چیف جسٹس آف پاکستان کا خطاب

ایکسپریس اردو  اتوار 26 اگست 2012
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ عدالتی نظام کا اہم مقصد آئین کی بالادستی کو یقینی بناناہے اورجمہوریت کے لیے آزاد عدلیہ ناگزیر ہے۔ فوٹو: آن لائن

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ عدالتی نظام کا اہم مقصد آئین کی بالادستی کو یقینی بناناہے اورجمہوریت کے لیے آزاد عدلیہ ناگزیر ہے۔ فوٹو: آن لائن

جنوب مشرقی ایشیاء کے دو بڑے اور اہم ترین ممالک کے چیف جسٹس صاحبان نے ہفتے کو اپنے اپنے ملک کے عدالتی نظام اور اس کی بنیادی ذمے داریوں پر مفصل بات کی ہے اور بعض حوالوں سے ایک دوسرے سے متضاد آراء کا اظہار کیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سکھر میں وکلاء سے خطاب میں کہا کہ حکومت سے آئین پر عمل درآمد کرانا عدلیہ کی ذمے داری ہے جب کہ بھارتی چیف جسٹس ایس ایچ کپاڈیہ نے نئی دہلی میں ایک لیکچر دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کو ملک چلانے یا پالیسیاں بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔ ادھر پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ عدالتی نظام کا اہم مقصد آئین کی بالادستی کو یقینی بناناہے‘ جمہوریت کے لیے آزاد عدلیہ ناگزیر ہے۔

سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن سکھر میں لا کانفرنس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو ریاست کے تیسرے ستون کے طور پر تقسیم اختیارات کے نظام کے زیر اثر آئین اور قانون کی تشریح کرنا اور انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اس اہم مقصد کی ادائیگی کے لیے عدلیہ کو دوسرے اداروں سے آزاد اور خود مختار رکھا گیا ہے۔ اس کو دیگر اداروں کے زیر اثر ہونا چاہیے نہ نظر آنا چاہیے۔ آئین شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کی ذمے داری عدلیہ پر ڈالتا ہے۔ مخصوص کیسوں میں انصاف کی فراہمی کے طریقہ کار پر ہمارا اختلاف ہو سکتا ہے لیکن قانون سے وابستہ افراد کے معاشرے میں آئینی اقدار پر اتفاق پایا جاتا ہے۔ ایک جج یا وکیل کی اصل قابلیت‘ فیصلوں کی لمبائی یا صرف کمائی سے ناپی نہیں جاسکتی۔ اس کی حقیقی صلاحیت دلائل کے معاشرے پر پڑنے والے اثرات اور وہ تصورات جو کمرہ عدالت میں پیش کیے جاتے ہوں سے ناپی جا سکتی ہے۔‘‘

جناب چیف جسٹس کے خطاب کا یہ پہلو یقیناً ایک بنیادی مگر وسیع تر موضوع سے متعلق ہے یعنی عدالتوں میں قانون کی تشریحات کے سلسلے میں کی جانے والی وکلاء کی بحثوں کے اہم نکات کو منضبط انداز میں پبلک کے روبرو لایا جانا چاہیے جس سے عام لوگوں کو نہ صرف قانون کا شعور پیدا ہو گا بلکہ قانون کی پیچیدگیوں سے آگاہی بھی حاصل ہو گی اور وہ قانون سازوں کے لیے ٹھوس اور مثبت مشاورت کی راہ استوارکرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ: ’’ملک میں قانونی مشینری کا بنیادی مقصد آئینی اصولوں‘ اس کے وفاقی ڈھانچے اور اختیارات کی تقسیم کی فوقیت کو برقرار رکھنا اور قوانین کی تشریح کرنا ہے۔ انصاف کی فراہمی عدالتی نظام کے تمام شرکا کی ذمے داری ہے۔ ‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ: ’’قانون کا بنیادی مقصد طرز عمل اور رویوں کے لیے بنیادی اصول فراہم کرنا اور معاشرے کو ایک منظم اور ترتیب سے چلانا ہوتا ہے۔ ‘‘

چیف جسٹس صاحب کی باتیں اپنے اندر معنی کا جہاںلیے ہوئے ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں آمریتوں کی وجہ سے انتظامیہ منہ زور ہو چکی ہے وہاں عدلیہ کا متحرک کردار انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان میں انتظامی افسروں اور دیگر با اثر اداروں کو شاید آئین اور قانون کے دائرے میں رہنے کی عادت نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج عدلیہ کئی کیسوں پر از خود نوٹس لے رہی ہے۔ اگر انتظامیہ اپنا کردار آئین اور قانون کے مطابق ادا کر رہی ہو تو پھر وہ مقام ہی نہیں آتا جہاں عدلیہ کو از خود نوٹس لینا پڑے۔ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک کی سپریم کورٹ کو آئین کی تشریح کا اختیار ہوتا ہے اور اعلیٰ عدلیہ کسی دوسرے ادارے کے ماتحت نہیں ہوتی۔ بھارت میں چونکہ جمہوریت اپنی جڑیں پکڑ چکی ہے۔ وہاں انتظامیہ بھی گزشتہ چھ دہائیوں سے آئین اور قانون کے دائرے میں رہنے کی عادی ہو چکی ہے۔ بھارتی چیف جسٹس کی باتوں کو بھارت کے نظام کے دائرہ کار میں رہ کر ہی دیکھنا چاہیے۔ بھارت کے چیف جسٹس کے دہلی انٹرنیشنل سینٹر میں دیے جانے والے لیکچر میں جو نکتہ اٹھایا گیا ہے۔

وہ یوں ہے کہ اگر جج صاحبان ملک چلانے یا پالیسیاں بنانے کی کوشش کریں اور انتظامیہ عدلیہ کی ہدایات پر عملدرآمد کرنے سے انکار کر دے تو پھر کیا ہو گا؟ ’’ آئینی ڈھانچے کا اصول قانون‘‘ کے موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے انھوں نے تقریب میں موجود ججوں سے سوال کیا کہ ’’ کیا آپ سرکاری حکام کو عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کردیں گے؟ انھوں نے بھارتی سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے سے عدم اتفاق کیا جس میں ’’ نیند کے حق‘‘ کو بھی بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے۔ بھارتی چیف جسٹس نے کہا کہ ججوں کو حکمرانی نہیں کرنی چاہیئے۔ ہمیں سختی سے اصول کے تحت چلنے کی ضرورت ہے۔ جہاں کہیں کسی قانون کے نفاذ کا معاملہ درپیش ہو وہاں ججوں کو گورننس میں مداخلت سے دور رہنا چاہیئے، کیونکہ ہم عوام کو جوابدہ نہیں ہوتے۔

مقصدیت کو آئین کے بنیادی اصولوں کو اہمیت دینے سے منسلک کیا جانا چاہیئے۔ ججوں کو آئین کے ان اصولوں پر سختی سے کابند رہنا چاہیے جو واضح طور پر عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کے اختیارات کا تعین کرتے ہیں۔ پہلے ہم نے کہا کہ زندہ رہنے کے حق میں ماحولیاتی تحفظ اور عزت کے ساتھ جینے کا حق شامل ہے لیکن اب ہم نے سونے کے حق کو بھی اس میں شامل کرلیا ہے، آخر ہم کس طرف جارہے ہیں؟ کیا یہ حق نافذالعمل ہونے کے قابل ہے؟ جب آپ حق کا دائرہ پھیلاتے چلے جاتے ہیں تو ایک جج کو اس کے نفاذ کی حقیقت بھی مدنظر رکھنی چاہیے۔ جج کو یہ سوالات پوچھنے چاہیئں کہ کیا کوئی زیرنظر معاملہ نافذالعمل ہو بھی سکتا ہے کہ نہیں؟ ججوں کو نافذالعمل ہونے کے ٹیسٹ کا لازماً اطلاق کرنا چاہیے۔ آج اگرکوئی جج کسی پالیسی معاملے کا مشورہ دے اور حکومت کہتی ہے کہ ہم اس پر عمل نہیں کریں گے تو کیا آپ اپنے فیصلے کے اطلاق کے لیے توہین عدالت کا سہارا لیں گے؟

یہ ساری باتیں بھارتی نظام اور اس کے آئینی ڈھانچے کے دائرے میں رہ کر ہوئی ہیں۔ بھارت میں اب کوئی ایسا معاملہ نہیں رہا کہ انتظامیہ عدلیہ کے کسی حکم کی خلاف ورزی کرے۔ لہٰذا بھارتی چیف جسٹس کا یہ کہنا درست ہے کہ انتظامیہ کو اس سطح پر نہیں لایا جانا چاہیے کہ جہاں وہ کسی خاص حکم کی تعمیل کے قابل نہ ہو لیکن پاکستان کے حالات مختلف ہوں۔ یہاں ہمیشہ سے انتظامیہ ہی مختار کل بنی ہوئی ہے۔ پاکستان میں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں عدالت کے حکم امتناعی کی خلاف ورزی کی گئی۔ چیف جسٹس آف پاکستان کے خطاب میں بیان کیے گئے حقائق کو پاکستان کے ہی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ عدالتوں کو لامحدود اختیارات حاصل ہیں۔

اس اہم کام کو سرانجام دیتے ہوئے عدالتیں انتظامی احکامات اور فیصلوں اور قانون سازی میں بدنیتی کے عوامل کو روکنے کے لیے عدالتی نظر ثانی کے پیرائے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ کوئی بھی انتظامی حکم یا قانون اگر بنیادی قانون سے خلاف یا متصادم ہو تو اسے منسوخ کرے۔آئین اور قانون کی تشریح اور تنازعات کو حل کرنے اور انصاف کی فراہمی جیسے کام سرانجام دینے کے لیے عدلیہ کا بنیادی مقصد معاشرے میں سکون‘ استحکام اور امن کی فراہمی ہے جس سے تجارت‘ اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ عدالتیں بلاشبہ قانون اور آئین سے وابستہ رہتی ہیں تا کہ صاف و شفاف نظم و نسق کی حکمرانی ہو۔ حکومت اور اداروں سے آئین پر عمل درآمد کروانا عدالتوں کی ذمے داری ہے۔ بلاشبہ اگر عدالتیں پوری آزادی سے کام کرتی رہیں تو عوام کو ان کا حق ملتا رہے گا اور انتظامیہ بھی راہ راست پر رہے گی۔ جب انتظامیہ بلا تامل عدلیہ کے احکامات پر عمل درآمد کرے گی تو جمہوری سسٹم خود بخود مضبوط ہوتا چلا جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔