بھکرمیں 2 مذہبی گروپوں میں مسلح تصادم، 11 افراد ہلاک، 6 زخمی

ویب ڈیسک  جمعـء 23 اگست 2013
 دونوں مذہی گروپوں کے درجنوں افراد کے درمیان جدید اسلحے کی مدد سے ایک دوسرے پر شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری  ہے فوٹو: فائل

دونوں مذہی گروپوں کے درجنوں افراد کے درمیان جدید اسلحے کی مدد سے ایک دوسرے پر شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے فوٹو: فائل

بھکر: دو مذہبی گروپوں کے درمیان مسلح تصادم کے نتیجے میں ایک راہگیر سمیت 11 ا فراد  ہلاک اور 6 زخمی ہوگئے جب کہ ڈی سی او بھکر نے صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے رینجرز سے مدد طلب کر لی ہے۔

ایکپریس نیوز کے مطابق  بھکر میں دریا خان کے علاقے کوٹلہ جام میں 2 مذہبی گروپوں کے درجنوں افراد کے درمیان جدید اسلحے کی مدد سے ایک دوسرے پر شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری  ہے جس کی زد میں آ کر دونوں گروپوں کے 10 افراد اور ایک راہ گیر غلام مصطفی جاں بحق ہو گیا۔ فائرنگ کی وجہ سے علاقے میں دکانیں اور دیگر کاروباری مراکزی بند ہو گئے ہیں، دونوں گروپوں میں فائرنگ کا سلسلہ اب بھی وقفے وقفے سے جاری ہے جب کہ گروپوں کی جانب سے مساجد میں اشتعال انگیر اعلانات کروائے جا رہے ہیں۔  صورتحال کو کنٹرول کرنے میں پولیس اور انتظامیہ کی ناکامی کے بعد ڈی سی او بھکر نے رینجرز سے مدد طلب کر لی ہے۔

وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے بھکر میں دو مذہبی گرپوں کے درمیان ہونے والے تصادم کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے واقعے کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کسی بھی شخص کو امن و امان کی صورت حال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور  بھکر واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب دونوں مذہبی گروپوں کی جانب سے واقعے کے ملزمان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ 2 روز قبل ایک مذہبی گروپ کے ضلعی سیکریٹری جنرل کے قتل  کے بعد سے علاقے میں شدید کشیدگی تھی اور آج پورے علاقے میں  ہڑتال کی کال  کی بھی دی گئی تھی۔ مذہبی گروپ نے حکومت کو ملزمان کی گرفتاری کے لئے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا گیا تھا جس کے ختم ہونے کے بعد ایک مرتبہ پھر پورے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔