ورلڈکپ 2019؛ انگلینڈ کی گرمی سے اسپنرز کو ’ٹھنڈک‘ پہنچنے کا امکان

حسنین انور  اتوار 28 اپريل 2019
کسی بھی اسپنر کی کامیابی میں اس پر کپتان کے اعتماد کا بھی بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے۔ فوٹو: فائل

کسی بھی اسپنر کی کامیابی میں اس پر کپتان کے اعتماد کا بھی بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے۔ فوٹو: فائل

ورلڈ کپ کی آمد آمد ہے اور تمام راستے انگلینڈ کی جانب جارہے ہیں جہاں پر میگا ایونٹ آئندہ ماہ کے آخر میں شروع ہورہا ہے۔ پاکستان ٹیم سب سے پہلے گوروں کے دیس میں ڈیرے ڈال چکی ہے جہاں اس کا میزبان ٹیم کے ساتھ ایک ٹوئنٹی 20 اور 5 ون ڈے میچز میں ٹکراؤ ہوگا۔

اس بار میگا ایونٹ کے دوران انگلینڈ کا موسم گرم اور خشک رہنے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے، گزشتہ کچھ عرصے سے وہاں پر بھی موسمی تبدیلیوں کے واضح اثرات دکھائی دے رہے ہیں۔ اس لیے عام خیال یہی پایا جارہا ہے کہ انگلینڈ کا گرم موسم خاص طور پر ایشیائی ٹیموں کے لیے ٹھنڈک کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ گرم اور خشک موسم میں ان سائیڈز کو دیار غیر میں بھی ’گھر‘ جیسا ہی ماحول مل سکتا ہے۔

اگر کنڈیشنز موافق ہوئیں تو پھر ان ایشیائی ٹیموں کی اصل طاقت ان کے اسپنر ہوں گے جوکہ خاص طور پر سفید فام ممالک کی ٹیموں کو تگنی کا ناچ نچاسکتے ہیں۔ پاکستان کا اسپن شعبہ اس وقت ناتواں دکھائی دے رہا، جس کا اصل دارومدار شاداب خان پر ہے ، سپنر کو ہیپاٹائٹس سی نے جکڑ رکھا ہے، لیگ اسپنر کو انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز سے ڈراپ کردیا گیا تھا، متبادل کے طور پر یاسر شاہ کو شامل کیا گیا، قومی ٹیم کی روانگی کے چند گھنٹے بعد شاداب خان نے بھی انگلینڈ کیلئے پرواز پکڑ لی تھی۔پی سی بی حکام پرامید تھے کہ لیگ اسپنر لندن میں علاج کے بعد صحتیاب اور ورلڈکپ کیلئے دستیاب ہوں گے۔ وہاں ڈاکٹر پیٹرک کینیڈی نے شاداب خان کے مختلف میڈیکل ٹیسٹ لیے اور چیک اپ بھی کیا۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی تشخیص کی روشنی میں چند ادویات تجویز کردی گئی ہیں، تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لیگ اسپنر پیر کو وطن واپس آرہے ہیں، لاہور میں پی سی بی کا میڈیکل پینل ان کی صحت کے حوالے سے صورتحال کا مکمل جائزہ لیتا رہے گا،مکمل صحت یابی کی صورت میں ہی ان کو میدان میں اتارنے پر غور کیا جائے گا۔ اگر شاداب خان کے خون میں ہیپاٹائٹس سی کے وائرس کی تصدیق ہوئی تو ان کی ورلڈکپ میں شمولیت خطرے میں ہے،اگر شاداب ورلڈ کپ کیلئے دستیاب بھی ہوئے تب بھی اس بات کی ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ وہ ہر قسم کے دباؤ سے آزاد ہوکر صرف اپنی توجہ کھیل پر مرکوز رکھ پائیں گے۔

شاداب کے متبادل کے طور پر انگلینڈ کے خلاف سیریز کیلئے قومی دستے میں یاسر شاہ کو شامل کیا گیا ہے جوکہ حال ہی میں آسٹریلیا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں اسپن بولرز کیلئے جنت کا درجہ رکھنے والی کنڈیشنز میں بھی کوئی کمال نہیں دکھاسکے ہیں، اس لئے ان سے انگلش کنڈیشنز میں خاص طور پر سفید بال سے کسی بھی ’کرشمے‘ کی توقع کرنا بھی بظاہر مشکل دکھائی دے رہا ہے اور اوپر سے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کا یہ بیان بھی توقعات کے غبارے سے ہوا نکالنے کیلئے کافی ہے کہ ’اگر یاسر گگلی کا بہتر استعمال سیکھ جائیں تو مہلک بولر بن سکتے ہیں‘۔اس کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہوا کہ 32 سال کی عمر کو پہنچنے اور سفید بال کی انٹرنیشنل کرکٹ میں 2011 میں ڈیبیو کرنے والے یاسر شاہ ابھی تک گگلی کے فن سے نابلد ہیں، اگر وہ انگلینڈ میں تربیتی مشن پر گئے ہوئے ہیں توپھر یہ بذات خود کسی مذاق سے کم نہیں ہے۔ ویسے بھی ٹیسٹ کرکٹ میں ڈھل جانے والے کسی بھی بولر کیلئے محدود اوورز کی کرکٹ میں ویساہی جادو جگا پانا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔

ہمارے سامنے پڑوسی ملک بھارت کی مثال موجود ہے جس کے پاس روی چندرن ایشون کی صورت میں سرخ گیند کے ورلڈ کلاس بولر موجود ہیں۔ اس کے باوجود انھیں سفید بال کیلئے زحمت نہیں دی جا رہی، میگاایونٹ میں بھارت کو اسپن شعبے میں یوزویندرا چاہل (لیگ اسپن)، کلدیپ یادیو (لیفٹ آرم رسٹ اسپن)اور رویندرا جڈیجا کی خدمات حاصل ہوں گے جبکہ میگا ایونٹ کیلئے منتخب ہونے والے کئی دوسرے کھلاڑی بھی پارٹ ٹائم اسپن بولنگ کی ذمہ داری نبھاسکتے ہیں جن میں کیدار جادھیو بھی شامل ہیں۔

پاکستان ٹیم میں موجود محمد حفیظ کہنے کو تو ایک آل راؤنڈر ہیں تاہم ان کی آف اسپن بولنگ کئی بار پکڑ میں آچکی اور ہائی وولٹیج مقابلوں میں خود کپتان بھی کسی تنازع کے خوف سے انھیں گیند تھماتے ہوئے ہچکچائیں گے۔ اسی طرح ایک اور سینئر آل راؤنڈر شعیب ملک کی بھی آف اسپن بولنگ صلاحیتوں سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھایا جاتا باقی کچھ پارٹ ٹائمر ہیں مگر دباؤکے لمحات میں ان کو گیند تھمانے کیلئے بذات خود شیر جیسا دل چاہیے ہوتا ہے۔

کاؤنٹی کرکٹ میں پاکستان کے کئی سابق سپن اسٹارز اپنی صلاحیتوں کا جادو جگاچکے ہیں، جن میں مشتاق احمد اور ثقلین مشتاق بھی شامل ہیں۔ مشتاق احمد کافی عرصے تک کرکٹ اکیڈمی میں تعیناتی کے دوران پاکستان کرکٹ کی ’خدمت‘ کرتے رہے مگر ان دنوں وہ ویسٹ انڈین کرکٹ کی خدمت پر مامور ہیں، کیریبئن سائیڈ میگا ایونٹ میں بھی ان کی خدمات اپنے پاس ہی برقرار رکھے گی، جہاں تک ثقلین مشتاق سے ’ٹپس‘ لینے کا تعلق ہے تو ان کی جانب سے بارہا ’قومی خدمت‘ کیلئے کی جانے والی آفرز پر پی سی بی نے کان ہی نہیں دھرے۔

کسی بھی اسپنر کی کامیابی میں اس پر کپتان کے اعتماد کا بھی بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے، دیکھنا یہ بھی ہے کہ خود سرفراز احمد اپنے پاس دستیاب اسپن آپشنز پر کس قدر اعتماد کر پاتے ہیں کیونکہ ایک برا اوور کسی بھی اسپنر کا اعصاب کو تہہ و بالا کرنے کمیلئے کافی ہوتا ہے، ایسے میں کپتان ہی اس کی ڈھارس بندھاتا اور گیم پلان پر کاربند رہنے کیلئے حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس لیے یہ اب کپتان پر ہی منحصر ہوگا کہ وہ اپنے اسپنرز کو درمیانی اوورز میں رنز روکنے کیلئے استعمال کرتے ہیں یا پھر بطور اسٹرائیک بولر وکٹیں اڑانے کیلئے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

اسپنرز کا اگر ذکر ہو اور دور حاضر کے اسپن جادوگر راشد خان کو نظر انداز کردیا جائے تو یہ ناانصافی ہوگی، افغانستان کی ٹیم انتہائی باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جبکہ لیگ اسپنر راشد خان ان سب سے دو قدم آگے ہی دکھائی دیتے ہیں، وہ سفید بال کی کرکٹ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے اور میگا ایونٹ میں نامی گرامی بیٹسمینوں کے حوصلے آزمانے کیلئے موجود ہوں گے۔ اسی شعبے میں انھیں مجیب الرحمان کا بھی ساتھ حاصل ہوگا جبکہ محمد نبی کی آف اسپن صلاحیتیں بھی ٹیم کیلئے کافی کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔

بنگلہ دیش کے اسپن اٹیک پر اگر نظر دوڑائیں تو ہمیں وہاں پر مہدی حسن کی صورت میں انتہائی باصلاحیت بولر دکھائی دیتے ہیں جوکہ اپنی ’اسپن‘ دھن پر کئی بیٹسمینوں کو نچا چکے ہیں، ان کا ساتھ دینے کیلئے انتہائی تجربہ کار شکیب الحسن اور مصدق حسین بھی موجود ہوں گے۔

سری لنکا کے پاس دھن جایاڈی سلوا، جیفری وینڈرسے، جیون مینڈس، میلندا سری وردانا کی صورت میں اسپن آپشنز موجود ہیں۔

اب یہ تو آنے والا میگا ایونٹ ہی بتائے گا کہ کون سا اسپنر کیا ’گل‘ کھلاتا ہے، موسم ان کے حق میں موافق رہتا ہے یا کنڈیشنز ’سوئنگ‘ کرتے ہوئے پیسرز کے حق میں چلی جاتی ہیں، ایسی صورت میں ایشیائی بیٹسمینوں کے پاؤں ’پھسلنے‘ کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔