’’ربڑ اسٹیمپ‘‘ میں جان کیسے پڑ گئی

سلیم خالق  اتوار 21 اپريل 2019
احسان مانی عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے ہی دن سے کہہ رہے ہیں کہ وہ تمام تر اختیارات اپنے پاس رکھنے میں یقین نہیں رکھتے۔ فوٹو: فائل

احسان مانی عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے ہی دن سے کہہ رہے ہیں کہ وہ تمام تر اختیارات اپنے پاس رکھنے میں یقین نہیں رکھتے۔ فوٹو: فائل

اگر کوئی عام حالات ہوتے تو میری آنکھوں سے خوشی کے آنسو نکل آتے مگر چونکہ ایسا ہونے کی سن گن لگ چکی تھی اس لیے ٹی وی پر بریکنگ نیوز دیکھ کر مسکرانے لگا، پی سی بی گورننگ بورڈ جسے میں ہمیشہ ’’ربڑ اسٹیمپ‘‘ کہتا ہوں، پہلی بار اس نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور کوئٹہ میں میٹنگ کا بائیکاٹ کردیا مگر ایسا کرکٹ کی بہتری نہیں ذاتی مفادات کیلیے ہوا لہذا اس کی زیادہ اہمیت نہیں ہے۔

ماضی میں بڑے بڑے غلط فیصلے ہوئے مگر گورننگ بورڈ ہمیشہ ان کی رسمی منظوری دیتا رہا کبھی اس نے احتجاج نہیں کیا ، انہی لوگوں نے شہریارخان کے ہاتھ پاؤں باندھتے ہوئے نجم سیٹھی کو طاقتور ایگزیکٹیو کمیٹی کا سربراہ بنانے کی منظوری دی تھی،احسان مانی نے جب نجم سیٹھی کے اخراجات کی لسٹ ویب سائٹ پر دی تو اس پر اسی گورننگ بورڈ نے ناخوشی ظاہر کی، اس سے صاف ظاہر ہے کہ بعض ارکان سابق چیئرمین کے زیراثر ہیں، ماضی میں کبھی اس طاقتور باڈی کو اپنی اہمیت کا اندازہ نہ ہوا، اسی لیے چیئرمین ہر دور میں ون مین شو کرتے رہے۔

اب بورڈ کی سربراہی احسان مانی کے ہاتھوں میں ہے، وہ ماضی میں آئی سی سی کی صدارت سنبھال چکے،انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ پاکستان میں کرکٹ چلانے کیلیے جوڑ توڑ کی ضرورت پڑتی ہے، نجم سیٹھی کے دور میں جب کسی فیصلے کی منظوری لینا ہوتی توشکیل شیخ جیسے لوگ پہلے ہی گورننگ بورڈ ارکان سے ’’سیٹنگ‘‘ کرلیتے جس سے میٹنگ میں یس یس ہوتا رہتا اور چائے سموسوں سے لطف اندوز ہوکر ارکان گھر چلے جاتے، اب نہ نجم سیٹھی ہیں نہ شکیل شیخ ، احسان مانی نے ڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلیوں وغیرہ کیلیے میٹنگ بلائی، انھیں شاید اندازہ نہیں تھا کہ بائیکاٹ جیسی نوبت آ جائے گی، مگر ایسا ہوگیا جس سے چیئرمین کو شاک لگا ہو گا۔

دراصل یہ سب گیم چند روز پہلے ہی شروع ہو گیا تھا، اس میں پاکستان کرکٹ کی ایک سابقہ اعلیٰ شخصیت اور خود کو ریجنز کا ڈان سمجھنے والے ایک صاحب نے اہم کردار نبھایا،جس طرح سے میٹنگ کا ایجنڈا اور دیگر دستاویزات میڈیا کو لیک ہو رہی تھیں اس سے صاف ظاہر تھا کہ ’’کچھ تو گڑبڑ‘‘ ہے،گورننگ بورڈ کے ایک رکن اپنے ’’باس‘‘ کو یہ پیپرز دیتے جو میڈیا کو جاری کر دیے جاتے، اس کیس میں ریجنز والے استعمال ہو گئے اور اب ان میں سے ایک تو معطل ہو چکے باقی کیلیے بھی آگے اچھے حالات دکھائی نہیں دے رہے۔

اگر واقعی ان کے دل میں نئے ڈومیسٹک سسٹم سے متاثر ہونے والے کرکٹرز کا درد موجود ہوتا تو میں بھی سپورٹ کرتا مگر افسوس ایسا ہے نہیں، جیسا کہ پہلے بتایا سب ذاتی مفادات کی جنگ ہے،بورڈ کیلیے نئے سسٹم کی منظوری یا ایم ڈی کی تقرری کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے، وہ آئین تبدیل کر کے ایسا کر سکتا ہے، احسان مانی اگرنظام بدل رہے ہیں تو انھیں اس کی ہدایت وزیر اعظم عمران خان نے ہی دی، اب بھی چیئرمین کوسرپرست اعلیٰ نے کسی کی بلیک میلنگ میں آئے بغیر فیصلوں کا اختیار دے دیا، ایک بات تو طے ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلیاں آنا ہیں۔

اس فیصلے سے کرکٹرز شدید متاثر ہوں گے، ڈپارٹمنٹس سے کئی گھروں کے چولہے جلتے تھے ، بے روزگاری سے مسائل پیدا ہوں گے،عمران خان نے یقیناً کرکٹ کی بہتری کیلیے ہی یہ پلان بنانے کا کہا ہوگا مگر ان کے زمانے اور موجودہ دور میں بہت فرق ہے، وہ آسٹریلوی سسٹم کی مثالیں دیتے ہیں، یہ بھی تو دیکھیں کہ دونوں ممالک کی آبادی کتنی کتنی ہے، پھرآسٹریلیا میں کرکٹرز کو پاکستانیوں کی طرح پورا گھر نہیں چلانا پڑتا، یہ واقعی سنگین مسئلہ ہے لیکن حیران کن طور پر سابق کرکٹرز خاموش بیٹھے ہیں،چیئرمین پی سی بی کو اس جانب توجہ دینا ہوگی۔

ابھی تو گورننگ بورڈ کے چند ارکان کسی کی ایما پر اٹھ کھڑے ہوئے کل اور لوگ بھی سامنے آ سکتے ہیں، اس سے پہلے ہی مسئلے کو حل کریں، ہارون رشید جیسے یس مین کی سننے کے بجائے سابق عظیم کرکٹرز ، ڈپارٹمنٹس اور ریجنز کے نمائندوں سے مشاورت کریں، اس صورت میں کوئی نہ کوئی مناسب حل نکل آئے گا،گورننگ بورڈ میٹنگ میں جو کچھ ہوا اس سے پاکستان کو جگ ہنسائی کا سامنا کرنا پڑا،اس وقت ہمیں ورلڈکپ کی تیاریوں پر توجہ مرکوز رکھنا چاہیے اور یہاں ایسے مسائل سامنے آ رہے ہیں، ایم ڈی وسیم خان کی تقرری کا معاملہ بھی ہمیشہ کیلیے حل کرنا چاہیے۔

گورننگ بورڈ کے پانچ ارکان نے جو قرارداد پیش کی اس میں فیصلے کو کالعدم قرار دیا گیا، مگر چونکہ احسان مانی نے قرارداد قبول نہیں کی اس لیے کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، بورڈ کہتا ہے کہ اسی گورننگ بورڈ نے تقرر کی منظوری دی تھی، نجانے کون سچ کہہ رہا ہے، البتہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر انگلینڈ سے پاکستان آنے والے وسیم خان ضرور اس صورتحال میں دباؤ کا شکار ہوں گے۔

یہ بات درست ہے کہ ان کی تنخواہ پی سی بی کے حساب سے بہت زیادہ ہے، میرے خیال میں شاید سی او او سبحان احمد کو اس سے آدھی رقم بھی نہیں ملتی ہوگی، وسیم کو ثابت کرنا ہوگا کہ اگر انھیں اتنی بھاری تنخواہ پر لایا گیا تو وہ اس کے اہل بھی ہیں، اب تک تو وہ صرف میڈیا میں ہی دکھائی دے رہے ہیں، دیکھتے ہیں کام کیسا کریں گے، ڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلیاں ان کیلیے پہلا ٹیسٹ کیس ہے، احسان مانی عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے ہی دن سے کہہ رہے ہیں کہ وہ تمام تر اختیارات اپنے پاس رکھنے میں یقین نہیں رکھتے۔

اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ کچھ عرصے میں پی سی بی کی سب سے بااثر شخصیت وسیم خان کی ہی ہوگی، وہ چونکہ ’’پاکستانی سیاست‘‘ سے واقف نہیں اس لیے مشکلات پیش آئیں گی، انھیں تھوڑا بہت اندازہ توہو ہی گیا ہوگا،گذشتہ دنوں یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ شکیل شیخ ان کی قربت پانے کیلیے کوشاں ہیں، وسیم خان کو قطعی ایسا نہیں ہونے دینا چاہیے، اگر کرکٹ میں تبدیلی لانی ہے تو شکیل شیخ،ہارون رشید اور جتنے ایسے پرانے لوگ مارکیٹ میں موجود ہیں انھیں باہر کریں،پھر یقیناً کچھ تو فرق سامنے آئے گا، پرانے چہروں سے نظام بدلنے کا خواب دیکھنا بے مقصد ہے۔

نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے@saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔