یونیورسٹیز ترمیمی بل؛ سرکاری جامعات بیک وقت 3 اتھارٹیز کے ماتحت آگئیں

صفدر رضوی  جمعـء 23 اگست 2013
جامعات اور ان کے الحاق شدہ تعلیمی اداروں کی داخلہ پالیسی حکومت طے کریگی، کسی وائس چانسلر کو تیسری مدت نہیں دی جائے گی۔  فوٹو: فائل

جامعات اور ان کے الحاق شدہ تعلیمی اداروں کی داخلہ پالیسی حکومت طے کریگی، کسی وائس چانسلر کو تیسری مدت نہیں دی جائے گی۔ فوٹو: فائل

کراچی: سندھ اسمبلی میں سرکاری جامعات اور انسٹی ٹیوشنزکے ترمیمی بل کی منظوری کے بعدصوبے کی یونیورسٹیز بیک وقت 3 اتھارٹیزکے ماتحت ہوگئی ہیں۔

انجینئرنگ، میڈیکل اورجنرل ایجوکیشن کی تعلیم دینے والی کراچی کی 3 بڑی سرکاری جامعات سے مقامی طلبا کیلیے مختص نشستیں ختم کرکے صوبے کے تمام طلباکو داخلوں کیلیے مساوی مواقع فراہم کردیے گئے ہیں جس کا میرٹ صوبائی حکومت طے کریگی، وائس چانسلرزسے بعض اہم عہدوں پرتقرریوں کے اختیارات لے لیے گئے ہیں جس کے سبب جامعات انتظامی طورپر’’ہائی اسکول‘‘ میں تبدیل ہوجائیں گی، سندھ یونیورسٹیزترمیمی بل 2013 کے مطابق جامعہ کراچی، این ای ڈی یونیورسٹی اور ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی سمیت دیگر جامعات اوران کے الحاق شدہ تعلیمی اداروں کی داخلہ پالیسی حکومت طے کریگی۔

جسکے تحت سندھ کے تمام طلبا کوداخلوں کیلیے مساوی مواقع دیے جائینگے ، اس وقت جامعہ کراچی میں کراچی کے طلبا کا درجہ K سندھ کے طلبا کا درجہ B اورپاکستان کے دیگر علاقوں کے طلبا کو درجہ P کے تحت داخلے دیے جاتے ہیں کراچی کے طلبا کیلیے مختص درجے کاتناسب داخلوں میں سب سے زیادہ ہے تاہم ترمیمی بل میں سندھ کے طلبا کے لیے داخلوں کے’’مساوی مواقع‘‘ کے الفاظ کے بعد کراچی کے طلبا کیلیے مختص درجہ K عملی طورپرختم ہوجائیگا، اس بل سے سندھ کی سرکاری جامعات اوراسناد تفویض کرنیوالے ادارے 3 مختلف اتھارٹیز کے ماتحت بھی ہوگئے ہیں۔

اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی جانب سے فنڈزکی فراہمی جبکہ چانسلرسیکریٹریٹ کی جانب سے کنٹرول کیے جانے کے سبب سندھ کی سرکاری جامعات پہلے ہی وفاقی حکومت اور گورنرسیکریٹریٹ کوجواب دہ ہیں،اب تقرریوں اورداخلہ پالیسی کی تشکیل کا اختیارصوبائی حکومت کے پاس آنے کے بعد سرکاری جامعات صوبائی حکومت کوبھی جواب دہ ہونگی ،صوبائی حکومت نے اس بل کے ذریعے جامعات کے وائس چانسلرز سے رجسٹرار ، ناظم امتحانات، برسرریذیڈنٹ آڈیٹر اور چیف اکاؤنٹنٹ کی تقرری کے اختیارات لے لیے ہیں ۔

جامعہ کراچی میں ان عہدوں پر تقرری براہ راست صوبائی حکومت خودکریگی اور وائس چانسلر کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوگا، مزیدبراں پرووائس چانسلرکے تقررکے سلسلے میں وائس چانسلر کی مشاورت بھی ختم کردی گئی ہے ’’پرو وائس چانسلر‘‘ کی جگہ لفظ ’’پرووائس چانسلرز‘‘ کردیا گیا ہے اور حکومت کی تجویز پرچانسلر پرو وائس چانسلرز کا تقرر کرسکے گا پی وی سی کی مدت چار سال ہوگی جنھیں مرکزی کیمپس اور اضافی کیمپسز میں مقررکیا جائیگا، ایک ہی کیمپس میں ایک سے زائد پی وی سی بھی تعینات کیے جاسکیں گے، مزیدبراں وائس چانسلر کے تقررکے حوالے سے چانسلر کو حاصل اختیارات میں ترمیم کرتے ہوئے اس میں حکومتی مشاورت لازمی کی گئی ہے ایک چار سالہ مدت کے بعد اس میں مزید ایک مدت کااضافہ ہوسکے گا جو شرائط چانسلرآفس طے کرے گا تاہم کسی وائس چانسلرکوتیسری مدت نہیں دی جائے گی۔

جامعہ کراچی کے ترمیمی بل کے مطابق بلڈنگ، لیبارٹری، میوزیم ورکشاپ،انسٹی ٹیوشن، ٹیچنگ اورامتحانات سمیت دیگر امور میں انسپیکشن اور انکوائری کے سلسلے میں حکومتی مشاورت لازمی ہوگی اس سے قبل اس معاملے کا براہ راست اختیاربھی چانسلرکے پاس تھااسی طرح یونیورسٹی سینیٹ کی تشکیل میں پرو وائس چانسلرکی جگہ پرو وائس چانسلرزشریک ہونگے اور سینیٹ کے لیے آرٹس، سائنس اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں سے 3 ممتاز افراد حکومتی تجویز پر چانسلرنامزد کرے گا جبکہ سینڈیکیٹ کے لیے بھی الحاق شدہ کالجوں کی پرنسپل نشست پر حکومتی تجویز کے بغیر نامزدگی نہیں کی جاسکے گی۔

مزید براں ڈیپوٹیشن، تبادلوں اور تقرریوں سے متعلق چانسلر کو حاصل خصوصی اختیارات میں بھی ترمیم کردی گئی ہے اب چانسلر حکومتی تجویز کے بغیر ڈیپوٹیشن، تبادلے اور تقرریاں نہیں کرسکے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔