محمود نے 300 سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے

کلچرل رپورٹر  بدھ 21 اگست 2013
اداکار محمود، ڈائریکٹر، پروڈیوسر، کامیڈین اور بہترین رقاص تھے۔ فوٹو: فائل

اداکار محمود، ڈائریکٹر، پروڈیوسر، کامیڈین اور بہترین رقاص تھے۔ فوٹو: فائل

کراچی: بھارتی فلم انڈسٹری میں اپنے بہترین اور منفرد انداز سے پہچان بنانے والے چند ہی فنکار ہیں کہ جنھوں نے اپنے شعبہ میںشہرت حاصل کی جب بھی بالی ووڈ میں مزاحیہ اداکاری کی تاریخ لکھی جائے گی اس میں اداکار محمود کا نام سر فہرست ہوگا۔

مزاحیہ اداکار محمود، ڈائریکٹر، پروڈیوسر، کامیڈین اور بہترین رقاص تھے،انھوں نے 300سے زائد فلموں میں اداکاری کرکے مزاحیہ اداکار کے طور پر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا، محمود کی فیملی کے زیادہ لوگ شو بزنس سے وابستہ رہے، ان کے والد ممتاز علی فلم ٹی وی اور اسٹیج کے ادکار اور ڈانس ڈائریکٹر تھے،ان کی ایک بہن مینو ممتازبالی ووڈ ایکٹریس اور ڈانسر تھیں، ان کے چھوٹے بھائی انور علی اداکار اور پروڈیوسر تھے،ادکار محمود نے بطور چائلڈ ا فلم ’’قسمت‘‘ سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا،انھوں نے ادکاری سے جنون کی حد تک لگائو کی وجہ سے فلم انڈسٹری کے بہت سے لوگوں کے ہاں ملازمت بھی ،انھوں نے مشہور ڈائریکٹر پی ایل سنتوشی کے ہاں بطور ڈرائیور ملازمت اختیار کی،ان کے صاحبزادے راجکمار سنتوشی نے انھیں اپنی فلم’’انداز اپنااپنا‘‘ میں کاسٹ کرلیا۔

مشہور ادکارہ مینا کماری کو ٹیبل ٹینس سکھانے پر مامور ہوئے اور پھر ان کی بہن مدھو سے ان کی شادی ہوگئی،شادی اور بیٹے کی پیدائش کے بعد بعد انھوں نے اداکاری کا باقاعدہ ذریعہ معاش بنا لیا۔ 29 ستمبر 1932 کو ممبئی انڈیا میں پیدا ہونے والے اداکار محمود فلم’’ سی آئی ڈی‘‘ میں کام کرکے شہرت ملی، اس فلم میں انھوں نے ایک قاتل کا کردار ادا کیا تھا،انھوں نے بیشتر فلموں میں مختصر کردار ادا کیے جو توجہ کا مرکز نہیں بنے،’’دو بیگھ زمین‘‘ اور’’ پیاسا‘‘ میں انھوں نے معمولی نوعیت کے کردار ادا کیے اور اس کے بعد انھیں لیڈنگ رول میں کاسٹ کیا جانے لگا،مزاحیہ فلموں سے ان کو عروج ملا، ان کی فلم ’’بھوت بنگلہ‘‘ بطور ڈائریکٹر، ایکٹرکامیاب فلم تھی، جس میں تنوجہ نے ان کے ساتھ کردار ادا کیا تھا۔

ان کی سپر ہٹ فلموں میں آنکھیں، لو ان ٹوکیو، جوہر محمود ان گوا،ممبئی ٹو گوا، پیار کیے جا وہ فلمیں تھیں کہ جنھوں نے ان کو شہرت کی بلندی پر پہنچا دیا اور وہ 1965 سے 1975 تک بھارتی فلم انڈسٹری کے سب سے کامیاب ادکار کے طور پر مقبول ہوئے،انھیں ان فلموں کی کامیابی کے بعد سب سے زیادہ اہمیت دی جانے لگی،1972میں ’’ممبئی ٹو گواہ‘‘ ڈائریکٹ کی جس میں امیتابھ بچن نے کردار ادا کیا تھا،اس فلم کے بعد امیتابھ بچن پر کامیابی کے دروازے کھلتے چلے گئے لیکن1970میں ان کی مقبولیت میں کمی آنی شروع ہوگئی تھی،1994میں ان کی آخری فلم’’ انداز اپنا اپنا‘‘ تھی جس میں سلمان خان اور عامر خان نے کردار ادا کیے تھے۔

مینا کماری کی بہن مدھو سے شادی اور پھر طلاق کے بعد انھوں نے دوسری شادی ٹریسی علی نامی خاتون سے کی جس سے ان کے سات بچے ہیں، جس میں مشہور گلوکار لکی علی فن گائیکی میں شہرت رکھتے ہیں،ادکار محمود 23 جولائی 2004 میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد وہ امریکا میں انتقال کرگئے، سلور اسکرین پر ادکار محمود کا کیا ہوا کام ان کے پیشرو نے اپنایا اور زبردست شہرت حاصل کی ان کا شمار بھارتی فلم انڈسٹری کے لیجنڈ ادکاروں میں ہوتا ہے،ان کے کیے ہوئے بہترین کردار نئے آنے والوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔