وصولیوں کا ہدف یقینی بنانے کیلیے ٹیکس ریفنڈز روکنے کا انکشاف

ارشاد انصاری  بدھ 21 اگست 2013
معمول کے حالات میں ریفنڈوری بیٹ ادائیگیوں میں ہمیشہ اضافہ ہوتا ہے، اس بارکمی واقع ہوگئی۔ فوٹو: فائل

معمول کے حالات میں ریفنڈوری بیٹ ادائیگیوں میں ہمیشہ اضافہ ہوتا ہے، اس بارکمی واقع ہوگئی۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: ایف بی آرکی طرف سے ماہانہ ٹیکس وصولیوں کے اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کیلیے ٹیکس دہندگان کے ریفنڈزروکنے کا انکشاف ہوا ہے۔

’’ایکسپریس‘‘کو ایف بی آرسے دستیاب دستاویزکے مطابق  رواں ماہ (اگست)کے پہلے 19دنوںمیں ٹیکس دہندگان کوجاری کیے جانیوالے ریفنڈزوریبیٹ میں 27 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جس کے نتیجے میں19دنوں میں ٹیکس وصولیوں میںساڑھے 29فیصد اضافہ ہوا،دستاویزکے مطابق رواں ماہ میں 19 اگست تک ایف بی آرکی طرف سے ٹیکس دہندگان کوانکم ٹیکس وسیلزٹیکس ریفنڈاور کسٹمز ڈیوٹی پر ری بیٹ کی مدمیں مجموعی طور پر 4.79ارب روپے جاری کیے گئے ہیں جوگزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں جاری کیے جانیوالے 6.6ارب روپے کے ریفنڈ وری بیٹ کے مقابلہ میں 27فیصد کم ہیں۔

جبکہ اس کے مقابلے میں رواں ماہ19 اگست تک ایف بی آرنے مجموعی طور پر73.26 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کی ہیں جوگزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں حاصل ہونیوالی 56.57ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کے مقابلے میں 29.5 فیصد زیادہ ہیں،دستاویز میں دیے گئے اعدادوشمار میں بتایاگیاکہ ایف بی آرکی طرف سے رواں ماہ کے پہلے 19دنوں میں جاری کیے جانیو الے4.79 ارب روپے کے ریفنڈ و ریبیٹ میں سی انکم ٹیکس کی مد میں 41 کروڑ 90 لاکھ روپے کے ریفنڈ جاری کیے گئے ہیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں جاری کیے جانیوالے 75کروڑ 60 لاکھ روپے کے انکم ٹیکس ریفنڈکے مقابلے میں 45فیصد کم ہیں،ایف بی آرحکام کا کہنا ہے کہ معمول کے حالات میں ریفنڈوری بیٹ کی ادائیگیوں میں پچھلے سال کے مقابلے میں ہمیشہ اضافہ ہوتاہے مگر اس مرتبہ  کمی واقع ہوئی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔