شوبز کی دلچسپ یادیں

نادر شاہ عادل  جمعرات 18 اپريل 2019

یہ غالباً 1964کا زمانہ تھا ۔ دشت صحافت میں قدم رکھنے کا شوق اس لیے پیدا ہوا کہ والد گرامی اسرارعارفی پیشۂ صحافت سے وابستہ تھے۔ بنیادی طور پرکاتب تھے لیکن ان میں خوش نویسی اور خطاطی کی بے پایاں صلاحیت تھی۔

کئی چھوٹے رسائل وجرائد میں کام کیا ، خواجہ حشمت اللہ انبالوی کے فلمی اخبار ’’ فلمستان ‘‘ کے تقریباً تمام شماروں کے مضامین ان کی کتابت کا نتیجہ تھے،خود فلمی مضامین بھی لکھا کرتے، ملک کے مایہ ناز طنز نگار مجید لاہوری کے جریدہ ’’نمکدان‘‘ کے بھی کاتبوں میں شامل تھے، مجید لاہوری کا تعلق لیاری سے بھی تھا ، ان کے اہل خانہ کلری احمد شاہ بخاری روڈ پر رہتے تھے۔ مجید لاہوری کا یہ شعور مدتوں یاد رہا۔

اڑے ہم تو بس چائے لانے کو بولا

تم یہ کھارا بسکٹ بھی لاتا پڑا ہے

والد صاحب چونکہ خاکسار تحریک سے وابستہ تھے، اس لیے لکھنے لکھانے اور فکری مباحثوں اور ادبی و تاریخی کتابوں سے ان کا تعلق مضبوط تھا۔ مجھے یاد ہے لڑکپن میں لیاری میں سوشل ازم اور مارکس ازم کی لہر امڈ آئی توکئی بلوچ قوم پرست رہنما اور ادیب وشاعر ابو سے ملنے گھر آتے، ابو وسیع المشرب آدمی تھے، آخر عمر تک انسان دوست رہے ، تیس برس لیاری میں منشیات کے خلاف جدوجہد کی۔

صبح شیو بھی کررہے ہوتے تو تلاوت قرآن کی آواز میں ہلکے سے سنتا تھا ،کتابت کرتے وقت مجھے ساتھ بٹھاتے اور میں مسودہ پڑھتا جاتا ابو کتابت کرتے،ان کا کہنا تھا کہ اس ریڈنگ سے تمہاری اردو بہتر ہوگی ۔ اسی گھر میں پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی مختار رانا آئے تو مجھے مشورہ دیا کہ گرامرکی کتابیں مت پڑھو، اب ناول اور ادبی کتب کا مطالعہ کرو،انگلش میڈیم کی پرائمری کتابیں پڑھتے رہو، روانی آجائے گی ۔ کیسے خرد افروز سیاست دان تھے آج کیسے ملا دو پیازاؤں اور ڈان کوئکزوٹوں کی بادشاہی ہے ۔

پہلے thee Musketeersمشہورتھے آج ہر سیاسی جماعت کے پاس پانچ پانچ میکیاویلی سرگرم عمل ہیں ۔ بلوچ دانشور یوسف نسکندی ، اکبر بارکزئی ، لطیف بلوچ ، محمد بیگ بیگل، ظفر علی ظفر، یار محمد یار، صدیق آزات مرد خرد مند احمد دستگیر سے تبادلہ خیال کے لیے جمع ہوتے ، احمد دستگیر مولانا جیلانی چاند پوری اور ابرار محی الدین کوگھر لائے۔ زوروں کی بحثیں چلتیں، ابو بتایا کرتے کہ ہمارے ایک دوست ہوا کرتے تھے لاہور میں عبداللطیف بٹ ، جنھیں ہم سب ’’صوفی ‘‘کہا کرتے، وہ خاکسار تحریک کی روح تھے ، غضب کا جوش وجذبہ ۔ ایک آگ سی بھری ہوئی تھی ان کے جسم وجاں میں ، علامہ عنایت اللہ مشرقی انھیں عزیز رکھتے تھے، وہ خاکسار تحریک کے تھنک ٹینک میں انقلاب کا شعلہ جوالہ تھے۔ کسی جلسہ کو خراب اور سبوتاژ کرنا ہوتا تو اس کے لیے صوفی صاحب کافی تھے۔

ابو نے یاد دلایا کہ مشرقی پاکستان کے فلمساز، موسیقار اور ہدایتکار خان عطا الرحمان لڑکپن میں صوفی صاحب کے ’’ پنٹر ‘‘ تھے ، اس بنگالی لڑکے کے خواب ’’ لارجر دین لائف ‘‘ تھے اس کا ابتدائی نشیمن لیاری تھا ۔ بولٹن مارکیٹ کی ہوٹل سے نکلے ، ایک چیک بھنانے بینک گئے پھر صوفی صاحب کی ہدایت کے مطابق پلٹ کر نہیں آئے، ان کی منزل لندن اسکول آف ڈرامیٹک آرٹ ٹھہری، سیماب صفت اور بے چین روح تھے، مگر ہر کسی سے ملتے،اس کی خواہش تھی کہ نواب سراج الدولہ پر کراچی میں ڈرامہ اسٹیج کرے، پھر اسی خواب کی تکمیل انھوں نے مشرقی پاکستان میں جاکر ’’نواب سراج الدولہ‘‘ جیسی یادگار بایوگرافیکل فلم بنا کرکی۔ فلم میں سراج الدولہ کا مرکزی کردار انور حسین نے بہت خوب نبھایا ۔ادا کیا،اس فلم کا ریویو1967 میں کراچی کے تمام اخبارات کے فلمی صفحات پر نمایاں چھپا، میں نے شاید ناز سینما میں اس کا پریمیئر شو دیکھا تھا ،جب اپنے والد سے فلم اور عطا کا ذکر کیا تو ابو نے کہا کہ خان عطا الرحمان سے ملتے اور ان کو یاد دلاتے کہ ابو(اسرار عارفی) آپ کو یاد کرتے ہیں۔

انھی دنوں کرکٹ کمنٹیٹر منیر حسین سے میرا تعارف ہوا جو اخبار وطن اور فلم ایشیا کے اختتام تک قائم رہا۔جریدہ ’’کرکٹر‘‘ کے چیف ایڈیٹر ریاض منصوری ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں۔ یہی زمانہ تھا کہ روزنامہ ’’انجام’’ میں ابو سب ایڈیٹر تھے، شوکت صدیقی اور طفیل احمد جمالی مدیر رہے تھے۔ اسی اخبار میں اجمل دہلوی، نذیر ناجی، عباس اطہر، افضل صدیقی فاروق پراچہ بھی تھے۔ ان ہی دنوں زاہدہ حنا کے تراجم اور مضامین نظر سے گزرتے رہے اور میں ان کا فین تھا۔ایک بار انجام کے کلر ایڈیشن میں نسیم نیشو فوز، نعیم آروی اور افسر آذر کے مصوری پر دل نشیں مضامین شایع ہوئے، ڈائجسٹوں کا بوم نہیں آیا تھا مگر ایک سلسلہ وار روداد نے ’’انجام‘‘ کی دیگر اخبارات سے معاصرانہ چشمک دگنی کردی۔

قارئین کا تجسس دیدنی تھا کہ یہ حوالاتی کون ہے، جب آخری قسط چھپنے سے ایک دن پہلے اعلان چھپا کہ اس کہانی کے اصل حوالاتی کی تصویر اور نام کل شایع کیا جائے گا، یوں ریاض الرحمان ساغرکی تصویر اور ان کا نام سامنے آیا۔لیکن ایک رات پہلے وہ لیاری میں ابو کے ساتھ گھر آئے تھے، بعد میں ریاض الرحمان ساغر نے شباب کیرانوی فلم پروڈکشن سے وابستگی اختیار کرلی ، نوائے وقت کراچی آتے تو میری ان سے ملاقات ہوجاتی ۔ وہ ملک کی نامور اسکرپٹ رائٹر ، شاعر اور صحافی کے طور پر شہرت کے بام عروج پر پہنچے ۔ اسی زمانے میں اے ایس ملک، شفیع ادبی ، ممتاز خطاط مبارک رقم ، فتح لوحانی، محمد علی مکرانی اپنا پندرہ روزہ شمارہ لیے صبح گھر آتے اور ابو ان کے ساتھ کام پر چلے جاتے۔ مجھے بھی یہی ادب نواز اور صحافت دوست ارباب ہنر اسی کوچے میں لے آئے ۔امداد نظامی کی ابو سے سرائیکی بیلٹ کے باعث گہری دوستی تھی۔

کراچی کا ہفت روزہ ’’نورجہاں‘‘ میرے لیے صحافت کا پرائمری اسکول تھا۔ ایس اے چاؤلہ اس کے مدیر اعلیٰ تھے ۔ میںکالج سے چھوٹ کر ایم اے جناح روڈ پر گلشن ٹیرس پہنچتا اور انگریزی فلمی رسالوں سے ترجمے اور فلمی خبریں بناتا، شبنم جبل پوری اور ارشد لکھنوی اس کے ادارہ تحریر میں شامل تھے۔محترمہ ن انصاری، شاہد سردار ، ندیم قریشی ، رحمت فریدی اقبال کاردار،کی تحریریں پڑھتا ، ہدایت کار شوکت ہاشمی،آفتاب سید ، انعام صدیقی، عبدالوحید خان(صاحب) جز وقتی ترجمے کے لیے دوپہرکو آتے، مجھے ہالی ووڈ کے رسائل سے ایک مضمون کے ترجمہ کا معاوضہ پانچ روپے ملتا ۔ ظاہر میرا ترجمہ سینئر صحافیوں اور فلمی رائٹرز سے کسی طور بہتر نہ تھا، میں نووارد تھا، لیکن آج کے زمانہ میں وہ رقم پانچ سوکے برابر تھی، جب پیسے ملتے تو میں خود کو اس دن کا سیٹھ عابد سمجھتا تھا۔

زندگی سادہ ، پرکاراور کراچی واقعی عروس البلاد اور عالم میں انتخاب تھا۔ ہفت روزہ ’’نورجہاں‘‘ سرکولیشن کے حساب سے تیسرے نمبر پر تھا، ’’نگار‘‘ اور’’کردار ‘‘ کی شہرت بہت تھی ،الیاس رشیدی کے نگار اور خواجہ بقا اللہ کے کردار میں منجھے ہوئے فلمی صحافی شامل تھے ، نگار کے بشیر نیاز ، یونس ہمدم، بزرگ رائٹر رضوان برنی اور دکھی پریم نگری اسی طرح کردار کے لئیق قریشی اور صلاح الدین پراچہ مقبول فلمی صحافی شمار ہوتے تھے، بشیر نیاز نے تو لاہور فلمی صنعت میں ایک زبردست اننگز کھیلی،ان کی کہانیاں ، مکالمے اور اسکرین پلے کا ڈنکا بجتا تھا۔ اسی صف میں دانش دیروی، ایس طلعت روؤف ،سلیم باسط،اطہرجاوید صوفی، جنیدرضوی، ابو راوی اور کوئی شمشیر جام نگری کے قلمی نام سے تنقیدی مضامین ’’حریت ‘‘ کے لیے تنقیدی مضامین لکھتے تھے۔ساجد علی ساجد کا اپنا منفرد فکاہیہ رنگ تھا۔

اے آر ممتاز ،اے کے شاد اور صفورہ خیری صاحبہ ادارہ تحریر سے وابستہ تھیں۔ یسین گوریجہ ’’نگار‘‘ جب کہ ، آے آرسلوٹ ، ایوننگ اسٹار اور یو کملانی ڈیلی نیوز اور ڈان گجراتی کی نمایندگی کرتے تھے، ڈان کے ظفر صمدانی ، آصف نورانی، جنگ کے فلمی صفحہ کے انچارج اقبال احمد خان تھے، پھر مستنصر جاوید نے ان کی جگہ لی۔ مصور نے لاہور میں دھنک کی طرح شہرت و مقبولیت کے نئے سنگ میل قائم کیے۔ غلام اکبر نے چربہ سازی کے خلاف زبردست مہم شروع کی ۔ کئی فلمی صحافیوں پر اسٹوڈیوز کے دروازے بند کیے گئے۔

ضیاء محی الدین کو نئی نسل زیادہ جانتی نہ تھی، اسد جعفری ان کی پاکستان آمد پر اخبار نویسوں کو اطلاع کر دیتے ، ہفت روزہ نورجہاں میں، میں نے ضیا کے بارے میں جب وقفہ وقفہ سے کچھ لکھنا شروع کیا تو ایس اے چاؤلہ مجھ پر سخت برہم ہوئے۔ کہنے لگے ’’ یہ کون حضرت ہیں۔آپ ان کی خوب پبلسٹی کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ ’’ ضیا محی الدین لندن میں اسٹیج کے معروف نوجوان پاکستانی ایکٹر ہیں، شیکسپیئر کے ڈراموں میں اداکاری کرتے ہیں، غیر ملکی فلموں میں رول کرچکے ہیں۔میری خواہش ہے کہ وہ پاکستان آکر نیشنل تھیٹر کا قیام عمل میں لائیں ۔‘‘وہ آج ’’ناپا ‘‘ کے سربراہ ہیں جو جوہر قابل مہیا کررہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔