ہائیکورٹ فوجی کے کورٹ مارشل کا ریکارڈ پیش نہ کرنے پر برہم

اسٹاف رپورٹر  بدھ 21 اگست 2013
داخلہ ،دفاع اورفوج جیسے اداروں سے نرمی برتتے ہوئے حکم پرعملدرآمد کاموقع دے رہے ہیں، عدالت۔ فوٹو: فائل

داخلہ ،دفاع اورفوج جیسے اداروں سے نرمی برتتے ہوئے حکم پرعملدرآمد کاموقع دے رہے ہیں، عدالت۔ فوٹو: فائل

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے سابق فوجی کے کورٹ مارشل کاریکارڈپیش نہ کرنے پر شدید برہمی کااظہار کیا ہے اور اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ  دو ہفتے میں رپورٹ پیش نہ کی گئی تواداروں کوسخت کارروائی اورجرمانے کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

عدالت نے آبزرویشن دی کہ داخلہ، دفاع اورپاک افواج جیسے ادارے ریاست کے اہم اعضا ہیں، اس لیے عدالت نرمی برتتے ہوئے حکم پر عملدر آمد کا مکمل موقع دے رہی ہے۔منگل کوچیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست گزاراکبرعلی کی درخواست کی سماعت کی۔اس موقع پر ایکس ای این کور V صغیر احمد بھی پیش ہوئے۔درخواست گزارکی جانب سے  مسمات نورناز آغاایڈووکیٹ نے وفاق پاکستان، سیکریٹری دفاع، کمانڈنگ افسر، ملٹری انجینئرنگ سروسزاوراسسٹنٹ گریژن افسرکوفریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیاکہ درخواست گزارفزکس میں پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کررہاہے اس کابھائی نذرمحمد چھور میں تعینات رہا۔

درخواست میں کہا گیا کہ اس کابھائی نذرمحمدپاک فوج میں انجینئرنگ سروسزمیں ملازم تھااور17سال تک سی ایم ایچ چھورمیں تعینات رہا،7جون2010کواسے ملٹری انٹیلی جنس نے حراست میں لے لیاتھا۔گزشتہ سماعت پردرخواست گزار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیاتھا کہ اس کے بھائی نذرمحمد کا کورٹ مارشل کیا گیا ہے اور ٹرائل کے دوران اسے دفاع کاحق بھی نہیں دیا گیا،اس کی سزا کی مدت ختم ہوچکی ہے مگر اسے رہا کرنے کے بجائے تشدد کا نشانہ بنایا جارہاہے، عدالت نے گزشتہ سماعت کے موقع پرہدایت کی تھی کہ نذرمحمد کے کورٹ مارشل کا ریکارڈپیش کیا جائے اوراس کے خلاف ٹرائل سے متعلق دستاویزات بھی پیش کی جائیں تاہم منگل کوسماعت کے موقع ہر متعلقہ دستاویزات پیش نہیں کی گئیں،اس پر عدالت نے برہمی کااظہارکیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔