ہزارہ برادری نے حکومتی یقینی دہانی پر دھرنا ختم کردیا

مانیٹرنگ ڈیسک / نمائندہ ایکسپریس  منگل 16 اپريل 2019
دشمن پاکستان کو بلیک لسٹ کرانا چاہتے ہیں، وزیر مملکت ، شہد کے لواحقین سے ملاقات۔ فوٹو: فائل

دشمن پاکستان کو بلیک لسٹ کرانا چاہتے ہیں، وزیر مملکت ، شہد کے لواحقین سے ملاقات۔ فوٹو: فائل

کوئٹہ: کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی خودکش دھماکے کے بعد احتجاج کرنے والے ہزارہ برادری کے ارکان نے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال اور وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کی یقین دہانی پر 4روز سے جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ جام کمال کا کہنا تھا کہ ’ہزارہ برادری نے بہت مشکلات اٹھائی ہیں اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر صبر کا مظاہرہ کیا ہے، دہشت گردی کے واقعے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی کی سبزی منڈی میں ہونے والے دھماکے میں ہزارہ برادری کے 7 افراد سمیت 20 جاں بحق اور 48 زخمی ہو گئے تھے۔

کوئٹہ میں بارش اور سرد موسم کے باوجود ہزارہ برادری کا دھرنا چوتھے روز بھی جاری تھا، جنھوں نے وزیر اعظم عمران خان کے آنے اور مطالبات پر عمل درآمد کی یقین دہانی تک احتجاج ختم نہ کرنے کا اعلان کر رکھا تھا۔

مظاہرین کی نمائندگی کرنے والے ایڈووکیٹ طاہر ہزارہ نے وفاقی حکومت کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے کے بعد وزیر اعظم کے پاس کوئٹہ کا دورہ کر کے متاثرین سے ملنے کا کوئی وقت نہیں۔

دریں اثنا وزیرمملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہاہے کہ دہشتگردی میں ملوث عناصر کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلیے ہرحد تک جائیں گے، پاکستان کے دشمن چاہتے ہیں کسی طرح پاکستان کو بلیک لسٹ کرا دیں، مختلف بنیادوں پر ہمیں لڑانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ہم دشمن کی سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔