جس کی لاٹھی اُس کا ’’سانپ‘‘

 اتوار 5 مئ 2019
ہمارے خیال میں ان محترمہ نے یہ حرکت یہ جاننے کے لیے کی تھی کہ شاعر صاحب زلف اور سانپ میں فرق کرپاتے ہیں یا نہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا

ہمارے خیال میں ان محترمہ نے یہ حرکت یہ جاننے کے لیے کی تھی کہ شاعر صاحب زلف اور سانپ میں فرق کرپاتے ہیں یا نہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا

شاعروں نے حسیناؤں کی زُلف کو سانپ سے تشبیہ دی ہے، حُسن والوں کو اپنے گیسوؤں کی اس صلاحیت کا پتا چلا تو اسے خوب خوب استعمال کیا، اسی طرح کی ایک حسینہ نے اپنی زلف کا استعمال کرتے ہوئے بہ زبان شاعر یہ کیا:

ذرا اُن کی شوخی تو دیکھنا، لیے زُلفِ خم شدہ ہاتھ میں

مِرے پاس آئے دبے دبے، مجھے سانپ کہہ کے ڈرا دیا

ہمارے خیال میں ان محترمہ نے یہ حرکت یہ جاننے کے لیے کی تھی کہ شاعر صاحب زلف اور سانپ میں فرق کرپاتے ہیں یا نہیں، ’’ڈرا دیا‘‘ کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ موصوف ڈر گئے، مگر جب حقیقت کا پتا چلا تو خوشی سے نہال ہوگئے ہوں گے، ہوسکتا ہے زلف ہاتھ میں لے کر جوئیں دیکھنے بیٹھ گئے ہوں۔ ہمیں یقین ہے کہ شاعر کی محبوبہ کا یہ حربہ تھا جو اس نے موصوف سے نجات حاصل کرنے کے لیے اختیار کیا۔ اگلی بار ان کی محبوبہ ہاتھ میں سانپ ہی لے کر آئی ہوں گی، اور انھوں نے اُسے زلف سمجھ کر خوشی خوشی پھن تھام لیا ہوگا، یوں اس کہانی کا انجام ہوا ہوگا۔

شعر سے جنم لینی والی اس کہانی سے سبق ملتا ہے کہ انسان کو سانپ کی پہچان ہونی چاہیے اور یہ سبق سکھانے کا خیال ہمیں مغربی افریقہ کے ملک لائبیریا کے صدر کے متعلق ایک خبر پڑھ کر آیا۔

اس خبر کے مطابق لائیبریا کے صدر کو دفتر میں 2 زہریلے سانپوں کی موجودگی کی وجہ سے کار مملکت اپنے گھر سے چلانا پڑ رہے ہیں۔ صدر جارج ویح کے دفتر خارجہ کی عمارت میں واقع دفتر میں دو سانپوں کو دیکھا گیا جو ملازمین کے ہاتھ نہ آسکے جس کے بعد صدر کو حفاظتی اقدام کے تحت دفتر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

امید ہے کہ ان سطور کی اشاعت تک وہ سانپ پکڑ لیے یا مار دیے گئے ہوں گے، ورنہ سانپ نکل گئے ہوں گے اور لکیر پیٹی جارہی ہوگی۔

شکر ہے لائبیریا کے صدر کے دفتر کا عملہ سانپ کی پہچان رکھتا ہے، ورنہ انھیں زُلف دراز سمجھ بیٹھتا تو خدشہ ہے کہ صدر کی عمر دراز ہونے سے رہ جاتی۔

بتائیے بھلا، سانپوں کی وجہ سے صدر صاحب کو اپنا دفتر چھوڑنا پڑا۔ ان سانپوں کا یہی ہے یہ حکم رانوں کو دفاتر اور ایوانوں سے باہر کردیتے ہیں۔ مسئلہ وہی انھیں نہ پہچاننے کا ہے، مگر پہچان کر بھی کیا ہوتا ہے، کچھ حکم راں تو بڑے پیار سے آستین میں سانپ پالتے اور انھیں دودھ پلاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پالتو سانپ دشمنوں کے سینے پر لوٹ رہے ہیں مگر درحقیقت یہ خود انھیں لُوٹ رہے ہوتے ہیں۔

یہ سانپ عام سانپوں سے ذرا مختلف ہوتے ہیں۔ گرگٹ رنگ بدلتا ہے، سانپ سو سال بعد کینچلی بدلتا ہے، لیکن یہ دونوں بدلاؤ کے بعد بھی گرگٹ اور سانپ ہی رہتے ہیں، پارٹی نہیں بدلتے، لیکن آستین کے سانپ حکم راں کا وقت بدلتے ہی پارٹی بدل لیتے ہیں اور ہاتھ پر ڈستے ہوئے آستین سے نکل جاتے ہیں، جس کے بعد کبھی یہ رٹو طوطے کا روپ دھارتے ہیں کبھی کسی کے گھر کی مُرغی کا۔

حکم راں ان سانپوں کی نیت جان لیں تو کوشش کرتے ہیں کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے، دراصل اکثر یہ کوئی عام سانپ نہیں ہوتے، بلکہ اس کے خاص ہوتے ہیں جس کے پاس لاٹھی ہونے کی وجہ سے اس کی بھینس ہوتی ہے۔ اب آپ کے سامنے یہ حقیقت آئی کہ بھینس اور سانپ ایک ہی لاٹھی والے کے ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی کبھی بھولے سے بھینس کو سانپ سمجھ کر اُس کے سامنے بین بجادیتا ہے۔ چناں چہ حکم رانوں کو خطرہ ہوتا ہے کہ سانپ کو مارا تو اُن پر لاٹھی ٹوٹ پڑے گی، لہٰذا انھیں سانپ سونگھ جاتا ہے، جس کے بعد وہ کسی خطرے کی بو نہیں سونگھ پاتے، یوں اقتدار کے سانپ سیڑھی کے کھیل میں وہ سیڑھی سے دھڑام سے نیچے آگرتے ہیں، گرتے ہی اپنی آستین میں جھانکتے ہیں، جو خالی ملتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔