ایک عجوبہ ایسا بھی…!! عطا آباد جھیل کے بننے اور اس کے بعد کی کہانی ایک عینی شاہد کی زبانی

ایکسپریس اردو  جمعـء 6 جولائ 2012
کبھی یہاں ایک گائوں ہوا کرتا تھا، اب یہاں ایف ڈبلیو او کا دفتر ہے اور اسپل وے پر کام ہو رہا ہے۔فوٹو ایکسپریس

کبھی یہاں ایک گائوں ہوا کرتا تھا، اب یہاں ایف ڈبلیو او کا دفتر ہے اور اسپل وے پر کام ہو رہا ہے۔فوٹو ایکسپریس

پہاڑسرک رہے تھے، صبح چھ اور سات کا عالم تھا،یہ سلسلہ تیز ہونے لگا اور پہاڑ تیزی سے سرکنے لگے، یہاں کے لوگ، پہاڑوں کی خوش خرامی سے آشنا تھے، لیکن یہ پیش قدمی اور طرح کی تھی، دسمبر 1858 میں بھی تودہ گرا تھا اور اِسی جگہ بالکل اسی جگہ جھیل بن گئی تھی، وہ جھیل آٹھ ماہ تک بنی رہی تھی، پانی جمع ہوتا رہا، جولائی 1859 میں یہ قدرتی بند ٹوٹا۔ یہ بات یہاں کے رہنے والوں نے اپنے بزرگوں سے سنی تھی، وہ کہتے ہیں کہ پانی کا اتنا زور تھا کہ اِس نے دریائے کابل کے پانی کو پانچ کلومیٹر تک واپس دھکیل دیا تھا۔ یہ باتیں دیومالائی قصہ دکھائی دیتی ہیں لیکن حقیقتاً ایسا ہوا تھا۔

تصور کریں کشتی ششکٹ گائوں کی طرف بڑھ رہی ہے، جھیل میں جابجا پودے نظر آرہے ہیں، جان جالیں کہ یہ درخت سفیدے کے ہیں اور یہ ان درختوں کی اوپر والی شاخیں ہیں۔ سفیدے کے پودے ڈیڑھ سے دو سو فٹ اونچے ہوتے ہیں، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عطا آباد جھیل کتنی گہری ہے۔ کہا جاتا ہے حکومت کی طرف سے باقاعدہ گھر چھوڑنے کا نہیں کہا گیا تھا، لیکن جب رات کو جھیل کا پانی پہاڑوں کو کاٹتا تو تودے تیزی سے گرتے اور اس شور سے خوف پیدا ہوا اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف جانے لگے۔

کبھی یہاں ایک گائوں ہوا کرتا تھا، اب یہاں ایف ڈبلیو او کا دفتر ہے اور اسپل وے پر کام ہو رہا ہے۔ گوجال تحصیل کے دو اور گائوں، آئینہ آباد اور ششکٹ مکمل طور پر زیرآب آ گئے۔ گلمٹ گوجال تحصیل کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے، جو اِس قدرتی جھیل کا نشان بنا ہے۔ عینی شاہد بتاتے ہیں کہ پانی کی ہیبت اور طاقت کا اندازہ اُس وقت ہوا جب پہاڑ کے ایک کنارے پر گڑھا پڑا اور اِس میں سے پانی کی تیز دھار نکلی اور دیکھتے ہی دیکھتے تین چار فٹ کے حصے میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئیں اور کنارا پانی میں ڈوب گیا، اس کے بعد خوف کا پھن پھیلانے لگا اور لوگوں نے محسوس کیا کہ بہت جلد اِس قدرتی بند کو بھی پانی کھا جائے گا۔ ایک سوال عام طور پر کیا جاتا ہے، کہ پہاڑ کیوں سرکتے ہیں، ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ سارا علاقہ زلزلوں کے بنیادی مراکز کے عین اوپر واقع ہے، گویا اِس کے نیچے سے فالٹ لائن گزرتی ہے۔ جب ہم آتش فشاں پہاڑوں کی چوٹیوں پر مکان بنائیں گے تو زلزلے ہمارا مقدر ہوں گے۔ اِن پہاڑوں کی دشوار گزار چوٹیوں پر بھی مکان دکھائی دیتے ہیں، دور سے دیکھیں تو یہ گھر تارا لگتے ہیں، گویا کھلی آنکھ سے دیکھنا مشکل ہوتا ہے یہاں کی یہ رِیت ہے، لوگ اِن چوٹیوں سے شناسا ہیں اور اِن کی دوستی، پہاڑوں جیسی مضبوط اور پرانی ہے۔ یہ ایک الگ قصّہ ہے، پہلے پہل لوگ اِسے خدا کی نشانیاں کہا کرتے تھے اور یہ بھی کہا جاتا تھا کہ خدا بندے سے ناراض ہے اور اپنی ناراضی کا اظہار کر رہا ہے، بہ ہرحال یہ دیومالائی کہانیاں ہیں جن کے ساتھ جڑی ہوئی کئی ایک داستانیں بھی ہیں، جن کا یہ محل تو نہیں، پھر بھی عام دل چسپی کے باعث کچھ باتیں عرض کرتے ہیں۔ تحقیق کے باب اس وقت نہیں کھلے تھے، مختلف ادوار میں مختلف اقوام زلزلوں سے متعلق عجیب و غریب نظریات رکھا کرتی تھیں، کسی قوم کا نظریہ تھا کہ ایک بڑی چھپکلی زمین کو اپنی پشت پر اٹھائے ہوئے ہے اور اس کے حرکت کرنے کی وجہ سے زمین ہلتی ہے، مذہبی عقیدے کی حامل قوم کا یہ خیال تھا کہ خدا اپنے نافرمان بندوں کو زمین ہلا کر ڈراتا ہے، اسی طرح ہندو دیومالائی تصور یہ تھا کہ زمین کو ایک گائے نے اپنے سینگوں پر اُٹھا رکھا ہے اور جب وہ تھک کر سینگ بدلتی ہے تو اس کے نتیجے میں زمین ہلتی ہے، جب کہ ارسطو اور افلاطون کے نظریات کچھ اور طرح ہیں، جن کے مطابق، زمین کی تہوں میں موجود ہوا جب گرم ہو کر زمین کی پرتوں کو توڑ کر باہر آنے کی کوشش کرتی ہے، تو زلزلے آتے ہیں۔سائنس کی ترقی کے ساتھ ساتھ علمی تحقیق کے دروازے کھلے اور ہر نئے سانحے کے بعد اس کے اسباب کے بارے میں جاننے کی جستجو نے پرانے نظریات کی نفی کر دی، بہت سی قدرتی آفات سے پہلے اطلاع ہو جاتی ہے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے باعث کافی بڑے جانی و مالی نقصانات سے بچا جا سکتا ہے، مثلاً سمندر میں بننے والے خطرناک طوفانوں، ان کی شدت اور زمین سے ٹکرانے کی مدت کا تعین ، اس سے بچائو کی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں، مگر زلزلے کی آمد نہایت خاموشی سے ہوتی ہے اور پتا اُس وقت چلتا ہے جب وہ اپنے پیچھے تباہی اور بربادی کی ایک داستان چھوڑ جاتا ہے۔ بے شک ایسے آلات ایجاد ہو چکے ہیں جو زلزلے کے بعد اس کی شدت، اس کے مرکز اور آفٹر شاکس کے بارے میں معلومات فراہم کر دیتے ہیں۔ ماہرین ارضیات نے زلزلوں کی دو بنیادی وجوہات بیان کی ہیں، ایک وجہ زیر زمیں پلیٹوں میں ٹوٹ پھوٹ اور دوسری، آتش فشاں کا پھٹنا ، زمین کی بیرونی سطح کے اندر مختلف گہرائیوں میں زمینی پلیٹیں ہوتیں ہیں، ان پلیٹوں کے نیچے ایک پگھلا ہوا مادہ، جسے میگما کہتے ہیں، موجود ہوتا ہے، میگما کی حرارت کی زیادتی کے باعث زمین کی اندرونی سطح میں کرنٹ پیدا ہوتا ہے، جس سے ان پلیٹوں میں حرکت ہوتی ہے اور وہ شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ٹوٹنے کے بعد پلیٹوں کا کچھ حصہ میگما میں دھنس جاتا ہے اور کچھ اوپر اُبھر آتا ہے، جس سے زمیں پر بسنے والی مخلوق، سطح پر ارتعاش محسوس کرتی ہے۔ زلزلے کی شدت اور دورانیہ کا انحصار میگما کی حرارت اور اس کے نتیجے میں پلیٹوں میں ٹوٹ پھوٹ کے عمل پر منحصر ہے۔

اسی طرح جب آتش فشاں پھٹتے ہیں تو لاوا پوری شدت سے زمین کی گہرائیوں سے سطح زمین کی بیرونی تہوں کو پھاڑتا اور خارج ہوتا ہے، جس سے زمین کی اندرونی پلیٹوں میں شدید قسم کی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ لہریں زیرزمین تین سے پندرہ کلومیٹر فی سیکنڈ کے حساب سے سفر کرتی ہیں اور ماہیت کے حساب سے چار اقسام کی ہوتی ہیں، ان کی درجہ بندی بھی کی گئی ہے، دو لہریں زمیں کی سطح کے ساتھ ساتھ سفر کرتی ہیں، جب کہ دیگر دو لہریں، جن میں سے ایک پرائمری ویو اور دوسری سیکنڈری ویو ہے، وہ زیر زمین سفر کرتی ہیں، پرائمری لہریں آواز کی لہروں کی مانند سفر کرتی ہوئی زیر زمین چٹانوں اور مایاجات سے بھی گزر جاتی ہیں، جب کہ سیکنڈری ویوز کی رفتار پرائمری ویوز کے مقابلے میں کم ہوتی ہے اور وہ صرف زیر زمین چٹانوں سے گزر سکتی ہے۔ سیکنڈری ویوز زمینی مائعات میں بے اثر ہوتی ہیں مگر وہ جب چٹانوں سے گزرتی ہے، تو ایل ویوز بنکر ایپی سینٹر یعنی مرکز کو متحرک کر دیتی ہیں اور زلزلے کا سبب بنتی ہیں۔ ایل ویوز جتنی شدید ہوں گی، اتنی ہی شدت کا زلزلہ زمین پر محسوس ہوگا۔ زلزلے اگر زیر سمندر آتے ہیں تو ان کی قوت سے پانی میں شدید طلاطم اور لہروں میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے اور کافی طاقت ور اور اونچی لہریں پیدا ہوتی ہیں، جو سطح سمندر پر پانچ سو سے ایک ہزار کلومیٹر کی رفتار سے بغیر ا پنی قوت اور رفتار توڑے ،ہزاروں میل دور خشکی تک پہنچ کر ناقابل یقین تباہی پھیلاتی ہیں، جس کی مثال 2004 کے انڈونیشیا کے زلزلے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سونامی سے لگائی جا سکتی ہے، جس کی لہروں نے ہندوستان اور سری لنکا جیسے دور دراز ملکوں کے ساحلی علاقوں میں بھی شدید تباہی پھیلائی تھی،اور جس کی گونج آج بھی متاثرہ علاقوں میں سنائی دیتی ہے۔ کہا جاتا ہے بہت دور، زمین کی تہوں میں کچھ ارتعاش ہوا اور کچھ کا خیال ہے کہ انسان پہاڑوں سے جو ’’چھیڑ خانی‘‘ کر رہا ہے یہ اسی کا شاخسانہ ہے، اس حوالے سے چین ، بھارت اور پاکستان کا نام لیا جاتا ہے۔ یہ باتیں افواہ کی طرح پھیلیں ان کا ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔

عطا آباد جھیل ،جی ہاں !یہ کوئی قدرتی جھیل نہیں ہے، بل کہ یہ جھیل اُس وقت وجود میں آئی جب 4 جنوری 2010 کوگلگت بلتستان کے ایک خوب صورت علاقہ، ہنزہ کے ایک گائوں عطا آباد کے مقام پر اچانک لینڈ سلائیڈ کے نتیجے میں پہاڑ سرکنے لگے اور اس سے ہنزہ دریا کا بہائو رُک گیا اور دریا نے ایک مصنوعی جھیل کی شکل اختیار کرلی۔لینڈ سلائڈینگ کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد جاں بحق اور 6000 افراد بے گھرہوئے جب کہ 25000 سے زیادہ افراد جھیل بننے سے متاثر ہوئے۔ اس کے علاوہ شاہراہ قراقرم کا 19 کلومیٹر طویل حصہ بھی اس جھیل میں ڈوب گیا۔ جھیل کے بننے سے ہنزہ کے تمام علاقے ،خاص طور پر، ششکٹ، گلمت اور گوجال سب ڈویژن سب سے زیادہ متاثر ہوئے ،جہاں 170 سے زیادہ مکانات اور 120 سے زیادہ دکانیں سیلاب کا شکار ہوئیں۔ شاہراہِ قراقرم کے بند ہونے کی وجہ سے ہنزہ ریجن میں خوراک اور دیگر ضروری ساز و سامان کی قلت ہوگئی۔یہ جھیل بننے کی وجہ سے سوست بارڈر کے ذریعے پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بھی کافی حد تک متاثر ہوئیں۔اس جھیل کی وجہ سے اَپر ہنزہ کا ملک کے دیگر شہروں سے زمینی رابطہ مکمل طور پرمنقطع رہا، لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے، جب کہ دوسری طرف ماہرین اور حکومتی ذمے داران کی جانب سے جھیل میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ کے باعث بند کے ٹوٹنے سے متعلق میڈیا پر بیانات نے لوئر ہنزہ کی مقامی آبادی کو عرصہ تک شدید خوف وہراس میں مبتلا رکھا۔انتظامیہ نے اسی خطرے کے پیش نظر عطا آباد اور نشیبی علاقہ کے رہایشیوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرانے کے لیے کئی بار ہنگامی ڈیڈ لائن دینا پڑی اور ان کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے بھی انتظامات کیے گئے،مقامی آبادی کو نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ کے زیر اہتمام ہیلی کاپٹر سروس کے ذریعے محفوظ مقامات پربنائے گئے کیمپوں میں منتقل کیا گیا اور صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی۔لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریوں اور جھیل ٹوٹنے کے خطرے کا جائزہ لینے اور متاثرین سے اظہار یکجہتی اور ہمدردی کے لیے اس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی ،مسلم لیگ (ن) کے سربراہ، میاں نواز شریف ،وزیر اعلیٰ پنجاب، شہباز شریف،مسلم لیگ (ق) کے سربراہ، چوہدری شجاعت حسین،صدر اور وزیر اعظم آزاد کشمیر،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ سمیت کئی ملکی اور غیر ملکی تنظیموں کے نمائندوں اور سیاسی رہنمائوں نے عطا آباد کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے ساتھ ساتھ تعمیر نو اور بحالی کے کاموں کے لیے مالی امداد کے اعلانات بھی کیے گئے۔جھیل میں پانی کی سطح میں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ اور ماہرین نے جھیل سے پانی کے اخراج کے لیے اسپل وے بنانے کی حکمتِ عملی بنائی اوراس کام کے لیے ایف ڈبلیو او کے ساتھ معاہدہ کیا گیا، معاہدے کے تحت حکومت نے ایف ڈبلیو او کو ٹاسک دیاکہ وہ 415 میٹر لمبا، 40 میٹر چوڑا اور20 میٹر گہرا سپل وے بنایا جائے تاکہ جھیل سے پانی مسلسل خارج ہوتا رہے ، ایسا اس لیے کیا گیا کہ اس طرح جھیل کی سطح میں کمی آنے کا امکان تھا۔ایف ڈبلیو او نے دھماکا خیز مواد کے ذریعے اسپل وے پر کام شروع کیا، جس سے کئی ہزار کیوسک پانی خارج ہوگیا۔اس دوران زمینی کٹائو کے باعث اسپل وے ٹوٹنے کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا تھا۔ ممکنہ سیلاب کے پیشِ نظر مزید کئی آبادیاں خالی کرا لی گئیں، تمام حفاظتی انتظامات مکمل کرکے انتظامیہ نے علاقے میں کنٹرول روم قائم کر دیا، علاقے کی ہیلی کاپٹروں سے نگرانی کی جاتی رہی۔ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا تھا کہ گرمی کی لہر برقرار رہنے کے باعث پانی کی آمد میں مزید اضافہ ہوگا،جس کی وجہ سے پانی کا بڑا ریلہ آئے گا ۔ پانی کے اس بڑے ریلے سے چٹانیں کسی بھی وقت ہٹ سکتی ہیں، اور اسپل وے سے گزرنے والے پانی کے اس بڑے ریلے سے نہ صرف لوئر ہنزہ ، بل کہ مانسہرہ تک کے وہ دیہات جو دریا کے نزدیک ہیں نہ صرف انہیں بل کہ تربیلا ڈیم کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے ۔انتظامیہ نے اس خطرے کے پیش نظر تمام نشیبی دیہاتوں کو خالی کرنے کا حکم جاری کیا۔تاہم نہ اسپل وے سے سیلابی ریلا گزرا اور نہ ہی بند ٹوٹا، جھیل اسی طرح قائم و دائم ہے۔حکومت نے ایف ڈبلیو او کو جو ٹاسک دیا تھا وہ پورا نہ ہو سکا۔ایف ڈبلیو او کی ناکامی کو دیکھتے ہوئے ہنزہ کے لوگوں نے اسپل وے کو چوڑا کرنے کا ٹھیکا چینی کمپنی کو دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن وفاقی حکومت اور گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت نے عطا آباد جھیل کے اسپل وے کا ٹھیکا ایک بار پھر 3 سال کے لیے ایف ڈبلیو او کو دینے کا فیصلہ کیا،حالاں کہ اس سے قبل متاثرینِ گوجال نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اسپل وے کے ٹھیکا کے لیے عالمی سطح پر ٹینڈر طلب کیا جائے اور بالخصوص ضلع ہنزہ اور نگر کے عوام کے وسیع تر مفاد میں اسپل وے بنانے کا ٹھیکا ہمسایہ ملک چین کو دیا جائے کیوں کہ عطا آباد سانحے کے بعد چین نے متاثرین کی ہر ممکن مدد کی تھی، لیکن صوبائی اور وفاقی حکومت نے متاثرین کے مطالبات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ٹھیکا ایک بار پھر ایف ڈبلیو او کو دے دیا۔ مقامی افراد نے اس معاملے پر احتجاج بھی کیا جس کے نتیجے میں مقامی انتظامیہ اور عمائدین علاقہ نے صدر اور وزیر اعظم کے نام خط لکھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایف ڈبلیو او، عطا آباد جھیل سے پانی کی سطح کو کم کرنے میںناکام رہا ہے، لہٰذا یہ ٹھیکا چینی کمپنی کے سپرد کیا جائے،کیوں کہ ان کے پاس جدید مشینری بھی ہے اور وہ اس کام کو بہتر طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچا سکتے ہیں،خط میں ایف ڈبلیو او کے کام کی رفتار سے متعلق بھی شدید تحفظات کا ذکر کیا گیا تھا۔اس مطالبے پرصدر نے چیف آف آرمی سٹاف کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیشن تشکیل دیا، جس کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ کمیشن جلد ہی گلگت بلتستان کا دورہ کرے، جہاں وہ جھیل میں پانی کی صورتِ حال،جھیل پر کام کی رفتار، ایف ڈبلیو اوحکام،حکومتی اراکین اور عوامی نمائندوں سے بات چیت کرکے فوراً رپورٹ پیش کرے، کمیشن میں اعلیٰ سو ل اور عسکری حکام کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے عوامی نمائندے بھی شامل کیے جائیں۔کمیٹی نے جھیل کا دورہ کیا لیکن بدقسمتی سے عوامی خواہشات کے برعکس ٹھیکا پھر ایف ڈبلیو او کے پاس رہنے دیا گیا، کہا جاتا ہے یہ سکیورٹی کا مسئلہ ہے۔ لوگوں کا مطالبہ تھا کہ چین کی ایک فرم، اسپل وے کو 6ہفتوں میں مکمل کرنے کے لیے تیار ہے اور وہ صرف ایک ارب روپے میں یہ کام مکمل کرے گی لیکن حکومت نے ٹھیکا انہیںدینے کے بجائے، ایف ڈبلیو او کو ڈیڑھ ارب روپے میں دے دیا، اور تین سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ایف ڈبلیو او جھیل سے پانی کو نکالنے میں ناکام رہا۔جھیل بننے اور شاہراہِ قراقرم کی بندش کی وجہ سے خنجراب ٹاپ کے ذریعے پاک چائنہ تجارت بھی شدید متاثر ہوئی۔ ایک سال بعد چینی صدر کے دورہ پاکستان کے دوران، جھیل کی بلندی کو 30 میٹر کم کرنے اور متبادل راستہ تیار کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان سمجھوتے دستخط ہوئے اورچینی حکومت نے اس سلسلے میں مکمل تعاون کرنے اور مالی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی جس کے بعد حکومت پاکستان نے جھیل سے متاثرہ ریجن میں، 17 کلو میٹر سڑک تعمیر کرانے اور 6 کلو میٹر پر مشتمل، 2 ٹنل اور 7 بڑے پلوں کی تعمیر کے لیے چین کی ایک فرم ’’چائنا روڈ اینڈ بریجز کنسٹرکشن کمپنی‘‘ سے معاہدہ کیا۔اس منصوبہ کا PC-1 تیار کرکے ’’سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی‘‘(CDWP)نے 14 جون 2011 کو ایک اجلاس میں اس کی منظوری دی، اب یہ کمپنی اس منصوبے پر تیزی سے کام کررہی ہے ۔جھیل کے بننے کی وجہ سے شاہراہ قراقرم پر جاری توسیعی منصوبہ بھی التوا کا شکار رہا۔ شاہراہ قراقرم پر جاری توسیعی کام 2012کے آخر تک مکمل ہونا تھا اس منصوبے کے لیے 510 ملین ڈالرکی رقم مختص کی گئی تھی، جس کے تحت خنجراب ٹاپ سے چلاس کے مقام پر رائیکوٹ بریج تک سڑک کی توسیع کرنا تھی تاہم عطا آباد جھیل کی وجہ سے یہ منصوبہ نہ صرف مقررہ وقت پر مکمل نہ ہو سکا بل کہ جھیل سے متاثرہ مقامات پر نئے سرے سے 6 کلومیٹرسڑک کی تعمیر اور 3 کلو میٹر ٹنل کی کھدائی اور اسپل وے کے ذریعے جھیل سے پانی کے اخراج کے لیے چائنہ کی ایک کمپنی کے ساتھ تقریبا 10 ارب روپے کا معاہدہ بھی کرنا پڑا۔رابطہ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے پاک چائنہ تجارت کشتی کے ذریعے جاری رہی ،تاہم حکومت کی جانب سے مناسب اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی اور تاجروں کو شدید مشکلات کا سامان رہا ،جھیل پر لوگوں نے پرائیویٹ کشتی سروس کا سلسلہ شروع کیا اور مرضی کے کرائے وصول کیے جانے لگے۔ کشتی بان فی سواری ایک طرف کا کرایہ 100 روپے جب کہ پوری کشتی کی بکنگ 10 ہزار اور سامان کی بکنگ 15ہزار روپے میں ہوتی رہی۔ ہنزہ میں مٹی کا تودہ گرنے سے عطا آباد کے علاقے میں بننے والی جھیل کے باعث پاکستان کا چین سے واحد زمینی راستہ، شاہراہِ قراقرم بند رہی اوراس وجہ سے پاکستان کو تجارت کے ذریعے ہونے والی آمدنی کو بھی شدید دھچکا لگا۔عطا آباد جھیل کے نئے اسپل وے کا عارضی بند، 27 فروری 2012 کو دھماکے سے اڑایا گیا۔کسی بھی ہنگامی صورت حال کے پیش نظر انتظامیہ نے ہنزہ نگر میں ہائی الرٹ کر کے ملحقہ آبادی کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ تمام تعلیمی اداروں کو بند رکھا ، پانی کی سطح میں خاطر خواہ کمی نہ ہونے کی وجہ سے ایک بار پھر ایف ڈبلیو او حکام نے 16 مئی کو اسپل وے کو دھماکے کے ذریعے اُڑا دیا، اس کے باوجود جھیل کی سطح میں کوئی کمی نہیں آئی، مقامی انتظامیہ کے مطابق حکومت اور ایف ڈبلیو او حکام کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا کہ وہ اسپل وے کے ذریعے پانی کی سطح میں 100 فٹ تک کمی لائے گی لیکن تقریباً تین سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود پانی کی سطح میں بمشکل 30 فٹ تک کمی لائی جا سکی ہے۔ موجودہ صوبائی حکومت نے نئے مالی سال 2012-13 کے بجٹ میں جھیل سے متاثرہ علاقوں میں متبادل سڑک کی تعمیر کے لیے 250 ملین روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے۔ اس منصوبے پر اگست کے پہلے ہفتے میں کام شروع ہوگا جو تقریباً اڑھائی سال میں مکمل ہو جائے گا، جب کہ اس کے ساتھ گلگت سے گنیش گائوں تک اور جھیل سے خنجراب ٹاپ تک سڑک تعمیر کرنے کے منصوبے پر بھی کام تیزی سے جاری ہے، جو بہت جلد مکمل کر لیا جائے گا ۔واضح رہے کہ اسپل وے پر جاری کام کے دوران، ایف ڈبلیو اوکے ایک لیفٹیننٹ کرنل عارف عالم جھیل میں اپنے ساتھیوں کو بچاتے ہوئے پانی کی بے رحم موجوں کی نذرہو گئے تھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔