سیلفی زدہ بے ڈھنگے چہرے اور مسخ تہذیب

شمس العارفین  پير 22 اپريل 2019
جب تک منہ کو زاویہ نہ دیا جائے تو سیلفی مکمل ہی نہیں ہوتی۔(فوٹو: انٹرنیٹ)

جب تک منہ کو زاویہ نہ دیا جائے تو سیلفی مکمل ہی نہیں ہوتی۔(فوٹو: انٹرنیٹ)

لگتا یہ ہے کہ معاشرے میں جو بے ڈھنگا پن آتا جا رہا ہے، معاشرے میں تہذیب ختم ہوتی جارہی ہے اور شوخ مزاجی، چنچل پن، شرارت عام ہورہی ہے، یہ معاشرتی تبدیلی نہ صرف پاکستان میں آرہی ہے بلکہ پوری دنیا کے اندر اس کا کچھ نہ کچھ اثر ہو رہا ہے۔

اگر آج سے پچیس سال پیچھے چلے جائیں تو دنیا کے معاشروں میں ایسا کچھ نہیں تھا۔ دنیا میں نسبتاً تہذیب کا پہلو زیادہ نمایاں تھا۔

چنچل مزاجی، شوخی اور شرارت کا جہاں تک تعلق ہے، انسانی مزاج کی ادائیں خوبصورت اور اچھی بھی ہیں، لیکن ایسی بھی کیا شوخی اور شرارت کہ انسانی شخصیت بگاڑ اور بے ڈھنگے پن کا شکار کردے۔ اور شخصیت بلا وجہ تنقید اور تذلیل کا نشان بن جائے۔ اگر مجھ سے اس کی وجہ پوچھی جائے تو میں یہ کہوں گا کہ معاشروں کا یہ بگاڑ کیمرے کی پیداوار ہے۔

انسانی نفسیات میں شہرت اور تعریف پسندی کی خواہش پائی جاتی ہے اور کیمرے و سوشل میڈیا کی ٹیکنالوجی نے انسانی ذہن کو جہاں شہرت اور تعریف کے مواقع فراہم کیے ہیں، وہاں تہذیب و اخلاق اور بہت سی دوسری اقدار کو پامال کردیا ہے۔ آزادی اظہار نے ایک عورت کے حسن کو نمائشی بت بنا دیا ہے اور سیلفی نے ہر خاص و عا م کے چہرے میں بگاڑ پیدا کردیے ہیں۔

ہمارے ایک بزرگ کہتے ہیں کہ پہلے لقوہ ایک جسمانی بیماری تھی اور اب ایک روحانی بیماری کا روپ دھار چکا ہے۔ اب جب تک منہ کو زاویہ نہ دیا جائے تو سیلفی مکمل ہی نہیں ہوتی۔ اگر کچھ لڑکیاں اپنے چہرے کو، اس خوف سے کہ پہچان میں نہ آ جائیں، چہرہ چھپاتی ہیں تو وہ اپنے دھڑ کی تصویر سوشل میڈیا پر آویزاں کردیتی ہیں۔ اور آج کل تو چہرے کے بجائے ناگن جیسے بال تصویروں میں نظر آتے ہیں۔

کیمرا اور سوشل میڈیا شہرت کو اتنا سستا کردے گا، یہ سوشل میڈیا اور کیمرے کی تخلیق کرنے والوں نے بھی شاید نہ سوچا ہو۔ اور شہرت کی خواہش میں معاشرے میں اس قدر بگاڑ پیدا ہوجائے گا، یہ مہذب دنیا نے کبھی نہیں سوچا ہو گا۔

کہتے ہیں کہ دریا، وقت اور معاشرتی تبدیلیاں پیچھے کی طرف نہیں چلتے۔ میرے جیسے تنقید نگاروں اور نکتہ چینوں کے پاس اس کو قبول کرنے کے علاوہ کچھ چارہ بھی نہیں ہوتا۔ علم اور تعلیم اتنی ترقی کرچکے ہیں کہ ہر شخص کے پاس معلومات کا خزانہ ہے۔ اور انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات تک پہنچ ضرور ہے۔ یہ علمی اور سائنسی ترقی اس نہج تک جا پہنچے گی یہ شاید کسی نے نہ سوچا تھا، لیکن آج معاشرتی سطح پر علم کی نہیں شاید تربیت کی ضرورت زیادہ ہے۔  یہ علم جو مذاہب نے دیے ان کو روحانی سطح پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ دریا الٹے رخ نہیں بہتے، معاشرتی تبدیلی بھی نہیں روکی جاسکتی۔ اس تبدیلی کی اخیر کیا ہو گی یہ پیش گوئی تو نہیں کی جاسکتی لیکن انسانیت اور انسانی کردار وتشخص کے لیے اچھی علامت نہیں ہے۔

ہمارے معاشروں کو سادگی پر عمل پیرا ہونے اور مشینوں کے بجائے انسانوں کو ایک دوسروں کے قریب لانے کی ضرورت ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔