عصمت کیس سے پیچھے ہٹنے کیلیے سنگین دھمکیاں مل رہی ہیں، اہل خانہ

اسٹاف رپورٹر  پير 22 اپريل 2019
انصاف ملنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، پریس کانفرنس، تین ملزمان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل روانہ (فوٹو: فائل)

انصاف ملنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، پریس کانفرنس، تین ملزمان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل روانہ (فوٹو: فائل)

 کراچی: کورنگی کے سرکاری اسپتال میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی عصمت کے کیس میں گرفتار تین ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا جب کہ اہل خانہ نے کہا ہے کہ ہمیں پیچھے ہٹنے کیلیے دباؤ ڈالا جارہا ہے انصاف ملنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عصمت کی خالہ نے بتایا کہ ابھی تک اصل ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا، ملزمان کھلے عام گھوم رہے ہیں اور ہمیں پیچھے ہٹنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، 18 اپریل کو افسوس ناک واقعہ پیش آیا، آج پانچواں روز ہے مگر مرکزی ملزمان کو پولیس گرفتار نہیں کرسکی۔

عصمت کی خالہ فریدہ کے مطابق اصل ذمہ داروں کو سزا دی جائے، کورنگی کے رہائشی اگر وہاں قائم سرکاری اسپتال میں نہ جائیں تو پھر کہاں جائیں؟ معصوم بچوں کی جانیں لینے کا حق کس نے دیا ہے؟ فریدہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شکیل، ولی اور ڈاکٹر ایاز لغاری کی گرفتاری تاحال عمل میں نہیں آسکی جبکہ انھیں یہ شک ہے کہ عدم دلچسپی کی وجہ سے جو چند لوگ گرفتارہیں وہ بھی چھوٹ جائیں گے۔

عصمت کے اہل خانہ کے مطابق عوامی تھانے کے تفتیشی اہل کاروں کے توسط سے کیس سے دست برداری اور سنگین نتائج کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔

نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی نمائندہ انیس ہارون کا کہنا تھا کہ ایک لڑکی دانت کے درد میں سرکاری اسپتال گئی اور وہاں اسے زیادتی کرکے مار دیا گیا، لڑکی کے انتقال کے بعد اس کی عمر رسیدہ ماں کو سرکاری اسپتالوں کے درمیان چکر لگوائے گئے، والدہ دیوانہ وار کبھی کورنگی پانچ اور کبھی جناح اسپتال کے چکر کاٹتی رہی۔

عصمت نے ہراساں کیے جانے پر اسی اسپتال کی نوکری چھوڑی تھی

انہوں نے انکشاف کیا کہ اسی اسپتال میں عصمت کو ایک سال قبل ہراساں کیا گیا تھا کہ جس کے بعد اس نے اسپتال سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
سندھ ہیومن رائٹس کی نمائندہ جسٹس (ر) ماجدہ رضوی کا کہنا تھا کہ اس غیرانسانی اور غیر فطری واقعے کے اصل کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ورنہ واقعات ہوتے رہیں گے۔

سماجی کارکن جبران ناصر کے مطابق اس انسانیت سوز واقعے نے ڈاکٹروں کے مقدس پیشے پر سوالیہ نشانات کھڑے کردیے ہیں۔

گرفتار تین ملزمان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل روانہ

کراچی سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں عصمت کیس کی سماعت ہوئی۔ پولیس نے گرفتار 3 ملزمان عامر، شاہ زیب اور ولی محمد کو عدالت میں پیش کردیا۔ تفتیشی افسر نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کردیا اور ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

تفتیشی افسر کے مطابق ملزمان سے تفتیش ادھوری ہے اور انہوں نے مقتولہ کو غلط انجکشن لگایا جس سے عصمت کی موت واقع ہوئی، اسپتال کا ڈاکٹر فرار ہوگیا جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

دریں اثنا وکلا نے ملزمان کی فوٹیج بنانے سے میڈیا کو روکا جس پر عصمت کے اہل خانہ اور وکلا کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔

صوبائی وزیر ترقی نسواں شہلا رضا کا نوٹس

صوبائی وزیر ترقی نسواں شہلا رضا نے نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی کورنگی سے رابطہ کرکے تفصیلات طلب کرلیں اور والدین سے رابطہ کرکے ہمدردی کا اظہار کیا اور والدین کو اپنی مدد کی یقین دہائی کرائی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔