مردم شماری کے نتائج اور کراچی (پہلا حصہ)

کشور زہرا  منگل 23 اپريل 2019

اطلاعات ہیں کہ ملک میں کی گئی چھٹی مردم شماری جو مارچ 2017 میں ہوئی تھی اس کے نتائج ابھی تک جاری نہیں کیے جاسکے ہیں جب کہ مردم شماری کے عبوری نتائج جو محکمہ شماریات نے 2017 میں جاری کیے تھے وہ حتمی نہیں تھے۔ باوجود اس کے کہ مردم شماری کے مکمل یا جزوی نتائج جو 2018 میں جاری کرنا ضروری تھے وہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق 2019 میں بھی جاری نہیں کیے گئے۔

ظاہر ہے اس صورتحال میں عوام اور سیاسی جماعتوں میں بے چینی کا پیدا ہونا یا پھر عبوری نتائج پر شک و شبہ ظاہر کرنا اور عوام کے ذہنوں میں سوالات کا ابھرنا ایک فطری امر ہے۔ مردم شماری کے حتمی نتائج میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے اس کے بارے میں محکمہ شماریات نے ابھی تک کوئی وضاحت پیش نہیں کی ہے۔

دوسری جانب ملک بھر میں بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے چہ میگوئیاں شروع ہوچکی ہیں جو یقینا اس سال کے آخر میں یا آیندہ مالی سال کے اندر متوقع ہوتے نظر آرہے ہیں گوکہ بعض صوبے اپنی مالی و سیاسی ترجیحات کو مد نظر رکھ کر فیصلے کریں گے لیکن بل آخر بلدیاتی الیکشن کو تو ہونا ہی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے مقامی حکومتوں کا قیام عمل میں آتا ہے۔

جس سے قومی یکجہتی کے علاوہ ملک میں جمہوری نظام کے استحکام کو تقویت پہنچتی ہے اور اس رونما ہونے والے زمینی حقائق کی وجہ سے سیاسی ابتدائی عمل کی بدولت قابل ذکر انتظامی، سیاسی اور پرعزم صلاحیتوں کے حامل افراد عوام کے سامنے نکل کر آتے ہیں جو ملک و قوم کی فلاح و بہبود کے کاموں کو پایہ تکمیل تک لے جانے کی سعی میں اپنا کردار بخوبی ادا کرتے ہیں اور یہیں سے صوبائی اور قومی سطح کی قیادت بھی ابھر کر سامنے آتی ہے جیسا کہ 1987 میں ایم کیو ایم کی بھاری کامیابی بھی اسی وجہ سے ظہور پذیر ہوئی تھی کہ وراثت میں حاصل ہوئی لیڈرشپ عوام کے مسائل سے ناآشنا تھی اس لیے عوام نے اپنے ہی گلی کوچوں کے لوگوں کو منتخب کرکے ایک تاریخ رقم کی تھی۔ ملک کے پارلیمانی ایوانوں میں اکثریت آج بھی ایسے نمایندوں کی ہے جو بنیادی طور پر بلدیاتی سطح کی سیاست سے نکل کر آئے ہیں۔ یہ سب عمل تسلسل سے جاری ہے تو جمہوریت مضبوط اور اپنے ثمرات عوام تک پہنچانے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔

محکمہ شماریات کی جانب سے ملک میں ہونے والی چھٹی مردم شماری کے مکمل اور حتمی نتائج اگر جاری نہیں کیے گئے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ قوم کی انفرادی سوچ سے لے کر اجتماعی سطح تک غیر یقینی کا اثر پڑ سکتا ہے اور اس کے ساتھ جمہوری اداروں پر عوام کا اعتماد بھی کم ہوجانا لازمی ہے جو ایک منفی تاثر بن کر ابھرے گا گوکہ بند کمروں میں ہونے والے فیصلے ہی دراصل ملک و قوم کی امنگوں کے خلاف تسلیم کیے جاتے ہیں یہ تاثر عوام اور بعض سیاسی جماعتیں عمومی طور پر بیان کرتی رہی ہیں۔

حکومتی ذرایع سے جو معلومات دستیاب ہیں ان کے مطابق مردم شماری کے ضمن میں 10 بلاکوں کی تفصیل اور 5 فیصد سیمپل سروے جو ایم کیو ایم کا مردم شماری کے حوالے سے ایک بنیادی مطالبہ تھا اسے اب تک محکمہ شماریات نے بالکل نظرانداز کردیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی باور کروا دیا ہے کہ ان کی طرف سے مردم شماری کا کام مکمل ہوچکا ہے تاہم اب ایک اہم بات یہ کہ حکومت کی حلیف جماعتوں کے داخلی مسائل ہوں یا جوڑ توڑ کی کوششیں وجہ جو بھی ہو اس کو ’’مشترکہ مفادات کونسل‘‘ سے حتمی منظوری وفاقی حکومت کے لیے کیا ایک سوالیہ نشان ہوگی۔

ماضی قریب کی مردم شماری کے نتائج کے بعد یاحالیہ تناظر میں ایم کیو ایم کی جانب سے ایک اصولی موقف بیان کیا جاچکا ہے کہ کراچی کی آبادی کامکمل شمار نہیں کیا گیا ہے اس بات کی تائید کراچی میں سیاست کرنے والی تمام جماعتیں اور گروپوں کے علاوہ سماجی اور کاروباری تنظیمیں بھی اس سلسلے میںمتعدد بار اپنی تشویش کا اظہار کرچکی ہیں جب کہ 5 فیصد سروے سیمپل کو ابھی تک نظرانداز کیا گیا ہے جو ایک لمحہ فکریہ ہے کیونکہ وفاقی سطح پر ملک کی قومی اسمبلی نے قرارداد منظور کرکے اس پر اپنی متفقہ رائے دی تھی کہ سروے کروایا جائے گا۔ مردم شماری کا براہ راست اثر ووٹرز کی تعداد پر پڑتا ہے جو پارلیمنٹ کی نشستوں میں کم یا زیادہ کا تعین کرنے کے لیے ایک بنیادی پیمانہ قرار دیا جاتا ہے۔ ایک کثیرالاشاعت اخبار نے اطلاع دی ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں ستمبر 2018 سے یکم اپریل 2019 تک صرف سات ماہ کے دوران حیران کن طور پر پانچ لاکھ اکتیس ہزار ایک سو تراسی ووٹرز کا اضافہ ہوا ہے۔ (یاد رہے ابھی تک یہ صوبے کی مجموعی تعداد ہے اور اس میں کسی خاص ضلع کا کوئی ذکرنہیں)

مردم شماری کے منفی نتائج کا اثر معاشی حب کراچی کے ترقیاتی بجٹ کے علاوہ یوٹیلیٹی سروسز کے حوالے سے حاصل ہونے والی ترجیحات کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی شہر کراچی جو دنیامیں اپنا ایک اعزازی مقام بنانے میں کامیاب ہے دنیا کے ان ممالک کی فہرست کی ترتیب میں اس کانام متاثر ہوسکتا ہے جہاں آج یہ اپنے نام کے ساتھ موجود ہے پھر کراچی کے نوجوان جو اس ملک کاایک قیمتی انسانی سرمایہ ہیں ان کے تعلیمی، معاشی،فلاحی اور ایسے سیاسی مفادات جو آئینی اور قانونی طور پر کہ انھیں حاصل ہیں مزید ان کے حصول میں بھی کمی آسکتی ہے۔ بلدیاتی، صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں میں رد و بدل بھی ہوسکتا ہے۔

جس کی وجہ سے پارلیمنٹ کی نشستوں کا کم ہونا بھی احساس محرومی کو فروغ دے گا جو نوجوانوں کے ذہنوں کو منتشر کردے گا جب کہ صوبائی اور وفاقی ملازمتوں میں فرق آ جانا لازمی ہے بلکہ فراہمی آب اور حاصل ہونے والی قومی معیشت کے حصے میں شرح کا تبادلہ بھی یقینی متوقع ہے۔ جو قومی یکجہتی کے علاوہ ملک کی سالمیت اور استحکام پاکستان کے لیے ناپائیداری پیدا کرے گا لہٰذا ایسے فیصلے جن کی افادیت نہ ہو ان کو کرنے سے پہلے سمجھنا اور جاننا ضروری ہے کہ عوام ان اقدامات کو کیسے دیکھیں گے۔

میں سمجھتی ہوں کہ قومی مفادات، ملی یکجہتی اور مساوات کے لیے توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ آئین و قانون کے ساتھ ساتھ انصاف کا حصول اصولی طور پر ہونا لازمی ہو جو انسانی آنکھ کو نظر بھی آئے اور اس کے ساتھ یقین کے زمرے میں بھی پورا اترے۔

(جاری ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔