سندھ کا مری: گورکھ ہل اسٹیشن

ممتاز جمالی  اتوار 5 مئ 2019
گورکھ ہل اسٹیشن سندھ کا منفرد مقام جہاں برفباری بھی ہوتی ہے۔ (تصاویر بشکریہ فوٹوگرافر جمن جمالی)

گورکھ ہل اسٹیشن سندھ کا منفرد مقام جہاں برفباری بھی ہوتی ہے۔ (تصاویر بشکریہ فوٹوگرافر جمن جمالی)

سرزمین سندھ صوفیاء و اولیاء کی دھرتی مانی اور جانی جاتی ہے، اور تاریخ، تہذیب و مذاہب کی ماں بھی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ قدرت نے اس دھرتی کو اور بھی خصوصیات سے نوازا ہے، اور وہ ہیں سندھ کے خوبصورت تفریحی مقامات۔

گورکھ ہل اسٹیشن بھی سندھ کے تفریحی مقامات میں سے ایک ہے، جسے اس دھرتی کی جنت یعنی جنت المہران اور سندھ کا کوہ مری بھی کہا جاتا ہے۔

کراچی سے تقریباً 450 کلومیٹر کی مسافت پر واقع یہ ہل اسٹیشن سندھ کے لیے قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ کیوں کہ یہاں گرمیوں میں بھی سرد ہوائیں چلتی ہیں، جن کی اندازاً رفتار 4 سے 14 میل فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ جبکہ درجہ حرارت 20 سے 25 ڈگری کے درمیان رہتا ہے اور جنوری اور فروری میں عموماً برف باری بھی ہوتی ہے۔

یہاں بارشیں بھی معمول سے ہوتی ہیں جو کہ نہ صرف گورکھ ہل کی خوبصورتی میں چار چاند لگا دیتی ہیں بلکہ سیاحوں کی تھکن دور کر دیتی ہیں۔

گورکھ ہل اسٹیشن قدرتی طور پر ایک ایسی جگہ واقع ہے جہاں چاروں طرف خوبصورت پہاڑیاں ہیں۔ چاروں اطراف خوبصورت ہریالی ہے، جسے دیکھنے کے بعد سیاحوں کا دل باغ و بہار ہوجاتا ہے۔

ضلع دادو کی تحصیل جوہی میں سطح سمندر سے 5866 فٹ کی بلندی اور دادو شہر کے شمال مغرب میں 78 کلومیٹر کے فاصلے پر کیرتھر کے پہاڑوں پر یہ مقام واقع ہے، جس کا کچھ حصہ بلوچستان (خضدار) میں بھی آتا ہے۔

اگرچہ دیکھا جائے تو کراچی سے چھ سات گھٹے کا سفر تھکا دینے والا ہوتا ہے۔ لیکن وہاں جانے کے بعد اور وہاں کا سفر ایسا ہے کہ خود سفر کا پتا نہیں چلتا۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے، آلودگی سے پاک آب و ہوا اور خوبصورت قدرتی مناظر مسافر کے ایک ایک پور سے تھکن نچوڑ لیتے ہیں۔

اس علاقے میں دن کی خوبصورتی اپنی جگہ دل کو چھوتی ہے۔ رات کا پرشکوہ نظارہ نگاہوں کو مزید مبہوت کردیتا ہے۔ خاموشی ہی خاموشی اور آسماں ستاروں کی چادر سے ڈھکا دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کسی نے نیلے رنگ کی ردا میں بے شمار جگنو جڑ دیئے ہوں۔

گورکھ ہل اسٹیشن میں قائم بے نظیر ویو پوائنٹ ہل اسٹیشن کا سب سے اونچا مقام ہے۔ یہاں سیاح بڑے شوق سے طلوع و غروبِ آفتاب کے مناظر دیکھنے کو گھنٹوں انتظار کرتے ہیں اور تصاویر بناتے ہیں۔

اس خوبصورت وادی کی ٹھنڈک اور خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہونے کےلیے پورے ملک سے لوگ یہاں آتے ہیں۔

حکومت سندھ نے گزشتہ دور میں گورکھ ہل اسٹیشن کو ایک اتھارٹی قائم کی۔ اتھارٹی نے اس تفریحی مقام کو بہتر بنانے کےلیے جو انتظامات کیے ہیں، وہ قابل ستائش ہیں۔ گورکھ ہل اسٹیشن اتھارٹی بننے کے بعد وہاں کے مقامی لوگوں کو روزگار کا موقع بھی ملا۔

یہاں سیاحوں کی رہائش کےلیے ہٹ ریسٹورنٹ کی سہولت بھی موجود ہے۔ جہاں کا اسٹاف سیاحوں کی مہمان کے طور پر خدمت کرتا ہے، جس سے نہ صرف سندھ کی روایتی مہمان نوازی کا پتا چلتا ہے بلکہ سیاحوں کو وہاں جاکر اپنائیت محسوس ہوتی ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ممتاز جمالی

ممتاز جمالی

بلاگر کا تعلق گورگھ ہل اسٹیشن سے ہے اور کراچی میں ایک نجی ٹی وی چینل سے بطور صحافی وابستہ ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔