گدھا... قابل احترام ہے!

محمد فیصل سلہریا  پير 6 مئ 2019
گدھے کا بوجھ بے چارہ گدھا ہی اٹھا رہا ہے اور بدستور ڈنڈے بھی کھائے جا رہا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

گدھے کا بوجھ بے چارہ گدھا ہی اٹھا رہا ہے اور بدستور ڈنڈے بھی کھائے جا رہا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

آپ اسے دیوانے کی بڑ کہیں گے یا کم از کم ہنسیں گے ضرور اگر میں یہ کہوں کہ تحریک انصاف کی حکومت کو کراچی کے اس گدھے کی بددعا ہے جوانصافیوں کی سنگ باری کی بھینٹ چڑھ گیا۔ پیٹرول مہنگا ہونے پر یہی گدھا لاہور کے چنگچی بانوں کا سہارا بنا ہے۔ ایک خبر کے مطابق گدھوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن گیا۔ ایتھوپیا اور چین تاحال ہمیں مات دیئے ہوئے ہیں۔ اچانک کاروبار چمک اٹھنے سے لاہور میں گدھوں کا بیوپار کرنے والے خوش ہیں۔ بیوپاریوں نے گدھا پال اسکیم کو منافع بخش قرار دیتے ہوئے بتایا کہ 35 سے 55 ہزار روپے تک کا گدھا آٹھ سو سے ہزار روپے یومیہ کما کر اپنے مالک کو دیتا ہے۔ چار سال کی عمر میں وہ کماؤ بن جاتا ہے اور 12 سال تک ’’کماؤ پوت‘‘ رہتا ہے۔

ڈیجیٹل ایج نے انسان کا بوجھ تو ہلکا کر دیا مگر گدھے کا بوجھ اور کرب جوں کا توں ہے۔ گدھے کا بوجھ بے چارہ گدھا ہی اٹھا رہا ہے اور بدستور ڈنڈے بھی کھائے جا رہا ہے۔ ہفتوں کا کام دنوں میں اور دنوں کا کام گھنٹوں میں کرلینے سے یا کم افرادی قوت کے ساتھ زیادہ پیداوار حاصل کرلینے کا گدھے کے معمولات پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ دماغی مشینیں ہمارے سارے جھمیلے تو سنھبال سکتی ہیں مگر خود ان کو کہیں لے جانا ہو تو ہم گدھے کی طرف ہی دیکھتے ہیں۔ گدھے کی استقامت دیکھیے کہ ماضی کی آن بان اور شان کے ساتھ آج بھی چھوٹے بڑے شہروں کی چھوٹی بڑی سڑکوں پر رواں دواں ہے۔ جدید ترین گاڑیاں، تجارتی سامان ایک شہر سے دوسرے شہر لے جاتی ہوں گی مگر گودام سے بازار اور بازار کی تنگ و تاریک گلیوں میں ایک دکان سے دوسری دکان تک تو یہ گدھا ہی کام آتا ہے۔

گھوڑا ’’لوٹا‘‘ نکلا، تانگوں سے نکل کر جواریوں کو اب اپنی دوڑ سے محظوظ کرتا ہے۔ ممکن ہے اسے بھی بورے والا کے مستری سے گلہ ہو جس نے تانگے میں موٹر والا ’’گھوڑا‘‘ نصب کرکے چنگیچی جیسی چیز ایجاد کرلی۔ آفرین ہے گدھے پر جس کے ہونٹوں پر کبھی حرف شکایت نہیں آیا، جس نے آج تک اپنے مالک کی چغلی نہیں کھائی، چاہے وہ اپنی گھر والی کا غصہ بھی اس پر نکالتا رہے۔ جب بھی، جیسا بھی کام ہو، ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے کفیلوں کی معیشت کا پہیہ بھی اسی کے گرد گھومتا ہے لہذا موڈ نامی کسی نزاکت کا اس کے ہاں گزر نہیں۔ مالک کبھی اظہار محبت کردے تو آپے سے باہر نہیں ہوتا، کیوں کہ کن اکھیوں سے ریڑھی پر پڑے اس ڈنڈے کو بھی دیکھ رہا ہوتا ہے جو نہ جانے کس لمحے اس پر برس پڑے۔ ڈنڈوں کی بارش میں بھی غصے سے بھیگتا نہیں۔ چلا جاتا ہے اور چلا جا رہا ہے۔ اہنسا پر کاربند رہتے ہوئے قدرت کا تفویض کردہ کام تندہی سے کیے جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گاندھی جی کو آپ نے گھوڑے کے بجائے گدھے پر بیٹھے ہوئے (تصویر میں) ضرور دیکھا ہوگا۔

آج ہمیں پہلی بار احساس ہوا ہے کہ ہم کس قدر شرمیلے واقع ہوئے ہیں ورنہ گدھا سرائی میں ہم یہاں تک کہہ جاتے کہ جناب ’’گدھا ہمارے لیے استاد کا درجہ رکھتا ہے۔‘‘ گدھے کی پھریری میں ملامت کا ایک ایسا سبق پنہاں ہے جسے سمجھے بغیر خربوزوں کے وہ چھلکے سمجھ میں نہیں آسکتے جو سید علی ہجویریؒ نے ایک خانقاہ میں کھائے تھے اور جن کا کشف المحجوب کے چوتھے باب میں ذکر ہے۔ گدھا جس طرح خود کو مٹی میں مٹی کرلیتا ہے اور بعد میں اپنے پورے وزن کے ساتھ کھڑا ہوکر ایک زور دار پھریری کے ذریعے جسم پر مٹی کا ذرہ بھی نہیں رہنے دیتا؛ ملامت کے بعد مقام صفا تک رسائی کا ایسا عارفانہ عملی درس دینا گدھے ہی کا خاصّہ ہے۔ زندگی ایک بہت بڑی جامعہ ہے تو گدھا اس میں شعبہ ملامت کا سربراہ ہے۔ ’’مالک کی مار کھا کر اپنے حصے کا بوجھ اٹھائے جا،‘‘ اس کا نعرہ مستانہ اور نصاب زندگی ہے۔

زندگی کی ہماہمی میں گدھے نے استاد جی کا درجہ اس وقت پایا جب دفتر میں ایک معمولی سی بات پر سارا دن ہم غصے کے تندور میں جھلستے رہے اور قلم چھوڑ ہڑتال کیے رکھی۔ اسی روز دفتر سے واپسی پر ہمیں استاد جی سے بالمشافہ ملاقات کا موقع مل گیا۔ پیدل چلتے ہوئے جب ہمارے قریب سے گدھا گاڑی گزری تو مارے محبت کے ہم سے رہا نہ گیا اور جھٹ چھلانگ لگا کر ریڑھی بان کے بالمقابل براجمان ہوگئے۔ ہماری وضع قطع دیکھ کر ریڑھی بان نے ہمیں ’’باؤ‘‘ سمجھتے ہوئے یہ گستاخی معاف کردی اور عالم بے نیازی میں ایک نگاہ صحیح پر ہی اکتفا کیا۔ ہم زیارت استاد سے مستفید ہوتے جارہے تھے اور یہ عقدہ کھلتا جارہا تھا کہ غصہ واقعی ایسا بوجھ ہے جس نے انسان کو گدھا بنا رکھا ہے اور وہ حالات کے ڈنڈے کھاتا رہتا ہے۔ بوجھ والی بات تو خواجہ اجمیر غریب نوازؒ کی ہے البتہ گدھے کا اضافہ ہماری جسارت ہے۔ اب ہم یہ امید رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ ہمارے استاد جی کے شاگردوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

محمد فیصل سلہریا

محمد فیصل سلہریا

بلاگر روزنامہ ایکسپریس لاہور سے بطور سینئر سب ایڈیٹر وابستہ ہیں۔ حلقہ ارباب ذوق لاہور اور ادبی کمیٹی لاہور پریس کلب کے رکن بھی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔