مسیحائوں کی سفاکی یا پنجاب حکومت کی مس ہینڈلنگ؟

ایکسپریس اردو  جمعـء 6 جولائ 2012
لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں کے اسپتالوں میں ہڑتال سے ہونے والی اموات کا ذمے دار کون؟ ۔فوٹو ایکسپریس

لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں کے اسپتالوں میں ہڑتال سے ہونے والی اموات کا ذمے دار کون؟ ۔فوٹو ایکسپریس

باغبانپورہ کی صغریٰ کی دس سالہ بیٹی زلیخا کو شدید ہیضہ ہوگیا۔ جولائی کا مہینہ تھا اور شدید گرمی کے موسم میںجسم سے ویسے ہی پسینے کی صورت میں بچی کے جسم سے بہت سا پانی خارج ہوچکا تھا۔ ہیضے کے بعد دستوں اور قے کی وجہ سے رہا سہا پانی خارج ہونے سے زلیخا کی حالت نازک ہوگئی۔ اسے فوری طورپر لاہور کے ایک سرکاری اسپتال کی ایمرجنسی میں لے جایا گیا لیکن وہاں پر ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث کوئی بھی اس بچی کو اٹینڈ کرنے کے لیے موجود نہ تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے بچی کی حالت پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوگئی اور اس کی سانسیں اکھڑنے لگیں۔زلیخا کے والدین نے ڈاکٹروں کی منت سماجت کی لیکن اس کے باوجود کسی ڈاکٹر کا دل نہ پسیجا۔بچی کی حالت زیادہ بگڑی تو کسی کے مشورے پر اسے فوری طور پر قریب واقع ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں غریب والدین کو قرض لے کر بھاری رقم کے عوض اپنی بچی کا علاج کرانا پڑا۔

یہ لاہور کا صرف ایک سرکاری اسپتال تھا اور نہ ہی زلیخاکے والدین وہ واحد لوگ تھے جنہیں اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔درحقیقت لاہور اور پنجاب کے تمام سرکاری اسپتالوں میں یہی صورتحال تھی۔ان اسپتالوں کے آئوٹ ڈور ، ان ڈور اور ایمرجنسی میں مریض علاج کی فراہمی کے لیے تڑپ رہے تھے، ان کے لواحقین بھی پریشانی اور گھبراہٹ کی حالت میں ادھر ادھر بھاگ رہے تھے لیکن انھیں اپنے پیاروں کی تکلیف دور کرنے کے لیے کوئی بھی ڈاکٹر نہیں مل رہا تھا۔غریب لوگوں کے مریض تو درد سے تڑپ رہے تھے جبکہ جو لوگ تھوڑی بہت مالی سکت رکھتے تھے وہ اپنے مریضوں کو لے کر افراتفری کی حالت میں پرائیویٹ اسپتالوں کی طرف بھاگ رہے تھے۔ سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال کی وجہ سے پرائیویٹ اسپتالوں میں بھی بہت رش تھا اور یوں مجبورعوام کو ہر طرف سے مصیبت نے گھیر رکھا تھا۔

سرکاری اسپتالوں میں لوگوں کو یہ صورتحال کیوں پیش آرہی تھی؟ اس لیے کہ پنجاب کی ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن نے اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال کررکھی تھی۔ اس مضمون کی آخری سطور لکھے جانے تک تک ان کی ہڑتال کو پندرھواں روز ہوچکا تھا اور سترہ سے زائد مریض علاج نہ ملنے کے باعث دم توڑ چکے تھے اور صوبے بھر میں ایک قیامت خیز صورت حال پیدا ہوچکی تھی۔ ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے نہ صرف مریضوں کو شدید تکلیف اور پریشانی کا سامنا تھا جبکہ پنجاب کی صوبائی حکومت کو بھی شدید تنقید جھیلنا پڑ رہی تھی۔

مریض اور خاص طورپر غریب لوگ اس بات پر پریشان تھے کہ ڈاکٹروں کو مراعات دینا یا ان کے مطالبات پورے کرنا حکمرانوں کا کام ہے ، دوسری صورت میں یہ ڈاکٹروں اور حکمرانوں کا مسئلہ تھا ، آخر غریب مریضوں کا کیا قصور ؟ ڈاکٹروں کی جانب سے مریضوں سے انتقام کیوں لیا جارہا تھا؟ کیا ڈاکٹروں کو مراعات دینا ، ان کی تنخواہیں بڑھانا یا سروس سٹرکچر دینا مریضوں کا کام تھا؟ جن لوگوں کے پیارے ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث انتقال کرگئے ، وہ اس کے لیے کس کو ذمے دار ٹھہرائیں؟ کیا اس کے ذمے دار ڈاکٹر ہی نہیں ؟

سب جانتے ہیں کہ اپنے مطالبات کے حق میں مختلف شعبوں کے ملازمین ہڑتال کرتے ہیں۔مثال کے طور پر کلرک ، تاجر، انجینئر اور دیگر لوگ وغیرہ۔ ہڑتال کے نتیجے میں یہ لوگ کئی کئی ہفتوں کام سے انکار کرتے ہیں لیکن عام طور پر یہ ایسے شعبے ہوتے ہیں جہاں ہڑتال سے لوگوں کی زندگی کو خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔لیکن میڈیکل ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ڈاکٹرز نے مجبور، غریب اور بیمار لوگوں کی مدد کرنا ہوتی ہے۔ انھیں لوگوں کی اذیت دور کرنا ہوتی ہے۔لیکن جب ڈاکٹر جسے اس کے مقدس پیشے کی وجہ سے مسیحا کہا جاتا ہے ، اس کا علاج کرنے اور اس کی اذیت دور کرنے سے انکار کردے تو اسے کم سے کم الفاظ میں ’’سفاک‘‘ ہی کہا جائے گا۔

دوسری طرف سیاست دانوں کا کردار بھی قابل رشک نہیں ۔ پنجاب کی صوبائی حکومت اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے نمٹانے میں ناکام رہی۔ پھر اچانک ہی انھوں نے پولیس کی مدد سے چھاپے مار کر ڈاکٹروں کو گرفتار کرنا شروع کردیا۔ جب ہتھکڑیاں لگے ڈاکٹروں کی تصویریں اخباروں میں شائع ہوئیں تو ایک منفی تاثر پیدا ہوا۔ رہی اپوزیشن تو انھوں نے اس بار بھی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کو ترجیح دی۔ ڈپٹی پرائم منسٹر نے موقعہ غنیمت جانتے ہوئے وزیراعلیٰ پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی، کسی اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ’’رانا ثنااللہ بتائیں کس قانون کے تحت ڈاکٹروں پر مقدمات درج کرائے گئے‘‘ یا یہ کہ ’’ فوجی ڈاکٹرز بلانے سے شہباز شریف کی نااہلیت ثابت ہوگئی‘‘ اب کوئی بتائے کہ جب ڈاکٹر اپنا مقدس فریضہ ادا کرنے سے انکار کررہے ہیں اور غریب لوگوں کے علاج کے لیے ڈاکٹر دستیاب نہیں تو حکومت فوجی ڈاکٹروں کو نہ بلائے تو کیا کرے؟

جہاں تک ڈاکٹرز کے بنیادی نقطے یعنی سروس سٹرکچر بنانے کا تعلق ہے، یہ ایک جائز مطالبہ ہے، پاکستان میں میڈیکل واحد شعبہ ہے جہاں کوئی سروس سٹرکچر موجود نہیں، مگر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا یہ کہنا کہ نوجوان ڈاکٹروں کو اٹھارویں اسکیل میں بھرتی کیا جائے، یہ ایک سراسر غلط مطالبہ ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں۔ جب سول سروس کر کے آنے والے گریڈ سترہ میں بھرتی ہوتے ہیں تو ڈاکٹروں کو اٹھارواں اسکیل کیسے دیا جا سکتا ہے؟ پنجاب حکومت نے بھی معاملات مس ہینڈل کئے ۔ پہلے تو اگر ڈاکٹروں کے مطالبے جائز تھے تو انھیں ہڑتال وغیرہ کے دبائو کے بغیر ہی مان لینا چاہیے۔ حکومت نے ایک نہایت غلط ٹرینڈ قائم کر رکھا ہے ، جب تک کسی شعبے کے لوگ سڑکوں پر آ کر احتجاج نہیں کرتے، ان کی بات نہیں مانی جاتی۔ یہ غلط تصور ہے، اسے بدلنا ہوگا۔ پولیس کو استعمال کرنے سے بھیمسائل پیدا ہوتے ہیں، یہ بات صوبائی حکومت کو سمجھ لینی چاہیے۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے مشیر برائے صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ ’’ڈاکٹروں نے حکومت کو مجبور کر دیا ہے اور حکومت کے پاس ان کے خلاف کارروائی کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا ۔ ڈاکٹروں نے ہماری منت سماجت اور درخواست کو قابل توجہ نہیں سمجھا ۔ اسپتالوں میں مریض خوار ہو رہے ہیں اور اسپتالوں کا نظام جامد ہو کر رہ گیا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ ڈاکٹر کیوں نہیںسمجھتے کہ وہ عوام کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کو اس لیے گرفتار کیا گیا کیونکہ وہ اسپتالوں کو ’’شٹ ڈائون‘‘ کرنے کی تیاریوں میں مشغول تھے۔‘‘

2جولائی کو میو اسپتال اور سروسز اسپتال لاہور میں آرمی کے ڈاکٹرز نے آکر او پی ڈی میں کام شروع کیا جس سے مریضوں کو کچھ حد تک ریلیف ملا۔ آرمی ڈاکٹرز کے آنے کے بعد کچھ سینئر ڈاکٹرز نے بھی اسپتالوں میں پہنچ کر ڈیوٹی دینا شروع کر دی۔ 3جولائی کو گرفتار ڈاکٹروں میں سے 25ڈاکٹروں نے غیر مشروط معافی مانگ لی جس کو جیل سے وزیراعلیٰ ہائوس لے جایا گیا جہاں انھوں نے رانا ثناء اللہ کو مستقبل میں اپنے فرائض سے غفلت نہ برتنے،ہڑتالی ڈاکٹروں سے علیحدگی اور ڈیوٹی جوائن کرنے کی یقین دہانی کروائی جس کے بعد ان کو کے بعد رہا کر دیا گیا۔ وزیراعلیٰ ہائوس کی جانب سے یہ موقف بھی سامنے آیا ہے کہ شہباز شریف کسی بھی ہڑتالی ڈاکٹر سے ملاقات نہیں کریں گے ۔

بعض حلقے فوجی ڈاکٹروں کو بلائے جانے پر تنقید کر رہے ہیں،مگر صوبائی حکومت کے مطابق ڈاکٹرز کی ہڑتال کو دوہفتوں سے زائد ہوچکے تھے مگر وہ لچک دکھانے کو تیار ہی نہیں تھے، دوسری جانب اسپتالوں میں مریض خوار ہورہے تھے ۔آخر جب لوگوں کی تکلیف حد سے زیادہ بڑھ گئی تو پنجاب حکومت کو فوجی ڈاکٹروں کی مدد لینا پڑی کہ وہ سول اسپتالوں میں آئیں اور اپنے سول بھائیوں کی مدد کریں۔
ڈاکٹرز اخلاقی طورپر اس بات کے پابند ہوتے ہیں کہ وہ اپنے پاس علاج کے لیے آنے والے مریضوں کو طبی امداد دیں اور ان کی اذیت دور کریں۔کوئی بھی بات انھیں اس بات کا جواز فراہم نہیں کرتی کہ وہ مریضوں کے علاج اور ان کی تکلیف دور کرنے سے انکار کریں۔ ڈاکٹروں کے مقدس پیشے کا کیا تقاضا ہے ، اس کا اندازہ اس حلف سے ہوتا ہے جو ڈاکٹروں اور صحت سے وابستہ شعبے کے افراد سے تاریخی طور پر لیا جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہ حلف نامہ قدیم یونانی فلسفی بقراط نے تیار کیا تھا جسے بابائے مغربی طب بھی کہا جاتا ہے۔یہ حلف نامہ زمانہ قدیم سے رائج ہے اور آج کل جو جدید حلف موجود ہے ، اسے 1964ء میں ڈاکٹر لوئس لاساگنا نے تحریرکیا تھا جو کہ ٹفٹ یونیورسٹی کے طبی ااسکول کے پرنسپل تھے۔

اس حلف نامے کے تحت شعبہ مغربی طب سے وابستہ ڈاکٹر یا دیگر طبی عملے کے افراد اس بات کا حلف اٹھاتے ہیں کہ وہ طب کے مقدس شعبے سے وفادار رہ کر اپنے فریضہ سرانجام دیں گے۔حلف کے آخر میں وہ کہتا ہے: ’’اگر میں اس حلف کی خلاف ورزی نہیں کرتا تو دعا ہے کہ میں اپنی زندگی اور فن سے لطف اٹھائوں ،میری عزت کی جائے اورمجھے محبت سے یاد رکھا جائے۔‘‘

اگر اس حلف نامے کو غور سے پڑھا جائے تو اس سے واضح طورپر اس بات عکاسی ہوتی ہے کہ ڈاکٹروں کو اپنے جائز مطالبات منوانے کے لیے کوئی ایسا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے تھا جس سے ان کے مریض متاثر نہ ہوتے۔ لیکن انھوں نے ایسا نہ کیا اور مریضوں کو تڑپتا اور بلکتا چھوڑ کر سڑکوں پر نکل آئے جو کہ ان کے مقدس پیشے کے منافی ہے۔دوسری جانب ڈاکٹروں کے ساتھ حکمران بھی اپنی ذمے داری سے بری الذمہ نہیں۔حکمرانوں کا فریضہ تھا کہ وہ اس صورتحال کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ڈاکٹروں کے جائز مطالبات کو پورا کرتے تاکہ خلق خدا کو اس قدر تکلیف اور اذیت برداشت نہ کرنا پڑتی، کسی بحران کا پیدا ہوجانا ہی بیڈ گورننس کا ایک مظہر ہوتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔