آپریشن کے ذریعے پیدائشی جنس کا نقص ختم کیا جاسکتا ہے، ماہرین

آصف محمود  جمعرات 25 اپريل 2019
پیدائشی نقص کا شکاربچے خواجہ سرا ہوتے ہیں جن کا علاج ممکن ہے، عنصرجاوید

پیدائشی نقص کا شکاربچے خواجہ سرا ہوتے ہیں جن کا علاج ممکن ہے، عنصرجاوید

 لاہور: ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پیدائشی نقص کی وجہ سے بعض اوقات بچے کی جنس واضع نہیں ہوپاتی لیکن اس نقص کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ 

حسین کی بڑی بہن 10 سالہ بختاوربھی اسے مرحلے سے گزرچکی ہے اوراب ایک صحت مند لڑکی کی طرح زندگی گزاررہی ہے، دونوں بچے اپنے والد اور والدہ کے ہمراہ چلڈرن لائبریری لاہورمیں برتھ ڈیفیکیٹ فاؤنڈیشن کے زیراہتمام ایک سیمینار میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ ان بچوں کے والد ملک صابرعلی ایک باریش نوجوان ہیں ، انہوں نے بتایا کہ ان کے پانچ بچے ہیں ، بڑے تین بچے نارمل تھے لیکن جب بختاورپیدا ہوئی تواس کی جنس واضع  نہیں تھی ، ہمیں اسی وقت ڈاکٹرنے مشورہ دیا کہ اس کا چیک اپ کروائیں ، لاہورکے چلڈرن اسپتال میں ہم نے اس کا چیک اپ کروایا، مختلف ٹیسٹ ہوئے، دو ہفتوں بعد ڈاکٹروں نے بتایا کہ یہ بچی ہے، چند ہفتے بعد ہی اس کا آپریش ہوگیا اورآج ماشااللہ اس کی بیٹی 10 سال کی ہوچکی ہے اور بالکل صحت مند اورتندرست ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بختاورکی پیدائش کے بعد جب ان کے ہاں پانچواں بچہ ہوا تواس کی بھی جنس واضع نہیں تھی، میں اس کے بھی ٹیسٹ کروائے ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ اس کا آپریشن نہ کرواؤں بلکہ تھوڑا بڑاہونے پراس کی جنس واضع ہوجائیگی۔ انہوں نے اس بچے کا نام حسین رکھا جواب سات سال کا ہے ، اس کی تمام حرکات ، بول چال لڑکوں جیسے ہیں لیکن ڈاکٹرکہتے ہیں کہ اس کے اندرونی اعضا لڑکیوں جیسے ہیں جب کہ اب لڑکے کی علامتیں پیدا ہورہی ہیں، اب میں نے اس کے آپریشن کا فیصلہ کیا ہے چند ہفتوں میں واضع ہوجائیگا کہ حسین لڑکارہے گا یا لڑکی بن جائیگا۔

ملک صابرعلی نے بتایا کہ اسے اپنے بچوں کی وجہ سے لوگوں کے طعنے اورباتیں سننا پڑیں، یہ بتاتے ہوئے اس کی آنکھیں نم ہوگئیں، صابرعلی نے رندھی ہوئی آوازمیں کہا دوسروں کو تومیں اپنے بچوں سے متعلق کچھ نہیں کہنے دیتا لیکن جب اپنے بات کرتے ہیں تو کلیجہ چیردیتے ہیں، ملک صابرکی بیٹی بختاورنے بتایا کہ وہ پڑھ لکھ کرفوجی بننا چاہتی ہے کیونکہ اسے فوجی اچھے لگتے ہیں جب کہ حسین ڈاکٹربننے کا خواہش مند ہے۔

اس تقریب میں ہماری ملاقات 14 سالہ عبداللہ سے بھی ہوئی ، عبداللہ شیراکوٹ لاہورکا رہائشی ہے ، یہ بچہ 13 سال تک لڑکی کی طرح زندگی گزارتا رہا، لڑکیوں کے اسکول میں پڑھتا تھا جب کہ اس کا نام بھی کنزی تھا۔ ایک سال قبل اس کے پیٹ میں دردہونا شروع ہوا، اس وقت مختلف ٹیسٹ کروائے گئے تویہ انکشاف ہوا کہ کنزی، لڑکی نہیں لڑکا ہے اورپھراس کا آپریشن کرکے اسے لڑکا بنادیا گیا۔ اس کے بول چال اور برتاؤ میں ابھی لڑکیوں کی جھلک دکھائی دیتی ہے تاہم ایک دوسال میں وہ مکمل لڑکا بن جائیگا۔

ڈاکٹروں کے مطابق پیدائشی نقص کی وجہ سے بعض اوقات بچے کی جنس واضع نہیں ہوپاتی، ماں باپ روایتی شرم وحیا کی وجہ سے کسی کو بتاتے نہیں ہیں اوربچے جیسے جیسے بڑے ہوتے جاتے ہیں اس کے اندرلڑکے اورلڑکیوں دونوں خصلتیں بڑھتی جاتی ہیں۔ ایسے بچے پھرخواجہ سرا بن جاتے ہیں۔

پیدائشی نقص کا علاج کرنیوالی این جی او کے چیئرمین عنصرجاوید کہتے ہیں ایسے ماں باپ خود کے ساتھ اوراپنے بچے کے ساتھ ظلم کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں غیر مصدقہ اعداد وشمار کے مطابق خواجہ سراؤں کی تعداد پانچ لاکھ بتائی جاتی ہے تاہم حقیقتا اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے اوراس میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں ٹرانس جینڈر اور پیدائشی جنسی نقص کا شکارافراد میں فرق کرنا ہوگا۔ ٹرانس جینڈر وہ ہیں جن کی جنس واضع ہے لیکن وہ مخالف جنس کا روپ اختیارکرلیتے ہیں لیکن پیدائشی نقص کا شکاربچے خواجہ سرا ہوتے ہیں جن کا علاج ممکن ہے۔

عنصرجاوید نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں خواجہ سراؤں کے حقوق کے حوالے سے 2018 میں بننے والے قانون میں بھی ترمیم کی ضرورت ہے۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی فرد نادرا کے سامنے یہ کلیم کرسکتا ہے کہ وہ خواجہ سرا ہے اوراسے خواجہ سرا کے طورپررجسٹرڈ کرلیا جاتا ہے، قانون میں تبدیلی کرکے کے  خود کوخواجہ سرارجسٹرڈکروانے والوں کو پابند کیاجائے کہ وہ کسی مستند لیبارٹری اورادارے کی رپورٹ پیش کرے جو اسے خواجہ سرا ثابت کرے۔ اس سے درست اعداد وشماربھی سامنے آسکیں کہ پاکستان میں خواجہ سراؤں کی درست تعداد کتنی ہے جب کہ ان کا علاج بھی ممکن ہوسکےگا۔ عنصرجاوید کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں لاہوراورقریبی اضلاع سے تعلق رکھنے والے 130 بچوں اوربڑوں کولڑکا یا لڑکی بنائے جانے کے حوالے سے  کامیاب آپریشن ہوچکا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔