1900ارب روپے کے سرکاری ڈپازٹس اسٹیٹ بینک کے سنگل ٹریژری اکاؤنٹس میں منتقلی کی تیاریاں

کاشف حسین  بدھ 17 اپريل 2019
اربوں روپے کی رقوم کمرشل بینکوں کے کھاتوں میں پڑی ہیں جن سے کمرشل بینک فائدہ اٹھارہے ہیں، فوٹو: فائل

اربوں روپے کی رقوم کمرشل بینکوں کے کھاتوں میں پڑی ہیں جن سے کمرشل بینک فائدہ اٹھارہے ہیں، فوٹو: فائل

 کراچی: وفاقی حکومت کی ہدایت پر اسٹیٹ بینک نے سرکاری رقوم نجی بینکوں کے کھاتوں سے نکال کر سنگل ٹریژری اکاؤنٹ میں جمع کرانے کے لیے بینکوں سے بات چیت کا آغاز کردیا ہے۔

سرکاری رقوم میں خردبرد کی روک تھام اور نقد سرکاری رقوم کے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے تمام وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مختلف کمرشل بینکوں میں جمع شدہ ڈپازٹ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ٹریژری سنگل اکاؤنٹ میں منتقل کیے جائیں گے۔

اس اقدام سے سرکاری رقوم کی کڑی نگرانی ممکن ہوسکے گی اور سرکاری رقوم کے استعمال میں شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے گا۔ وفاقی حکومت نے پبلک فنانس منجمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریشن بل میں سرکاری رقوم اسٹیٹ بینک میں قائم ریاست کے خزانہ سے منسلک ایک اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کی شق شامل کی تھی جس کے تحت اسٹیٹ بینک کو سنگل ٹریژری اکاؤنٹ کی منتظمیت اور آئی ٹی سسٹم کی تشکیل کی ہدایت کی گئی تھی۔

بینکنگ انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق اسٹیٹ بینک نے اس ضمن میں کمرشل بینکوں کے ساتھ مشاورت کا آغاز کردیا ہے اس حوالے سے ایک اجلاس میں اسٹیٹ بینک نے کمرشل بینکوں سے رواں ماہ کے اختتام تک فیڈ بیک طلب کرلیا ہے۔

بینکنگ انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق حکومت کے اس اقدام سے کمرشل بینکوں کی جمع شدہ رقوم میں نمایاں کمی واقع ہوگی ۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق کمرشل بینکوں میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے 1900ارب روپے کی رقوم جمع ہیں جو بینکاری نظام کے مجموعی ڈپازٹس کا 13.7فیصد ہیں ۔

کمرشل بینکوں میں وفاقی حکومت کے 1000ارب روپے جبکہ صوبائی حکومتوں کے 900ارب روپے کے ڈپازٹس موجود ہیں جو کمرشل بینکوں کے منافع کی بڑی وجہ ہیں۔ پہلے مرحلے میں وفاقی حکومت جبکہ دوسرے مرحلے میں صوبائی حکومتوں کے کمرشل بینکوں میں موجود اکاﺅنٹس کی رقوم سنگل ٹریژری اکاؤنٹس میں منتقل ہوگی۔

بینکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری محکموں اور ایجنسیوں کے اکاﺅنٹس میں موجود یہ رقوم اسٹیٹ بینک کے سرکاری ڈپازٹس میں ظاہر کی جاتی ہے تاہم حکومت کے رپورٹنگ فریم ورک سے باہر رہتی ہیں۔ حقیقتا یہ رقوم ٹریژری سنگل اکاﺅنٹ کے بجائے کمرشل بینکوں کے اکاﺅنٹس میں ہوتی ہے جسے بینک اپنا کاروبار بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ حکومتی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کمرشل بینکوں کے کھاتوں میں جمع شدہ سرکاری رقوم فسکل منجمنٹ سسٹم کی خامیوں کی وجہ سے قبل از وقت ہی اخراجات ظاہر کردی جاتی ہیں جس سے حکومت کا فسکل خسارہ حقیقت سے زیادہ نظر آنے لگتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی سنگل ٹریژری اکاؤنٹس سے باہر پڑی یہ بھاری رقوم حکومت کے لیے نقد رقوم کے انتظام کو مشکل بنانے کے ساتھ حکومتی اخراجات کے آڈٹ میں بھی دشواریوں کا سبب بنتی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔