میری شاعری کا محور بلوچستان ہے

عارف محمود / نسیم جیمز  بدھ 21 اگست 2013
کتابوں میں پروان چڑھا، آرٹ فلموں کا رسیا ہوں ۔ فوٹو : فائل

کتابوں میں پروان چڑھا، آرٹ فلموں کا رسیا ہوں ۔ فوٹو : فائل

 بلوچستان، ادبی نقطۂ نگاہ سے ایک زرخیز خطہ ہے کئی نام وَر شعرا نے یہاں آنکھ کھولی، کئی قدآور ادیب اور صحافیوں کی اِس دھرتی نے پرورش کی، جنھوں نے علم و ادب کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ البتہ تخلیق کاروں کی اِس طویل فہرست میں چند نام ایسے بھی ہیں، جنھوں نے شاعری، ادب اور صحافت، تینوں ہی شعبوں میں طبع آزمائی کی، اور ہر ایک سے بھرپور انصاف کیا۔ افضل مراد بھی ایسا ہی ایک نام ہیں۔

اردو اور براہوی، دونوں زبانوں میں شعر کہنے کا ہنر جانتے ہیں، اور دونوں ہی میں مستند شاعر مانے جاتے ہیں۔ تراجم کے میدان میں اُنھوں نے کارہائے نمایاں انجام دیے۔ مقامی زبانوں کے ادب کو جہاں اردو کے قالب میں ڈھالا، وہیں عالمی ادب کی شاہ کار تخلیقات کو براہوی میں پیش کیا۔ ڈراما نگار بھی باکمال ہیں۔ اردو اور براہوی کے کئی مشہور سیریلز ان کے قلم سے نکلے، جنھوں نے ناظرین کو گرویدہ بنا لیا۔ پی ٹی وی نے خدمات کے اعتراف میں اُنھیں نشانِ سپاس پیش کیے۔ ریڈیو پاکستان سے بہترین ڈراما نگار کا ایوارڈ اُنھوں نے حاصل کیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان، کوئٹہ کے وہ ریذیڈنٹ ڈائریکٹر ہیں۔ ساتھ ہی ایک مؤقر روزنامے کا، بچوں کا صفحہ سنبھال رہے ہیں۔ یہ ذمے داری گذشتہ تین عشروں سے اُن کے پاس ہے۔ میٹرک کے زمانے میں صحافت کے میدان میں قدم رکھا تھا۔ آنے والے برسوں میں سیکڑوں نوجوانوں میں لکھنے کی جوت جگائی۔ سچ تو یہ ہے کہ انھوں نے ایک نسل کی تربیت کی۔

افضل مراد گرویدہ بنا لینے کا فن جانتے ہیں۔ انتہائی ملن سار اور بااخلاق انسان ہیں۔ ان کی محفل میں آنے والا اُن ہی کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنے میں کبھی کنجوسی سے کام نہیں لیتے۔ ایک اچھے انسان کے تمام اوصاف اُن میں موجود ہیں۔ وہ انسانیت کو اُس کی معراج پر دیکھنا چاہتے ہیں، اُسے لسانی گروہوں اور قومیتوں میں بٹا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔

کتابِ زندگی کے اوراق پلٹیں، تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس منفرد تخلیق کار نے 2 جنوری1961 کو کوئٹہ میں آنکھ کھولی۔ ان کے والد، عبدالعزیز ایک دوا ساز کمپنی میں ملازم تھے۔ چار بھائیوں اور تین بہنوں میں اُن کا تیسرا نمبر ہے۔ ماضی بازیافت کرتے ہوئے کہتے ہیں،’’جس برس میری پیدایش ہوئی، اسی برس میرے والد نے ذاتی گھر خریدا۔ تو مجھے گھر والوں نے بخت آور کا خطاب دیا۔ آغا کے نام سے بھی پکارا جانے لگا۔ سچ تو یہ ہے کہ گھر میں سب سے زیادہ پیار مجھے ہی ملا۔‘‘

شمار قابل طلبا میں ہوا کرتا تھا۔ انھوں نے جامعہ ہائی اسکول، کوئٹہ سے میٹرک کیا۔ ایف اے اور بی اے کا مرحلہ پرائیویٹ امیدوار کے طور پر طے کیا۔ براہوی میں ایم اے بلوچستان یونیورسٹی سے کیا۔ اس پورے عرصے میں ادبی محاذ پر انتہائی فعال رہے۔

ادب سے دوستی کیسے ہوئی؟ اِس سوال کا جواب دیتے ہوئے وہ ڈاکٹر عبدالرحمان براہوی کا ذکر کرتے ہیں۔ مستند شاعر اور سنجیدہ ادیب کے طور پر شناخت کیے جانے والے عبدالرحمان براہوی رشتے میں اُن کے ماموں تھے۔ وہ سینیر جج کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ان ہی کے زیر سایہ افضل مراد نے ادبی سفر کا آغاز کیا۔ ان کے اثر نے ایسا سحر میں لیا کہ کتب خانوں سے دوستی ہوگئی۔ بہ قول اُن کے،’’میں کتابوں میں پروان چڑھا۔ جب میں نے ہوش سنبھالا، تو اردگرد کتابیں ہی دیکھیں۔ اسکول کے زمانے میں مَیں غیرنصابی کتابوں میں دل چسپی لینے لگا۔ وقت کے ساتھ یہ شوق پروان چڑھتا گیا۔‘‘

والد جب ہر سمے انھیں کتابوں میں گِھرا دیکھتے، تو ماحول کی تبدیلی کے لیے پارک لے جاتے، تاکہ وہ باہر کی دنیا سے بھی جُڑے رہیں۔ وہ انھیں فلمیں بھی دِکھاتے۔ زمانۂ طالب علمی میں وہ شعر کہنے لگے۔ ادیبوں شاعروں میں اٹھنے بیٹھنے لگے۔ اِس میدان میں ڈاکٹر عبدالنبی، غلام نبی راہی، عبدالرؤف اور میرہزار خان کی سرپرستی اور راہ نمائی حاصل رہی۔ سینیرز کی حوصلہ افزائی کے طفیل تیزی سے آگے بڑھے۔ ادبی دنیا میں قدم جمانے میں وقت نہیں لگا۔ جلد ہی اُنھیں پہچانا جانے لگا۔ کتابوںکی اشاعت کا سلسلہ بھی اسی زمانے میں شروع ہوا، جس میں کبھی تعطل نہیں آیا۔

جب ریڈیو اسٹیشن میں قدم رکھا، اس وقت ساتویں جماعت میں تھے۔ بچوں کے پروگرام کی وہ میزبانی کیا کرتے تھے۔ پھر نوجوانوں کے پروگرامز کرتے رہے۔ کافی عرصے یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس پورے عرصے میں ریڈیو کے معروف پروڈیوسر، غلام نبی راہی کی معاونت حاصل رہی۔ اسٹیج پر بھی بہت سے پروگرام کیے۔

وقت نے ان کے فن کو جہتیں ادا کیں۔ صحافت میں تو قدم رکھ ہی چکے تھے۔ مضمون نگاری اور تراجم کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ پھر ڈراما نگاری کے سفر کا آغاز ہوا۔ ان کی تحریر کردہ سیریلز نے ریکارڈ کام یابی حاصل کی۔ اردو میں لکھی جانے والی سیریلز میں ’’ہوا کی دستک‘‘، ’’مایا‘‘، ’’قصّہ خوانی‘‘، ’’شک‘‘ اور ’’ستون‘‘ نمایاں ہیں۔ براہوی زبان کو بھی ڈراما نگاری کے لیے برتا۔ ’’صحب‘‘، ’’دیوال‘‘ اور ’’پن ریچ‘‘ جیسے یادگار سیریلز لکھے۔

جہاں انھوں نے ٹی وی کے لیے لکھا، وہیں میزبانی بھی کی۔ براہ راست نشر ہونے والے ادبی پروگرامز میں کمپیئرنگ کرتے رہے۔ کہتے ہیں،’’اس سفر میں گھر والوں نے بہت حوصلہ افزائی کی۔ مرحوم عطا شاد، غلام نبی راہی، خادم مرزا، عین سلام اور بیرم غوری کا بھی بڑا کردار رہا۔ اب بھی وحید زہیر کے ساتھ مشاورت کرتا رہتا ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں، جنھوں نے مجھے متاثر کیا۔‘‘

دوران گفت گو ادب کا موضوع نکلا، تو کہنے لگے، ادب زندگی سے محبت کرنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ سماج ادب کے ساتھ آگے بڑھتا ہے، یہ محبتوں کو رواج دیتا ہے۔ یہ نہ ہو، تو سماج میں نفرت اور دوریاں پیدا ہوجائیں۔ یہ انسانوں کو قریب لاتا ہے۔

افضل مراد فارسی کی اہمیت کے قائل ہیں۔ اپنے ایران کے دورے کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہیں۔ کہنا ہے، ہم ایرانی ادب کا عشر عشیر بھی نہیں۔ ’’وہاں فارسی زبان اور ادب کی صدیوں پرانی روایت اور تاریخ ہے، جو ان کا ورثہ ہے۔ وہاں ادب پر خطیر رقم خرچ کی جاتی ہے، جب کہ ہمارے ہاں یہ سلسلہ نہیں۔‘‘

اپنی شاعری سے متعلق کہتے ہیں،’’میری اردو اور براہوی شاعری کا محور بلوچستان ہے، جس میں یہاں کی ثقافت، تہذیب اور رسم و رواج کے ساتھ یہاں کی خوب صورتی کا حوالہ ملتا ہے۔ میں یہاں کے فطری رنگوں کو آفاقی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔‘‘ افضل مراد کی منتخب براہوی شاعری کو جہاں آراء تبسم نے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔

افضل مراد کے بہ قول، وہ ہنوز جستجو میں ہیں۔ ایک ایسے معاشرے کا خواب آنکھوں میں ہے، جہاں ادب کی پرورش ہو۔ جھوٹ، دھوکا دہی اور رشوت سے پاک کھلی فضا ہو۔ کہتے ہیں، وہ چرواہے کی طرح زندگی کی وادی سے گزر رہے ہیں، زبان پر اجداد کے تخلیق کردہ گیت ہیں، ان سے منتقل ہونے والا ادبی ورثہ سینے میں ہے۔ الغرض قبائلی جھگڑوں، اونچ نیچ، ظلم وجبر اور نفرت کے درمیان یہ تخلیق کار اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے، اور محبت کا پیغام عام کر رہا ہے۔ اپنے اس سفر کی بابت کہتے ہیں،’’میرا خود سے مکالمہ، میرے بلوچستان کا دکھ، یہ سب مجھے روح کی گہرائیوں تک لے گئے۔ میرے خیالات، الفاظ کے رتھ پر سوار ہوکر صفحۂ قرطاس تک پہنچے۔ اِسے میرے ادبی سفر کی مختصر روداد کہا جا سکتاہے۔‘‘

گو افسانوں کا مجموعہ شایع نہیں ہوا، مگر یہ صنف ان کی شناخت کا اہم حوالہ ہے۔ اس بابت کہنا ہے،’’اس فن کی پرورش میں ہمارے قبائلی ماحول کا بڑا ہاتھ ہے۔ جہالت، جنگ، کم زور طبقے کی محرومی، عورتوں پر ظلم، ان سب نے مجھے لکھنے پر مجبور کیا، جس نے جہاد کی شکل اختیار کر لی۔ 80ء میں شایع ہونے والا ’’لاڈو‘‘ اُن کا پہلا افسانہ تھا، جو کاروکاری کے موضوع پر تھا۔ علامتی افسانے کی بابت کہنا ہے کہ اِس کی اپنی خوب صورتی، اپنی کشش ہے۔ ’’یہ معاشرتی جبر سے پروان چڑھتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ افسانے کو پُرکشش اور موثر بنانے کا نام علامت نگاری ہے۔

اب یہ قاری کی ذہنی سطح پر ہے کہ وہ افسانے کو علامتی انداز میں زیادہ بہتر سمجھ سکتا ہے، یا منطقی انداز میں۔‘‘ اُن کے مطابق ادب میں تشبیہات اور استعاروں سے باکثرت کام لیاجاتا ہے۔ ’’ادب کی تمام زندہ تحریریں اپنے اندر علامتی انداز لیے ہوئے ہیں۔ ہوائیں اور سایہ بھی تو علامت ہیں، یہ تو پڑھنے والے کا اپنا ردعمل ہے۔‘‘

افضل مراد ادب کو زندگی سے نتھی قرار دیتے ہیں۔ کہنا ہے، ادب کی پہلی شرط زندگی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ادیب اُس زندگی کو کس انداز میں پیش کررہا ہے۔ جدید زندگی کے قریب تر جو صورت بنتی ہے، وہ ہی حقیقی ہے۔ دوسرے لفظوں میں زندگی کے حقائق کو ضبط تحریر میں لانے کا نام ادب ہے۔ یہ ہی میرا نظریہ ہے۔‘‘

پسندیدہ اصناف ادب زیر بحث آئیں، تو کہنے لگے کہ منفرد اسلوب کی حامل صف ہائیکو انھیں بہت پسند ہے۔ ’’یہ براہوی کی صنف لیکو کی جدید شکل ہے۔ میری ہائیکو میں بلوچستان کا حسن جھلکتا ہے۔ قدرت کے رنگ، ہمارے پھل، پھول، یہ سب کچھ ہمارا کلچر ہے۔‘‘

بلوچستان میں ادب کی ترقی کے امکانات زیر بحث آئے، تو کہنے لگے،’’بلوچستان کا ادب اس خطے کی تہذیب بیان کرتا ہے۔ یہاں دیگر علاقوں کی نسبت ادب زیادہ فروغ پارہا ہے۔ اردو، براہوی، بلوچی، پشتو، فارسی اور دیگر زبانیں یہاں ملتی ہیں، جن میں تخلیق ہونے والا ادب ہماری زندگی کی ترجمانی کرتا ہے۔‘‘ اس سلسلے میں، ان کے بہ قول، ادبی تنظیموں کا کردار بھی بہت اہم ہے۔

افضل مراد مشترکہ خاندانی نظام کا حصہ ہیں۔ شادی 87ء میں ہوئی۔ زوجہ کا تعلق خاندان ہی سے ہے۔ بیٹا، فیصل مراد نویں جماعت کا طالب علم ہے۔ گھر کے سادہ کھانے اُنھیں پسند ہیں۔ فاسٹ فوڈ کے حوالے سے کہتے ہیں،’’تیزی کا رویہ نہ تو ہمارے اندر ہے، نہ ہی ہمیں پسند ہے۔‘‘ یوں تو پھول سب ہی اچھے لگتے ہیں، مگر دشت کا پھول گل لالہ، جیسے ’’گواڑخ‘‘ کہتے ہیں، من کو بہت بھاتا ہے۔ بادام کے پھول بھی بھلے لگتے ہیں۔ ایسی فلمیں اور ڈرامے شوق سے دیکھتے ہیں، جو کلچر کے قریب ہوں، جس میں حقائق ہوں۔ آرٹ فلموں کے رسیا ہیں۔

نصیر الدین شاہ پسندیدہ اداکار ہیں۔ فٹ بال میچز وہ دل چسپی سے دیکھتے ہیں۔ اسکول کے دور کو یادگار زمانہ قرار دیتے ہیں۔ رنگوں میں نیلا رنگ بہت اچھا لگتا ہے، جو آسمان اور سمندر کو مکمل کرتا ہے، اور وسعت کا احساس پیدا کرتا ہے۔ سادہ لباس واقع ہوئے ہیں۔ شلوارقمیص میں خود کو آرام دہ پاتے ہیں۔ پرندے پالنے کا شوق ہے۔ گھر کا ایک حصہ اُن کے لیے وقف کر رکھا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔