سیاستدانوں کی ذمے داری

ظہیر اختر بیدری  جمعرات 18 اپريل 2019
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

ویسے تو پاکستانی سیاست پہلے ہی چوں چوں کا مربہ بنی ہوئی ہے جس کا مذاق ساری دنیا میں اڑ رہا ہے۔ اس پر یعنی سونے پر سہاگہ یہ کہ ہمارے سیاستدان سیاست میں محض اپنے سیاسی مفادات کی خاطر ایسے ایسے طریقے ایجاد کرتے رہتے ہیں کہ دنیا بس حیران رہ جاتی ہے۔

ہمارے سیاستدان بخوبی جانتے ہیں کہ اگر ان پر کوئی برا وقت آتا ہے تو عوام ان کا ساتھ نہیں دیں گے کیونکہ قیام پاکستان کے بعد ان کے جو مسائل تھے ان میں دن دونا اضافہ ہوتا رہا۔ ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ان محترمین نے قوم پرستی کو ہوا دے کر اپنے لیے بچت کا ایک انتہائی محفوظ طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے یہ سلسلہ اگرچہ چاروں صوبوں میں جاری ہے لیکن سندھ اور پنجاب میں اس کی افادیت مسلمہ ہے۔

سندھ میں کراچی ایک بہت بڑا شہر مانا جاتا ہے اور یہاں کی آبادی مختلف کمیونٹیز پر مشتمل ہے اس لیے کراچی کے عوام کو کوئی جماعت اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے تو یہ کسی بھی جماعت کے لیے آسان ٹاسک نہیں ہے اسی حقیقت کے پیش نظر ہمارے سیاستدان کراچی کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے سے گریزاں رہتے ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ صوبوں کے عوام عموماً ایک قومیت پر مشتمل ہوتے ہیں اور اگر کوئی سیاستدان اس حوالے سے دیہی عوام کو استعمال کرنا چاہے تو اس کے لیے کوئی زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں رہتا۔

پنجاب میں بھی کم و بیش یہی صورتحال ہے لیکن سابق حکمرانوں کی مبینہ کرپشن کی داستانیں ملک بھر میں اتنے بڑے پیمانے پر پھیل گئی ہیں کہ پنجاب کے عوام کا ایک طبقہ اب ان کا ایسا ہمدرد نہیں رہا جیسے ماضی قریب میں تھا ۔اس لیے شریف خاندان مشکلات کا شکار ہے۔ شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز کے خلاف نیب نے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے وارنٹ گرفتاری نکالے ہیں لیکن پنجاب کا ایک طبقہ اس حوالے سے خاموش ہے۔ البتہ مسلم لیگی قیادت کے ہمدرد نیب کی ٹیم کی جانب سے گرفتاری کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتے رہے ہیں جس کی وجہ سے نیب کی حمزہ کو گرفتار کرنے کی دو کوششیں ناکام ہوگئیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں سیاسی کارکن اپنی پارٹی کے منشور کا وفادار ہوتا ہے کسی کی ذات کا وفادار نہیں ہوتا اور وہاں کے سیاستدان اپنے کارکنوں سے قومی مفادات کے کام لیتے ہیں فرد، افراد کے مفادات کے لیے سیاسی کارکن نہ استعمال ہوتے ہیں نہ انھیں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کلچر کی وجہ سے سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کے سامنے صرف قومی مفادات ہوتے ہیں اور جو جماعتیں قومی مفادات کی سیاست کرتی ہیں عوام ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔

مغربی ملکوں کی خوبی یہی ہے کہ وہ اپنی سیاسی پارٹیوں کو ذاتی اور جماعتی مفادات کے لیے استعمال نہیں کرتے، اس لیے قیادت پر کارکنوں کا اعتماد بحال رہتا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں کی دوسری خوبی یہ ہے کہ وہ بھی اپنی پارٹی کے منشورکے تابعدار ہوتے ہیں ترقی یافتہ ملکوں کی ایک بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اقتدار سے جائز و ناجائز طریقوں سے چمٹے رہنا نہیں چاہتے اس وجہ سے وہاں انتقال اقتدار کبھی مسئلہ نہیں بن پاتا عوام قانونی اور جمہوری طریقوں سے اقتدار میں آنے والی قیادت اور پارٹیوں کا بہت احترام کرتے ہیں ان ملکوں میں دھاندلی، دغابازی سے عوام کو اپنے ذاتی اور جماعتی مفادات کے لیے استعمال کرنے کا کوئی کلچر نہیں ہے۔

بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں روز اول ہی سے اقتدار کو اپنی ذاتی ملکیت بنانے کا کلچر عام ہے ۔ آج ہم اقتدار کی جس لڑائی کا مشاہدہ کر رہے ہیں اس کی وجہ بھی پدرم سلطان بود کا نشہ حاوی ہے۔ یہ کلچر اب اتنا مضبوط ہوگیا ہے کہ اشرافیہ اقتدار کو اپنا موروثی حق سمجھتی ہے اور اس حوالے سے موروثی قیادت کا ایک انتہائی جمہوریت دشمن کلچر کو اس قدر پروان چڑھایا گیا ہے کہ اشرافیہ سے باہر کا کوئی لیڈر یا اس کی پارٹی برسر اقتدار آتی ہے تو اشرافیہ کسی قیمت پر اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی جس کا نتیجہ سیاسی افراتفری کی شکل میں سامنے آتا ہے۔

اس حوالے سے سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ سابق حکمران اشرافیہ پر اربوں روپوں کے کرپشن کے الزامات میں مقدمات چل رہے ہیں اور ہر جماعت کے سیاسی کارکن اپنی قیادت سے بدظن ہیں اور عوام بے اعتبار ہوگئے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ عمران حکومت جس کا تعلق ایک مڈل کلاس سے ہے ان میچور ہے وہ ملکی سیاست اور ملکی مفادات کے حوالے سے وہ کردار ادا نہیں کر رہی ہے جو ایک انتخابات جیتنے والی جماعت کو کرنا چاہیے تھا جس کا نتیجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔

بھارت فطری طور پر اس متذبذب صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے اس صورتحال کا تقاضا یہ تھا کہ ملک کی وہ تمام پارٹیاں جن پر کرپشن کے الزامات نہیں ہیں موجودہ حکومت کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہوجاتیں اور اندرونی خلفشار پر قابو پاکر بھارت کے جارحانہ پلان کے خلاف سینہ سپر ہوجاتیں یہ کوئی نئی روایت نہیں ۔ ماضی میں ساری دنیا میں اس کلچر پر عملدرآمد ہوتا رہتا ہے لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اقتدار کی بے لگام اور بے اصولی خواہش نے ایلیٹ کے دل سے ملکی مفاد اور پاکستانی عوام کے بہتر مستقبل کو بھی کھروچ کر پھینک دیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔