سونگھنے کے اعصاب زبان پر بھی پائے جاتے ہیں

ویب ڈیسک  جمعـء 26 اپريل 2019
ماہرین نے انسانی زبان پر ذائقہ بھانپنے والے عین وہی ریسپٹرز دریافت کیے ہیں جو انسانی ناک میں بو سونگھنے کے کام آتے ہیں (فوٹو: فائل)

ماہرین نے انسانی زبان پر ذائقہ بھانپنے والے عین وہی ریسپٹرز دریافت کیے ہیں جو انسانی ناک میں بو سونگھنے کے کام آتے ہیں (فوٹو: فائل)

فلاڈیلفیا: انسانوں کی زبان بھی عجائبات سے بھری ہوئی ہے کیونکہ اب زبان پر عین وہی ریسیپٹر اور عضلات دریافت ہوئے ہیں جو ناک میں ہمیں سونگھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس تحقیق سے ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ کھانے کی خوشبو اور ذائقہ محسوس کرنے کا عمل پہلے ناک اور دماغ کی بجائے زبان سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔

ہماری ناک میں خوشبو اور بدبو کا احساس دلانے والے خاص قسم کے حساس اجزا (فنکشنل اولفیکٹری ریسپٹرز) پائے جاتے ہیں۔ اب عین یہی ریسپٹرز انسانی زبان پر بھی ملے ہیں۔ اس دریافت سے خوشبو اور ذائقے کے عمل کو نئے سرے سے سمجھنے میں مدد ملے گی۔

فلاڈیلفیا میں واقع مونل انسٹی ٹیوٹ میں خلوی سالمات کے ماہر اور اس تحقیق کے سینئر سائنس داں محمت ہاکان اوزدینیر نے کہا کہ ’ہماری تحقیق واضح کرتی ہے کہ بو کے سالمات کس طرح ذائقے پر اثرانداز ہوتے ہیں، اس تحقیق سے بو محسوس کرنے والے ایسے آلات بنائے جاسکیں گے جو اضافی نمک، چینی اور چکنائی کو محسوس کرکے اس کی زیادتی کو روک سکیں گے‘۔

سائنس دان محمت ہاکان کے مطابق ہماری زبان پر نمکین، مٹھاس، ترشی ، کڑواہٹ اور نمکیات کو محسوس کرنے والے لاتعداد غدود ہوتے ہیں جنہیں ٹیسٹ بڈز کہا جاتا ہے، کھانے کی بو ہمیں کسی شے کو زبان پر رکھنے سے قبل اس کی کیفیت اور معیار سے آگاہ کرتی ہے پھر زبان پر رکھتے ہیں دماغ ذائقے اور بو کو باہم ملاتا ہے جس سے شے کا ذائقہ معلوم ہوتا ہے، اسی وجہ سے اب سونگھنے اور چکھنے کی حِس کو الگ الگ سمجھا جاتا رہا تھا۔

سائنس دانوں نے اس کے لیے ایک خاص طریقہ اپنا اور انسانی زبان میں ذائقہ محسوس کرنے والے خلیات کو ایک تجربہ گاہی ڈش میں پروان چڑھایا تو معلوم ہوا کہ ذائقے والے خلیات میں سونگھنے والے ریسپٹر بھی چھپے ہیں تاہم اب تک ماہرین مکمل طور پر نہیں جانتے کہ اس کی کیا وجہ ہے اور مزید تحقیق سے حیرت انگیز دریافتیں سامنے آسکتی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔