پنجاب بھر میں بھکاری بچوں کی تعداد میں 20فیصد کمی ہوئی

رمیز خان  بدھ 24 اپريل 2019
لوگوں کی سخاوت ان بچوں کے حق میں نقصان دہ ثابت ہوتی ہے، سربراہ بیورو سارہ احمد۔ فوٹو: فائل

لوگوں کی سخاوت ان بچوں کے حق میں نقصان دہ ثابت ہوتی ہے، سربراہ بیورو سارہ احمد۔ فوٹو: فائل

 لاہور: چائلڈ بیورو کی سربراہ سارہ احمد نے کہا ہے کہ صوبہ بھر سے 634 بچوں کو اس لعنت سے چھٹکارا دلایا گیا ہے، بھکاری بچوں میں 20 فیصد کمی آئی ہے۔

سڑک کنارے بھیک مانگنے والوں بچوں سے نظریں چرانا دل گردے کا کام ہے،جب وہ کہیں نڈھال کر دینے والی گرمی میں اور کہیں جما دینے والی سردی میں لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلا رہے ہوتے ہیں،ایسے میں آپ کا دل مجبور کر دیتا ہے کہ کچھ پیسے ان بچوں کو ضرور دیے جائیں تاہم بچوں کی نگہداشت پر مامور سرکاری افسروں کے نزدیک آپ کی یہ سخاوت ان بچوں کے حق میں نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

چائلڈ بیورو کی سربراہ سارہ احمد نے بتایا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی ہدایت پر بھکاری بچوں کے خلاف گزشتہ ماہ سے ایمرجنسی بنیادوں پر آپریشنز جاری ہیں،اس عفریت کے خاتمہ کیلئے پنجاب کے 8 اضلاع میں ہفتہ میں چار دن آپریشنز جاری ہیں،صوبہ بھر سے 634 بچوں کو اس لعنت سے چھٹکارا دلایا گیا ہے، بھکاری بچوں میں 20 فیصد کمی آئی ہے،اس کے علاوہ والدین کو اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کیلئے مراعات دینے کی پالیسی پر بھی عمل پیرا ہیں۔

چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ایک افسر نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ان بچوں کو دیے جانے والے پیسے عام طور پر کسی بہتر مقصد پر خرچ نہیں ہوتے،محض قوانین کا اطلاق ہی مسئلہ کا حل نہیں،بچوں کے بھیک مانگنے پر قدغن لگانا مشکل کام ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔