری ادارے اور قانون نافذ کرنے اور امن کے ضامن دیگر ادارے تمام ترکوششوں کے باوجود دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوپارہے یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ہمیں ایک ’’ناکام ریاست‘‘ کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا قائد نے ایسے ہی پاکستان کا خواب دیکھا تھا؟ کیا لاکھوں جانوں کی قربانیوں کا یہی صلہ ہے؟

آئیے! پہلے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے بلند کردار، نظریات، ملک و قوم سے ان کے اخلاص اور قول و عمل کی پختگی پر نظر ڈالیے اور پھر اس ’’آئینے‘‘ میں اپنے لیڈروں و رہنماؤں اور ارباب اقتدار کے قول و عمل کے تضادات کا ’’اصل چہرہ‘‘ دیکھ کر خود اندازہ لگا لیجیے کہ وہ کیا اسباب وعوامل اور محرکات تھے کہ قائد اعظم نے تو مختصر سے عرصے میں تاریخ ساز جدوجہد کے ذریعے ایک آزاد وخودمختار ملک حاصل کرلیا لیکن ہمارے رہبران قوم چھ دہائیاں گزرنے کے بعد بھی وطن عزیز کو قائد اعظم کے خوابوں کی تعبیر میں ڈھالنے کی ’’انتھک جدوجہد‘‘ میں کامیاب کیوں نہیں ہو پارہے ہیں؟ اور کیوں عوام کو مسلسل سبز باغ دکھا کر دھوکا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

قائد اعظم کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ مستقل مزاج اور عزم و یقین کی دولت سے مالا مال تھے۔ کسی بھی مسئلے پر حالات و واقعات کے تناظر میں انتہائی فکروتدبر اور غوروخوض کے بعد ایک راہ کا تعین کرتے اور پھر بڑی سختی کے ساتھ کوہ گراں کی مانند اس پر ڈٹ جاتے کسی بھی جانب سے بڑی سے بڑی آزمائش، مشکل، مصلحت اور لالچ ان کے پائے استقامت میں لرزہ پیدا نہیں کرسکتی تھی۔ قائد اعظم ہمارے آج کے سیاسی قائدین کی مانند گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی سیاست کے قائل ہی نہ تھے وہ آئین و قانون کا حددرجہ احترام کرتے تھے ایک موقعے پر پنجاب میں مسلم لیگی دھڑوں میں اختلافات کے باعث قائد کو گورنر راج نافذ کرنے کا مشورہ دیا گیا لیکن انھوں نے آئین معطل کرکے گورنر راج نافذ کرنے سے یہ کہ کر انکار کردیا کہ مجھے آئین معطل کرنے کا اختیار صرف اسی صورت میں حاصل ہے جب ملکی سالمیت کو خطرہ ہو جب کہ پنجاب میں اختلافات ایک سیاسی جماعت کا اندرونی معاملہ ہے جس سے ملکی سالمیت کو کوئی خطرہ نہیں۔

اب ذرا قائد اعظم کے خواب کی تعبیر ڈھونڈنے والے پاکستانی حکمرانوں کے کردار کا جائزہ لیجیے کہ کس طرح ان عاقبت نااندیشوں نے آئین و قانون کو بازیچہ اطفال بنائے رکھا چھ دہائیوں میں چار مارشل لاء قوم کا مقدر بنے جن کے بطن سے جنم لینے والی خرابیوں نے نہ صرف معاشرے کا حلیہ بگاڑدیا بلکہ ملک سیاسی استحکام کی منزل سے دور ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ ہمارا مشرقی بازو کٹ کے ہم سے جدا ہوگیا اس کے باوجود آئین کی پامالی کا سلسلہ بدستور جاری رہا۔

قائد اعظم ملکی دولت کو قوم کی امانت سمجھتے اور اس میں رتی بھر خیانت کے روادار نہ تھے وہ حکمرانہ شان و شوکت کے سخت خلاف تھے۔ ایک مرتبہ امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر   نے گورنر جنرل کے استعمال کے لیے ہوائی جہاز کی خریداری کی تفصیلات قائد اعظم کو بھیجیں تو قائد نے انھیں جواب لکھا کہ پاکستان کا گورنر جنرل 15 لاکھ کا جہاز نہیں خرید سکتا۔ ایک بار قائد کے سیکریٹری نے ان سے کہا کہ سر! آپ گورنر جنرل ہاؤس کی اس طرح اضافی بتیاں بجھادیتے ہیں کہ شرمندگی ہوتی ہے۔ چند بتیوں کے جلنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ تو قائد اعظم نے فرمایا ’’بات فرق کی نہیں، اصول کی ہے، روپیہ ضایع کرنا ایک گناہ ہے اور اگر وہ قوم کا سرمایہ ہو تو اور بھی بڑا گناہ ہے۔‘‘ آج قائد کے خواب کی تعبیر کے متلاشی حکمران قومی دولت کو کس بے دردی کے ساتھ اقتدار کی دیوی پر نچھاور کر رہے ہیں کہ سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ بیرونی دوروں پر حکمرانوں کے جاہ و حشم کا یہ عالم ہوتا ہے کہ غیرملکی میزبان بھی انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں کہ مقروض ملک کے حکومتی نمائندے فرائض منصبی کی ادائیگی کے لیے آتے ہیں یا یہاں پکنک منانے ۔ کیا غریب، تنگ دست اور مفلوک الحال قوم کے پیسوں سے حکمراں و اشرافیہ طبقے کے اللے تللوں کے بعد بھی رہبران قوم خود کو قائد اعظم کا جانشیں کہلائے جانے کے قابل ہیں؟

قائد اعظم تنگ نظری، فرقہ پرستی اور طبقاتی امتیاز کے سخت خلاف تھے 13 نومبر 1939 کو عید کے موقعے پر قوم کے نام اپنے پیغام میں قائد نے فرمایا ’’آج عید کا دن اس اسپرٹ کا دن ہے جو روزوں اور نمازوں کی بدولت ہمارے اندر روشن ہوگئی ہے۔ اس سے زیادہ شایان شان مظاہرہ اور کوئی نہیں ہوسکتا کہ ہم عزم کرلیں کہ اپنے گھر اپنی ملت اور اپنے ملک کے اندر جہاں مختلف المذاہب اور مختلف العقیدہ لوگ موجود ہیں، کامل ہم آہنگی و اتفاق پیدا کریں گے، نجی زندگی ہو یا عوامی کسی حالت میں بھی خودغرضانہ مقاصد کے تحت کام نہیں کریں گے۔‘‘ لیکن کیا کہیے کہ قائد اعظم جیسے جذبہ حب الوطنی سے عاری ارباب اختیار کا تو ’’عقیدہ‘‘ ہی خودغرضانہ رہا ہے۔ ذاتی، خاندانی، سیاسی اور جماعتی مفادات کے حصول کو ’’فرض منصبی‘‘ سمجھا جاتا ہے جب تک اہل اقتدار قائد اعظم جیسے ’’اوصاف حمیدہ‘‘ کے حامل نہیں بن جاتے پاکستان ترقی و خوشحالی کی منزل نہیں پاسکتا یہی ’’پیغام آزادی‘‘ ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔