جامعات کی کنٹرولنگ اتھارٹی کی منتقلی؛ گورنر کا اداروں پر انتظامی کنٹرول محدود

صفدر رضوی  جمعرات 22 اگست 2013
جامعات کے حوالے سے اختیارات کی منتقلی کے حوالے سے ترمیمی بل میں گورنر کی جگہ لفظ چانسلر اور وزیر اعلیٰ کے بجائے لفظ حکومت استعمال کیا گیا ہے۔  فوٹو : محمد نعمان / ایکسپریس

جامعات کے حوالے سے اختیارات کی منتقلی کے حوالے سے ترمیمی بل میں گورنر کی جگہ لفظ چانسلر اور وزیر اعلیٰ کے بجائے لفظ حکومت استعمال کیا گیا ہے۔ فوٹو : محمد نعمان / ایکسپریس

کراچی: سرکاری جامعات کی کنٹرولنگ اتھارٹی کی منتقلی کے بعد گورنر سندھ کا صوبے کے سرکاری اداروں میں انتظامی کنٹرول انتہائی محدود ہوگیا ، گورنر سندھ چارٹر انسپکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی کے علاوہ محض چار غیراہم اداروں کے سربراہ رہ گئے ہیں جس کے سبب صوبے کے سرکاری اداروں میں گورنرسندھ اور وزیراعلیٰ کے درمیان اختیارات کا تناسب غیرمتوازن ہوگیا۔

سرکاری اداروں پر اختیارات میں مسلسل کمی کے بعد گورنر سندھ کا کردار عضو معطل بنتا جارہا ہے، حکومت سندھ دوسال قبل سندھ اسمبلی میں ایک بل کی منظوری کے بعد پہلے ہی سندھ بھرکے تمام سرکاری تعلیمی بورڈزکا کنٹرول گورنرسندھ سے وزیراعلیٰ سندھ کومنتقل کرچکی ہے۔ اب صوبے کی سرکاری جامعات کے انتظامی اختیارات کی منتقلی کے بعد سے صوبے میں گورنرسندھ کا کردار انتہائی محدود ہوگا، سندھ اسمبلی میں منظور کیے گئے بل کے مطابق صوبے کی سرکاری جامعات میں وائس چانسلر، پرووائس چانسلر ، ڈائریکٹر فنانس اورڈینز کی تقرری کا اختیارنہ صرف جامعات کے چانسلر گورنرسندھ سے لے لیا گیا بلکہ حکومت سندھ کو اختیارات کی منتقلی کے بعد اس میں غیرمعمولی طور پر اضافہ کرتے ہوئے رجسٹرار، چیف اکاؤنٹنٹ ، ناظم امتحانات سمیت دیگراہم عہدوں پر تقرریوں کا اختیاربھی اسے ہی دے دیا گیا ہے۔

بل سے ظاہرہوتا ہے کہ سرکاری جامعات کے چانسلرگورنرسندھ محض نوٹیفکیشن جاری کرنے والی ایک ’’سائننگ اتھارٹی‘‘ہوگی ، یونیورسٹی کے چانسلر حکومت کی تجاویز کی روشنی میں تقررکے پابند ہوں گے ، قابل ذکرامر یہ ہے کہ اس ترمیمی بل میں کہیں بھی لفظ گورنر اور وزیراعلیٰ کا ذکر ہی نہیں ہے ، گورنرکی جگہ لفظ چانسلر اور وزیراعلیٰ کے بجائے لفظ حکومت استعمال کیا گیا ہے، اس بل کی منظوری کے بعدگورنرسندھ کے پاس صرف نجی اعلیٰ تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ اورانسپکشن کرنیوالے ادارے چارٹر ایویلیوایشن کمیٹی میں انتظامی سربراہ سمیت دیگرعہدوں پر تقرریوں کا اختیار ہوگا، مذکورہ ادارے کی سربراہی سمیت گورنرسندھ محتسب کے ادارے ، سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن، سندھ اسپورٹس بورڈ اور سندھ بوائے اسکاؤٹس کے چیف پرووینشل اسکاؤٹ رہ گئے ہیں۔

قابل ذکر امر یہ ہے کہ 1972میں سندھ میں ہونے والے نسلی فسادات کے بعد صوبے کی دیہی اورشہری اشرافیہ کے مابین زبانی طور پر’’ پاورشیئرنگ ‘‘ کا ایک فارمولا طے ہوا تھا جس کی روسے صوبے کا وزیراعلیٰ سندھی زبان بولنے والا جبکہ گورنر اردو بولنے والا ہوگا ، اس فارمولے کے تناظرمیں دن گزرنے کے ساتھ ساتھ گورنر کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا، ابتدا میں صوبے کی سرکاری جامعات کے چانسلر گورنر سندھ تھے لیکن قانونی طور پر ان کے پاس جامعات میں کلیدی عہدوں پر تقرری کا اختیار ہونے کے باوجود عملی طور پر یہ اختیارصوبائی یا وفاقی حکومتوں کے پاس رہا۔

جامعہ کراچی کے 1950 کے ایکٹ کے مطابق یونیورسٹی کا چانسلرگورنر جنرل تھا اورگورنر جنرل ہی وائس چانسلر سمیت دیگر عہدوں پرتقررکے مجاز تھے جبکہ 1972 کے ایکٹ کے مطابق بھی یونیورسٹی کا چانسلرگورنر تھا اورگورنر ہی کے پاس تقرری کے اختیار تھے، ان اختیارات کوعملی طور پر اس وقت لاگوکیا گیا جب 1983 میں جامعہ کراچی میں پروفیسر جمیل جالبی کا بحیثیت وائس چانسلر تقرر اس وقت کے گورنر نے کیا اور اسی وقت سے گورنرسندھ کے پاس صوبے کی سرکاری جامعات میں کلیدی عہدوں پر تقررکے اختیارات عملی طور پر منتقل ہوئے جسے سندھ اسمبلی میں ایک ترمیمی بل کے ذریعے سندھ کی تاریخ میں پہلی بارحکومت سندھ کومنتقل کردیا گیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔