’’دھوپ اور سائے‘‘

طارق محمود میاں  بدھ 21 اگست 2013
tariq@tariqmian.com

[email protected]

گزشتہ روز میری اداکار محمد قوی خان سے ایک یادگار ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات کراچی ایئرپورٹ پر ہوئی۔ ہوا یوں کہ شام سات بجے کی پرواز کے لیے گھر سے روانہ ہونے لگا تو پیغام ملا کہ دو گھنٹے لیٹ ہے۔ ٹرانزٹ لاؤنج میں بیٹھا تھا کہ اعلان ہوا، اب گیارہ بجے جائے گی۔ میں بور ہو کے اٹھا اور ٹہلتا ہوا انٹرنیٹ کی چوکی پہ جا بیٹھا۔ وہاں مزید بور ہوا تو پتلون کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کے چیونٹی کی رفتار سے ’’شالیمار باغ‘‘ کی سیر کرنے لگا۔ تمام نشستوں پر زندگی سے بے زار لوگ بکھرے ہوئے تھے۔ یہ سب میرے ہم سفر تھے۔ ان میں وہ بھی تھے جنھیں دیکھ کے زندہ رہنے کو جی چاہے اور وہ بھی کہ دل چاہے مر جائیں۔

میں دو روز کے لیے لاہور جا رہا تھا۔ تقریب بہر ملاقات یہ تھی کہ کالج کے دور کے کچھ بھولے بسرے دوستوں نے ایک دوسرے کو ڈھونڈ نکالا تھا اور ایک عجیب و غریب ری یونین ہونے والی تھی۔ کسی نے نہیں بتایا تھا کہ کون آئے گا اور ماضی کا کون کون سا گوشہ وا ہو گا۔ وقت کے ساتھ لٹو کی طرح گردش کرتے کرتے اب رکنے کا وقت آیا تو سب ایک دوسرے کو ڈھونڈنے نکلے۔ کون کیسا ہے؟ یہ جاننے میں ایک مسرت بھی تھی اور حیرت بھی۔

پرواز لیٹ تھی۔ بے زاری کا وقت بسر کرنے کو میں کسی ویران گوشے کی تلاش میں تھا۔ کافی شاپ سے ذرا ادھر ایک مناسب جگہ دکھائی دی تو ایک شخص کو دیکھ کے ٹھٹھک گیا۔ یہ قوی خان تھے۔ انھوں نے ہلکے رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا۔ جوانی میں انھوں نے بھلے زیادہ کردار بڑھاپے کے ادا کیے تھے لیکن آج وہ ایک دم اسمارٹ اور جوان دکھائی دے رہے تھے۔ میں تیزی سے ان کی طرف بڑھا اور ان کے ساتھ والی سیٹ پر قابض ہو گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم گمشدہ زمانوں کی باتیں کر رہے تھے، گفتگو موضوع در موضوع آگے بڑھ رہی تھی کہ اچانک مجھے کچھ یاد آیا اور میں نے قوی خان سے کہا ’’میں اب آپ کو ایک ایسی بات بتانے لگا ہوں جسے سن کے آپ کو اتنا لطف آئے گا کہ آج کی ساری بوریت بھول جائے گی۔‘‘

قوی نے میری طرف کیا ہوا رخ مزید میری طرف کیا اور مزید دلچسپی لے کے کہا‘‘ ارے بتاؤ بتاؤ بھئی!‘‘

میں نے کہا ’’یہ 22 مارچ1968ء کا ذکر ہے۔ اس روز ایک اہم واقعہ ہوا تھا۔ کچھ یاد آیا۔۔۔۔؟ اس روز آپ کی پہلی فلم ریلیز ہوئی تھی۔‘‘

’’دھوپ اور سائے‘‘ قوی نے آنکھیں پھاڑ کے کہا ’’ارے یہ آپ کو کہاں یاد آ گئی؟‘‘

میں نے کہا ’’میں ان دنوں ایف سی کالج میں پڑھتا تھا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ میں اس فلم کے پریمیئر یعنی پہلے شو میں آپ کے ساتھ موجود تھا۔‘‘

’’یہ تو بہت پرانی بات ہے‘‘ قوی خان نے کہیں گم ہوتی آواز میں کہا۔ ’’یوں جیسے صدیاں بیت گئی ہوں۔‘‘

پھر میں نے قوی کو بتایا کہ ہمیں اس فلم کا بڑی شدت سے انتظار تھا۔ ان دنوں فلم دیکھنا ہی سب سے بڑی اور آسان تفریح تھی۔ ہم لوگ ہر ویک اینڈ پر ہاسٹل سے نکلتے اور گلبرگ کے کسی اچھے ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کے بعد اوریگا سینما میں فلم دیکھتے۔ نئی فلم ہوتی تو ایڈوانس بکنگ کروانا پڑتی۔ ایک روز جاوید کھوکھر نے بتایا کہ ڈرامہ نگار اشفاق احمد جو فلم بنا رہے تھے وہ مکمل ہو گئی ہے۔ اس فلم کے انوکھے پن کا سن سن کے ہم بہت بے چین تھے۔ سنا تھا کہ اس کے نغمہ نگار منیر نیازی ہیں اور یہ عام فلموں سے بالکل مختلف ہو گی۔ ریلیز ہونے کا اعلان ہوا تو میں اور جاوید کھوکھر ایک شام کالج ہاسٹل سے پیدل ہی نکل پڑے۔ درختوں میں گھری نہر ایف سی کالج کے پہلو میں بہتی ہے۔ ہم نے اسے عبور کیا اور شاہ جمال کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے اچھرہ میں شمع سینما پہنچ گئے۔ یہ خاصا طویل راستہ تھا۔ یہیں اس فلم کا پہلا یعنی پریمیئر شو ہونا تھا اور تمام کاسٹ نے بھی آنا تھا۔ ہم نے تین بجے والے اسی شو کی بکنگ کروائی اور واپس آ کے بے تابی سے انتظار کرنے لگے۔

پریمیئر شروع ہونے سے نصف گھنٹہ پہلے ہم سینما کے اندر تھے۔ وہاں ایک میلے کا سماں تھا۔ فلم کی پوری کاسٹ موجود تھی۔ منور توفیق، عطیہ شرف، علی اعجاز، قوی خان اور دوسرے بھی۔ اشفاق احمد تب کلین شیوڈ تھے۔ کالے سیاہ بال اور سفید کرتا پاجامہ۔ سب لوگوں نے ان کے گرد گھیرا ڈالا ہوا تھا اور وہ مبارکبادیں وصول کر رہے تھے۔ہم بھی ان میں شامل ہو گئے۔ فلم عام ڈگر سے ہٹ کے تھی۔ اس میں اشفاق احمد کے ٹی وی ڈراموں کا پرتو دکھائی دیتا تھا۔ انٹرول میں پھر سب اکٹھے ہوئے اور مبارکبادوں کا تبادلہ ہوا۔ فلم ختم ہونے پر بھی ایسا ہی ہوا۔ واپسی پر ہم یہی سوچتے رہے کہ فلم اچھی تھی یا بری۔ بہرحال ہم شاداں تھے کہ اپنے فیوریٹ لوگوں کی ایک انوکھی کاوش کو ایک جذباتی احترام کے ساتھ دیکھا ہے۔

یہ ایک آرٹ فلم تھی۔ فلاپ ہو گئی اور تیسرے ہی دن سینما ہال سے اتار دی گئی۔ اب اس کا کوئی پرنٹ یاریکارڈنگ بھی کہیں دستیاب نہیں ہے۔ میں نے قوی خان سے کہا کہ آپ کااس میں ہیرو کا رول تھا۔ ایک ناراض نوجوان جو نشہ کرتا ہے اور غریبوں کی ایک بستی میں ریلوے کے ایک انڈر پاس کے نیچے، بوتل بغل میں دبائے، دیوار سے ٹیک لگا کے بیٹھا رہتا ہے اور اس بستی کی ایک لڑکی سے محبت کرتا ہے۔ قوی نے کہا ’’ہاں! لیکن وہ تو فلاپ ہو گئی تھی۔ کیسی عجیب بات ہے کہ میں بھی بھول بھال گیا تھا۔ کوئی بھی اس کا ذکر نہیں کرتا۔‘‘

’’دھوپ اور سائے‘‘ کے فلاپ ہونے کی وجہ اس کا انوکھا پن ہی نہیں تھا بلکہ تکنیکی طور پر یہ ایک بہت ہی کمزور فلم تھی۔ منظر درمیان میں ٹوٹ جاتے۔ تصویر کہیں دھندلی اور کہیں ڈارک ہو جاتی۔ اور ایسا تو ہونا ہی تھا کیونکہ اس کے لیے ایک ایسا کیمرہ استعمال ہوا تھا جس کے جسم کو رسیوں سے باندھ کر مکمل کیا جاتا تھا۔ اس فلم کی کل لاگت 70 ہزار روپے تھی۔ اشفاق احمد نے دوبارہ کبھی فلم انڈسٹری کا رخ نہیں کیا لیکن اس بات کا وہ بجا طور پر دعویٰ کرتے تھے کہ 70ء کی دہائی میں بھارت میں آرٹ فلموں کے نام سے جو متوازی سینیما شروع ہوا اور اس میں جو لاجواب فلمیں تخلیق کی گئیں، وہ ’’دھوپ اور سائے‘‘ کی پیروی میں ہی بنی تھیں۔ یہ راستہ انھیں اسی فلم نے دکھایا تھا۔

اگلے روز لاہور کے ایک شاندار ہوٹل میں ہم کچھ بھولے بسرے دوستوں کی وہی ری یونین تھی جس کا ذکر میں نے شروع میں کیا ہے۔ اس کے بارے میں تفصیل سے میں پھر کبھی لکھوں گا لیکن ایک شخص کا ذکر ابھی کرنا ضروری ہے۔ ہم تین دوست دوسروں کے انتظار میں ایک بڑی میز کے گرد بیٹھے تھے۔ جب بھی دروازہ کھلتا تو سب کی نظریں اس طرف اٹھ جاتیں۔ تب ہی ایک میانے قد کا، گرے بالوں اور کسرتی جسم والا شخص وہاں سے برآمد ہوا۔ ڈاکٹر سجاد نے ہاتھ سے ادھر آنے کا اشارہ کیا اور پھر ہم دونوں سے کہا ’’ذرا پہچانو تو تم دونوں کون ہو؟‘‘ ہم نے دیکھا، پھر سے دیکھا اور پھر ایک دوسرے کا نام پکار کے لپٹ گئے۔ یہ جاوید کھوکھر تھا۔ ہماری ملاقات 40 برس کے بعد ہو رہی تھی۔ وہ چند روز قبل ہی انٹیلی جنس بیورو (I.B) کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوا تھا اور اس بات پر معترض تھا کہ جب لوگوں کا تجربہ معراج کو پہنچتا ہے تو انھیں بے کار کیوں سمجھ لیا جاتا ہے۔

میں نے اس سے کہا ’’تمہیں معلوم ہے گزشتہ رات ایئرپورٹ پر میری کس سے ملاقات ہوئی تھی۔۔۔۔؟ قوی سے‘‘۔ اور پھر میں اسے ’’دھوپ اور سائے‘‘ کا پریمیئر دیکھنے کی کہانی یاد دلاتا چلا گیا۔ میں نے دیکھا اس کی آنکھیں حیرت، مسرت اور انہونے پن کے احساس سے پھیل رہی تھیں۔ مجھے ان میں برس اور دہائیاں تیزی سے پانی میں سفر کرتی دکھائی دیں اور چند ہی لمحوں میں وہ ایک ٹھوس پولیس افسر کی بجائے ریشم سے بنا ہوا شخص دکھائی دینے لگا۔ اس یاد کا ایک جملہ میں دہراتا تھا تو اگلا وہ بول دیتا۔ پھر ایک دم وہ اٹھا، اس نے پھر سے مجھے گلے لگایا اور بولا۔۔۔۔’’تم یہیں رکو۔ میں ذرا اپنے بیٹے کو فون کرتا ہوں۔ میں اسے یہ ساری بات بتاؤں گا اور کہوں گا کہ تم مجھے خوامخواہ ساری عمر گاؤدی اور پتھر سمجھتے رہے ہو۔ میرا ماضی تو یہ ہے۔ میں تو اعلیٰ درجے کے لطیف جذبات سے مالا مال تھا اور میرے پاس اس کا ایک گواہ بھی موجود ہے۔‘‘

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔