کیس اسٹڈی

جاوید چوہدری  جمعرات 22 اگست 2013
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

سکندر کے ایشو کے دو زاویئے ہیں اور ہمیں قومی سطح پر ان دونوں زاویوں پر بیک وقت توجہ دینی ہو گی‘ پہلا زاویہ ڈاکٹر طاہرالقادری اینگل ہے‘ آپ کو یاد ہو گا ڈاکٹر طاہرالقادری14 جنوری2013ء کو ملین مارچ لے کر اسلام آباد پہنچے تھے‘ یہ پاکستان کی تاریخ کا اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ تھا‘ علامہ طاہرالقادری بلا شبہ بلا کے مقرر ہیں‘ یہ معتدل مزاج کے لبرل مذہبی اسکالر بھی ہیں‘ یہ مذاہب اور عقائد کے درمیان توازن اور ہم آہنگی کے قائل بھی ہیں اور یہ عیسائیوں‘ ہندوئوں اور سکھوں کے ساتھ ساتھ شیعہ‘ سنی اور دیوبندی مکاتب فکر کے ماننے والوں کے لیے بھی قابل قبول ہیں‘ یہ عام لوگوں سے لے کر پڑھے لکھے اسکالر طبقے میں بھی مقبول ہیں اور یہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی طرح بیرون ملک بھی پڑھے اور سنے جاتے ہیں‘ یہ میڈیا کو استعمال کرنا بھی جانتے ہیں اور پاکستان میں بھی ان کی ٹھیک ٹھاک ’’فالونگ‘‘ موجود ہے، ڈاکٹر طاہرالقادری ان تمام خوبیوں کے ساتھ 14 جنوری2013ء کومیں اسلام آباد پہنچ گئے۔

ان کے مطالبات بھی بڑی حد تک درست اور جائز تھے اور لوگ ان مطالبات کی حمایت بھی کر رہے تھے مگر ڈاکٹرطاہرالقادری اس کے باوجود بری طرح ناکام ہو گئے اور یہ اسلام آباد سے ایک باعزت فرارکے لیے ان لوگوں کے ساتھ ایک ناقابل عمل معاہدہ کرنے پر مجبور ہو گئے جنھیں یہ کوفی بھی قرار دے رہے تھے‘ لشکر یزید بھی اور ظالم‘ فاسق اور فاجربھی‘ اب سوال یہ ہے ڈاکٹر طاہر القادری اسلام آباد کیوں آئے یا کیوں لائے گئے یا ان کی آمد سے کیا حاصل ہوا؟ ہم یہ بحث نہیں چھیڑتے کہ علامہ طاہر القادری خود تشریف لائے تھے یا انھیں کوئی اور لے کر آیا تھا‘ ہم صرف اس ’’ملین مارچ‘‘ کے ان نتائج کی بات کرتے ہیں جو آگے چل کر سکندر کے اعلان بغاوت سے ’’میچ‘‘ کریں گے‘ علامہ طاہر القادری کی آمد اور رخصتی سے چند باتیں ثابت ہوئیں‘ ایک‘ پاکستان میں مدارس اور مذہبی طبقہ آج بھی بھرپور اسٹریٹ پاور‘ موبلائزیشن اور نظم و ضبط کا منبع ہے‘ دو‘ لوگ ان کا ساتھ بھی دیتے ہیں‘ یہ ان کے ساتھ بھی چل پڑتے ہیں‘ ان کی تقریر بھی سنتے ہیں۔

ان کے جوش خطابت کی داد بھی دیتے ہیں اور انھیں چندے بھی دے دیتے ہیں لیکن یہ مولوی حضرات کو حکمرانی سونپنے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ یہ انھیں بطور سیاسی لیڈر قبول نہیں کرتے اور اگر انھیں مقبول ترین اور معتدل ترین ڈاکٹر طاہرالقادری اور غیر مقبول ترین آصف علی زرداری میں سے کسی کے انتخاب کا موقع دیا جائے تو یہ آصف علی زرداری کا ساتھ دیں گے‘ یہ پورا نظام 15 جنوری 2013ء کو علامہ طاہر القادری کے ایک جھٹکے کے فاصلے پر کھڑا تھا‘ لوگ اگر علامہ صاحب کا ساتھ دیتے تو یہ چند قدم بڑھا کر ’’ظلم کی حکومت‘‘ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیتے مگر لوگوں نے ان کا اس حد تک ساتھ نہیں دیا اور یوں علامہ صاحب کو لاہور اور بعد ازاں کینیڈا ناکام لوٹنا پڑ گیا‘ تین‘ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی حکومت بدنامی اور ناکامی کی انتہا کو چھو رہی تھی‘ عدلیہ‘ فوج اور میڈیا ان کے خلاف تھے۔

سپریم کورٹ نہ صرف صدر اور وزیراعظم دونوں کے خلاف فیصلے جاری کر چکی تھی بلکہ علامہ صاحب کے انقلاب کے عین درمیان وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف فرد جرم بھی عائد کر دی گئی مگر ان تمام تر اختلافات اور ناراضی کے باوجود سپریم کورٹ‘ فوج اور میڈیا نے علامہ صاحب کا ساتھ نہیں دیا‘ گویا اس کا مطلب یہ ہوا میڈیا‘ فوج اور عدلیہ بھی مولوی کا انقلاب قبول کرنے کے لیے تیار نہیں‘ یہ ادارے بدترین حکومت کے باوجود کسی غیر جمہوری مہم جوئی کو سپورٹ نہیں کریں گے اور چار‘ آپ کتنے ہی سچے کیوں نہ ہوں‘ آپ کا ایجنڈا کتنا ہی واضح کیوں نہ ہو اور آپ میڈیا کو جتنے چاہیں اشتہارات دے لیں مگر آپ اینکرز کو متاثر نہیں کر سکتے اور کالم نگار اور معتبر ٹیلی ویژن میزبان آپ کا ساتھ نہیں دیں گے‘ یہ آپ کی غیر جمہوری حرکات کو سپورٹ نہیں کریں گے۔

میں آج بھی یہ سمجھتا ہوں علامہ طاہر القادری پاکستانی معاشرے کی ایک بہت بڑی کیس اسٹڈی تھے اور علامہ صاحب کے تین روزہ انقلاب نے پوری دنیا کی آنکھیں کھول دیں اور امریکا اور یورپ اس واقعے کے بعد اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور ہو گیا‘ یہ جان گیا پاکستان میں اب غیر جمہوری تبدیلیاں ممکن نہیں اور اگر ایسی کوشش کی گئی تو میڈیا اور عدلیہ اسے قبول نہیں کرے گی‘ امریکا یہ بھی جان گیا مذہبی اسکالرز خواہ کتنے ہی لبرل کیوں نہ ہوں پاکستانی معاشرہ ان کی حکمرانی ماننے کے لیے تیار نہیں‘ یہ نظام ان کے ہاتھ میں نہیں دے گا‘ سکندر ملک بھی ایک کیس اسٹڈی یا پاکستانی نظام کا ’’ٹیسٹر‘‘ تھا اور ہو سکتا ہے کسی نے اسے نظام کی طاقت یا خامیوں کا اندازہ لگانے کے لیے لانچ کیا ہو‘ دنیا یا کوئی طاقت یہ جاننا چاہتی ہو ہماری ریاست کس قدر طاقتور ہے۔

یہ کس تیزی سے حرکت میں آ سکتی ہے اور اگر کوئی عام شخص رائفل لے کر سڑک پر آ جائے تو ریاست اس سے کیسے نمٹنے گی وغیرہ وغیرہ‘ سکندر ہماری ریاست کا ’’ٹیسٹ‘‘ ہو سکتا ہے اور اس ٹیسٹ کے بعد کچھ چیزیں ثابت ہو گئیں مثلاً یہ ثابت ہو گیا کوئی بھی دہشت گرد یا مسلح شخص دس سال سے داخلی جنگ کی شکار ساتویں جوہری طاقت کے دارالحکومت میں داخل ہو سکتا ہے اور یہ دو رائفلوں کے ذریعے پورے ملک کی توجہ حاصل کر سکتا ہے‘ مثلاً یہ ثابت ہو گیا ہماری پولیس اب خود مختار نہیں رہی‘ یہ غیر متوقع واقعات میں بالائی احکامات کا انتظار کرتی ہے اور وزیر داخلہ یا وزیراعظم انھیں کتنا ہی نامعقول حکم دے دیں یہ اسے من و عن مان لیتی ہے اور یہ گرائونڈ پر فیصلہ نہیں کرتی‘ مثلاً یہ ثابت ہو گیا ہماری پولیس مہارت کے شدید بحران کا شکار ہے‘ ان کے پاس شارپ شوٹرز ہیں‘ اسنائپرز ہیں‘ ہلمٹ ہیں‘ا سٹن گنز ہیں اور نہ ہی راستوں کو روکنے کا کوئی معقول بندوبست‘ مثلاً یہ ثابت ہو گیا۔

ہماری پولیس ایسے واقعات کے دوران میڈیا کے لوگوں کو کرائم سین سے دور رکھ سکتی ہے اور نہ ہی عام لوگوں کو جمع ہونے سے باز‘ مثلاً یہ ثابت ہو گیا پاکستان میں کوئی غیر معقول واقعہ پانچ پانچ گھنٹے ٹیلی ویژن پر لائیو چل سکتا ہے اور کوئی ادارہ اسے روک نہیں سکتا‘ ریاست کی رٹ اس معاملے میں بھی جواب دے چکی ہے‘ مثلاً یہ ثابت ہو گیا اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن موجود نہیں‘ فوج سیاسی حکومت یا سول ایڈمنسٹریشن کی درخواست پر آگے نہیں بڑھتی‘ یہ پولیس یا ضلعی انتظامیہ کا ساتھ نہیں دیتی‘ اس قسم کا سگنل ڈی آئی خان جیل کے واقعے کے دوران بھی انتہا پسندوں اور عالمی طاقتوں کو ملا تھا کیونکہ دہشت گرد کنٹونمنٹ کے اندر سے گزر کر جیل پہنچے تھے اور یہ 216 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے واپس قبائلی علاقوں میں گئے تھے اور کسی نے ان کو روکنے کی جرأت نہیں کی۔

اس سے ثابت ہوا فوج سول اداروں یا سیاسی حکومتوں کو سپورٹ نہیں کر رہی‘ مثلاً یہ ثابت ہو گیا پولیس ارکان اسمبلی سے قانون نہیں منوا سکتی اور نبیل گبول ہوں یا زمرد خان ہوں یہ پولیس احکامات روند کر مجرم تک پہنچ سکتے ہیں اور کوئی انھیں روک نہیں سکتا‘ مثلاً یہ بھی ثابت ہو گیا ہماری پولیس میڈیا اور عدلیہ کے نفسیاتی دبائو میں ہے‘ یہ میڈیا کے کیمروں اور سپریم کورٹ کے سوموٹو ایکشن کے خوف سے اب عام روٹین کی کارروائی بھی نہیں کرتی اور مثلاً یہ بھی ثابت ہو گیا ہمارے ملک میں ایک عام گمنام شخص دو رائفلیں لے کر سڑک پر آ کر گمنامی کے اندھیرے سے شہرت کی چکا چوند میں آ سکتا ہے‘ یہ مقبول ہو سکتا ہے‘ سکندر کی کیس اسٹڈی سے ہمارے تمام اندرونی اور بیرونی دشمن بڑے بڑے نتائج تک پہنچ گئے ہیں اور ہمیں اس ایشو کا یہ زاویہ بھی نظر میں رکھنا ہوگا۔

سکندر کے ایشو کا دوسرا زاویہ عام انسان کی فرسٹریشن ہے‘ ہم فرض کر لیتے ہیں سکندر کو کسی نے لانچ نہیں کیا‘ یہ ڈرامہ حقیقتاً اس کی اپنی اختراء تھا‘ یہ اپنی فلم کا خود ڈائریکٹر‘ مصنف‘ کیمرہ مین اور فنانسر تھا اور یہ اس فلم کا ڈسٹری بیوٹر بھی خود ہی تھا‘ ہم یہ مان لیتے ہیں لیکن اس کے بعد ایک نیا زاویہ ہمارے سامنے آ جائے گا‘ اس کا مطلب ہو گا ہمارے ملک میں لوگ ذہنی طور پر اس قدر ڈسٹرب ہو چکے ہیں کہ یہ رائفل اٹھا کر اپنے معصوم بچوں اور گھریلو بیوی کے ساتھ سڑک پر آ جاتے ہیں اور یہ دو رائفلوں کے ذریعے پورے ملک میں اسلام بھی نافذ کرنا چاہتے ہیں‘ حکومت کا خاتمہ بھی اور اقلیتوں کو ان کے حقوق بھی دلانا چاہتے ہیں‘ یہ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ ناانصافی اور ظلم و زیادتی کے خلاف اکیلے باہر نکلنے پر تیار ہو گئے ہیں اور یہ اس معاملے میں اپنی اور اپنے خاندان کی جان تک کی پرواہ نہیں کرتے‘ زمرد خان کی انٹری اور حرکت بھی آگے چل کر اس زاویئے کو سپورٹ کرتی ہے۔

زمرد خان کا وہاں آنا‘ پولیس کے روکنے کے باوجود سکندر تک جانا اور پھر جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس پر جھپٹ پڑنا بھی اسی نفسیات کو ظاہر کرتا ہے‘ زمرد خان پانچ گھنٹے طویل تماشہ دیکھ کر تھک گیا تھا‘ اسے یقین ہو گیا تھا پولیس سکندر کو نہیں پکڑ سکتی چنانچہ اس نے میدان میں کودنے کا فیصلہ کر لیا اور یہ کر گزرا‘ اس وقت ملک کے زیادہ تر لوگ زمرد خان کی کیفیت سے گزر رہے تھے‘ یہ لوگ بھی وہاں جا کر سکندر کو دبوچنا چاہتے تھے‘ بلیو ایریا میں موجود ہر شخص کے اندر اس وقت ایک زمرد خان کلبلا رہا تھا اور زمرد خان نے جوں ہی یہ کارنامہ سرانجام دیا لوگوں نے اسے کندھوں پر اٹھا لیا‘ لوگوں کی یہ حرکت ثابت کرتی ہے معاشرے کا اداروں سے یقین اٹھ چکا ہے‘ لوگ اب ملک کے مسائل خود حل کرنا چاہتے ہیں‘ سکندر بن کر یا زمرد خان بن کر اور یہ سوچ انتہائی خطرناک ہے کیونکہ دنیا کے انقلابوں اور خانہ جنگیوں نے اسی سوچ کی کوکھ سے جنم لیا تھا اور ہم نے اگر توجہ نہ دی تو یہ معاشرہ سکندروں اور زمرد خانوں میں تقسیم ہو جائے گا‘ یہ دونوں آمنے سامنے کھڑے ہوں گے اور خانہ جنگی شروع ہو جائے گی اور یہ ملک روانڈا بن جائے گا‘ کیا ہم یہ چاہتے ہیں؟۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔