مظلوم اسلام

جاوید چوہدری  ہفتہ 24 اگست 2013
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

سکندر ایشو کا آخری پہلو اسلام تھا‘ سکندر دوبئی میں رہتا تھا‘ یہ وہاں بری سوسائٹی میں پھنس گیا‘ اس نے نشہ شروع کر دیا‘ یہ عادت اسے ہیروئن تک لے گئی‘ علاج ہوا‘ یہ ٹھیک ہو گیا لیکن ہیروئن اس کے دماغ‘ اس کے مزاج اور اس کے رویوں پر اپنا اثر چھوڑ چکی تھی‘ یہ مستقل نفسیاتی مریض بن گیا‘ یہ باریش تھا مگر اس نے داڑھی منڈوا دی‘ یہ شراب بھی پیتا تھا‘ چرس کا عادی بھی تھا‘ یہ نیند کی گولیاں بھی کھاتا تھا اور یہ سگریٹ بھی پیتا تھا‘ اس نے دو شادیاں کیں‘ اس کی پہلی بیوی کا تعلق دوبئی سے تھا اور یہ عمر میں بھی اس سے زیادہ تھی‘ دوسری شادی پاکستان میں کی مگر یہ اپنی بیوی سے اکثر جھگڑتا رہتا تھا‘ یہ بیوی پر تشدد بھی کرتا تھا‘ یہ پیسے کے معاملے میں بھی تنگ تھا‘ ماں اس سے اس قدر تنگ تھی کہ اس نے اسے عاق کر دیا۔

یہ زخمی ہوا اور اسپتال میں زندگی اور موت کی سرحد پر جا کھڑا ہوا تو بھی اس کے خاندان کا کوئی فرد اس سے ملاقات کے لیے نہیں آیا‘ اس کے بھائی اور دوست بھی اس سے نالاں تھے چنانچہ کوئی بھائی‘ کوئی دوست اس کی مدد کے لیے نہیں آیا‘ اس کا اقدام بھی انتہائی قابل مذمت اور زیادتی پر مبنی ہے‘ دنیا کا کوئی نظام‘ کوئی روایت اور کوئی اخلاقیات یہ اجازت نہیں دیتی‘ آپ غیر قانونی اسلحہ خریدیں‘ اپنے دو معصوم بچوں اور بیوی کو کرائے کی گاڑی میں بٹھائیں اور وفاقی دارالحکومت کی مرکزی سڑک پر مولا جٹ بن کر کھڑے ہو جائیں‘ آپ اپنے بچوں کو اپنی ڈھال بنائیں‘ ہوائی فائرنگ کریں‘ ٹیلی ویژن کیمروں کی طرف دیکھ کر ہلاتھ ہلائیں اور پولیس کے سامنے اسلام نافذ کرنے کا مطالبہ کریں اور یوں درجنوں لوگوں کی زندگی خطرے میں ڈال دیں‘ یہ اقدام کسی بھی طرح اخلاقی یا قانونی نہیں تھا۔ آپ سکندر کے رویوں کا جائزہ لیجیے‘ یہ کسی بھی طرح اسلامی محسوس نہیں ہوں گے‘ نشہ اسلام میں حرام ہے۔

رشتے داروں کے ساتھ بدتمیزی بالخصوص والدہ کے ساتھ برا رویہ خالصتاً غیراسلامی اور غیراخلاقی ہے‘ بیوی پر تشدد کرنا‘ بچوں کو ڈھال بنا کر دہشت پھیلانا‘ فائرنگ کرنا اور پوری ریاست کو پانچ گھنٹوں تک یرغمال بنائے رکھنا‘ یہ تمام اقدامات بھی اسلامی یا اخلاقی نہیں ہیں‘ دوسرا سکندر پانچ گھنٹے سڑک پر کھڑا رہا‘ ٹیلی ویژن چینلز کے کیمرے اسے مسلسل دکھاتے رہے‘ اس دوران یہ لفنگوں کی طرح سگریٹ پیتا اور دھواں اگلتا رہا‘ اس نے کوئی نماز ادا نہیں کی‘ یہ حرکت بھی غیراسلامی ہے لیکن آپ اس کے مطالبات ملاحظہ کیجیے‘ اس کا فرمان تھا ’’ میں پاکستان میں اسلام نافذ کرنا چاہتا ہوں‘ میں اس وقت تک سڑک سے نہیں ہٹوں گا جب تک ملک میں شریعت نافذ نہیں ہوتی اور یہ حکومت ختم ہونی چاہیے‘‘ ہم نے اسے اور اس کی بیگم کو رات پونے گیارہ بجے لائیو شو میں بھی لیا‘سکندر کی بیوی کنول اور اس کا رویہ انتہائی ناشائستہ تھا‘ یہ تقریباً گالیاں دے رہا تھا‘ ہم اس رویئے کو بھی اسلامی قرار نہیں دے سکتے مگر یہ اس کے باوجود اسلام نافذ کرنا چاہتا تھا‘ مجھے سکندر کو دیکھ کر اسلام پر بہت رحم آیا۔

مجھے اس وقت اللہ تعالیٰ کا آخری دین مظلوم لگا‘ آپ تصور کیجیے‘ وہ شخص جو اپنے پانچ فٹ دس انچ کے قد پر اسلام نافذ نہیں کر سکا‘ جو  اپنی ماں کے ساتھ بدتمیزی کرتا تھا اور جو نشوں کا عادی تھا‘ وہ  نہ صرف غیرقانونی رائفل کے ذریعے اسلام نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا بلکہ وہ یہ حکم بھی دے رہا تھا عوام کی اکثریت نے ووٹ کے ذریعے جو حکومت قائم کی تھی اسے ختم کر دیا جائے‘ کیا یہ تضاد نہیں؟ اور کیا اسلام کا سکندر جیسے شخص کے ہاتھ میں آ جانا اسلام کے ساتھ زیادتی نہیںاور کیا یہ مذہب اس قسم کے واقعات کے بعد مظلوم اور قابل ترس نہیں بن جاتا۔

اسلام پر صرف سکندر نے ظلم نہیں کیا بلکہ اس معاشرے کا ہر وہ شخص جو پوری زندگی اپنی سوچ‘ اپنی فکر‘ اپنی روٹین‘ اپنے رویوں اور اپنے معاملات کو مسلمان نہیں کر سکا‘ جس کی اخلاقیات تک نے کلمہ نہیں پڑھا اور وہ بزور بازو اٹھارہ کروڑ لوگوں پر اسلام نافذ کرنا چاہتا ہے وہ شخص ظالم بھی ہے اور اسلام کا ملزم بھی‘آپ تصور کیجیے جس ملک میں مسجد سے لوٹے‘ گلاس اور پنکھے چوری ہو جاتے ہیں‘ ہم جس میں آج تک کوئی صاف ستھرا استنجہ خانہ نہیں بنا سکے‘ ہم وضو خانہ ڈیزائن نہیں کر سکے‘ ہم مولوی کو یہ نہیں سمجھا سکے لاؤڈ اسپیکر بھی فضائی آلودگی ہے اور لوگ اس کی وجہ سے اسلام سے دور ہو رہے ہیں‘ ہم آج تک کوئی جدید اسلامی سینٹر نہیں بنا سکے اور جس میں ہم آج بھی تصویر اور ٹیلی ویژن کو حرام قرار دیتے ہیں اور آخر میں چرسی سکندر رائفل لہرا کر حکم دیتا ہے اسلام نافذ کرو‘ کیا یہ زیادتی نہیں؟

ہم اٹھارہ کروڑ لوگ ہیں اور ملک میں اسلام بھی اٹھارہ کروڑ ہیں‘ میں اور میرا ہمسایہ دونوں ایک خدا‘ ایک رسول اور ایک قرآن مجید کو مانتے ہیں لیکن دونوں کا اسلام مختلف ہے اور ہم ایک دوسرے کو کافر بھی سمجھتے ہیں‘ ہم مسجدوں میں نماز پڑھتے ہیں لیکن میری مسجد‘ نقوی صاحب کی مسجد‘ بریلوی صاحب کی مسجد اور دیوبندی صاحب کی مسجد میں زمین آسمان کا فرق ہے‘ ہم ایک خدا کے سامنے سجدے کے بعد ہمسائے کی مسجد اور اس مسجد کے نمازیوں کو کافر قرار دے دیتے ہیں‘ ہم آج تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے اسلام شروع کہاں سے ہوتا ہے مگر ہم اس کے نفاذ کے لیے رائفل لے کر باہر آجاتے ہیں‘ اسلام سلامتی ہے اور سلامتی اس وقت تک آپ کے دروازے کے اندر پائوں نہیں رکھتی جب تک آپ کی زبان پر مسکراہٹ‘ دل میں وسعت اور دماغ میں برداشت نہیں ہوتی‘ آپ جب تک ہتھیار نیچے نہیں رکھ دیتے اور آپ جب تک دوسرے کے خدا اور عقیدے کو برداشت نہیں کرتے مگر ہم آج تک یہ نہیں سمجھ سکے۔

نبی اکرمؐ کی حیات مبارکہ 63 برس تھی‘ آپؐ نے ان 63 برسوں میں سے چالیس برس عام انسان کی حیثیت سے گزارے‘ آپؐ نے ان چالیس برسوں میں جو کریڈیبلٹی حاصل کی وہ بعثت کے بعد اسلام کا اصل سرمایہ تھی‘ آپؐ چالیس برس تک دنیا کے جاہل ترین معاشرے میں صداقت‘ امانت‘ سچائی‘ شرافت‘ سادگی‘ صبر‘ برداشت‘ شائستگی اور حیا کاشت کرتے رہے اور جب یہ فصل پک کر تیار ہو ئی تو اللہ تعالیٰ نے آپؐ پر اپنا آخری دین  اتار دیا‘ اس وقت آپؐ کی کریڈیبلٹی اس معراج پر تھی کہ اسلام سے انکار کرنے والے لوگ بھی یہ ضرور کہتے تھے‘ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی جھوٹ نہیں بولا‘ یہ صادق بھی ہیں اور امین بھی۔ آپؐ کی کریڈیبلٹی ملاحظہ کیجیے‘ مکہ کے جاہل‘ رسول اللہ  ﷺ کے کریکٹر کی گواہی دے رہے ہیں‘ اسلام میں کریکٹر کے چالیس سال پہلے آتے ہیں اور لا الٰہ الااللہ بعد میں مگر ہم کریکٹر پر توجہ دینے کی بجائے ایک ہاتھ میں کلاشنکوف لہراتے ہیں‘ دوسرے ہاتھ سے سگریٹ منہ میں رکھتے ہیں۔

کیمروں کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہیں اور پھر اعلان کرتے ہیں ’’اسلام نافذ کرو گے تو میں جائوں گا‘‘ بھائی صاحب! آپ پہلے اپنی ان انگلیوں پر تو اسلام نافذ کر لیں جن میں آپ نے چرس سے بھرا ہوا سگریٹ پکڑ رکھا ہے‘ آپ پہلے اس کندھے پر تو اسلام نافذ کر لیں جس پر آپ نے رائفل لٹکا رکھی ہے اور آپ پہلے ان ہونٹوں پر تو اسلام نافذ کر لیں جن کے ذریعے آپ بے گناہوں کو گالیاں دے رہے ہیں‘ آپ کو طہارت کا طریقہ تو آتا نہیں مگر اسلام آپ پورا نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ پورے مدینہ شہر میں ایک مسجد تھی مگرہم نے ہر محلے میں مسجد بنا رکھی ہے اورہم اس مسجد میں بیٹھ کر دوسرے محلے کی مسجد اور اس کے نمازیوں کے اسلام کو چیلنج کرتے ہیں‘ ہم انھیں کافر قراردے دیتے ہیں‘ نماز ہم پڑھتے نہیں‘ پڑھتے ہیں تو زکوٰۃ نہیں دیتے‘ زکوٰۃ دیتے ہیں تو روزے نہیں رکھتے اور اگر یہ تمام کام کر بھی لیں تو شائستگی اور صفائی ہمارے قریب سے نہیں گزرتی‘ ہم اس رسولؐ کو مانتے ہیں جنھوں نے دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے دانت صاف کیے تھے۔

جنھوں نے زندگی کا کوئی لمحہ ضایع نہیں کیا‘ جو اپنے ہاتھ سے جوتے گانٹھتے تھے‘ جو اپنی صاحبزادی کو دیکھنے کے لیے بہانے بہانے سے ان کے گھر جاتے رہتے تھے‘ جو یتیم کے سر پر ہاتھ رکھتے تھے تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے‘ جو اس قدر ایماندار تھے کہ ان پر ایمان نہ لانے والوں‘ ان کو کعبے کے سائے سے اٹھا دینے والوں اور ان پر سجدوں کے دوران اوجڑیاں رکھنے والوں کو بھی جب امانت رکھوانا ہوتی تو وہ بے اختیار ’’محمد  ؐ‘ محمد  ؐ‘‘ پکار اٹھتے تھے۔ ایک بدو مسجد نبویؐ کے کونے میں پیشاب کر رہا تھا‘ صحابہؓ اسے روکنے کے لیے دوڑے تو آپؐ نے ان سے کہا نہیں پہلے اسے فارغ ہو لینے دو۔ غیرمسلم مہمان آئے تو آپؐ نے انھیں مسجد نبوی میں ٹھہرا دیا‘ ایک مہمان کا پیٹ خراب تھا‘ اس نے بسترخراب کر دیا‘ صحابہؓ نے اگلے دن اللہ کے آخری نبیؐ کو وہ گندا بستر دھوتے دیکھا‘ یہ ہے اسلام۔ ایک بے روزگار شخص آیا‘ آپؐ نے اس کا پیالہ اور کمبل فروخت کیا‘ کلہاڑا منگوایا۔

اس میں دستہ ٹھوکا اور فرمایا جائو لکڑیاں کاٹو اور آزاد اور خودمختار زندگی گزارو‘یہ ہے اسلام۔آپ ؐ نے فرمایا‘ جب بھی چلو‘ راستے کے دائیں جانب چلو‘ نظریں جھکا کر رکھو اور راستے کے اینٹ پتھر ہٹاتے ہوئے چلو‘یہ ہے اسلام۔ ایک دن بڑھیا نے کوڑا نہ پھینکا تو اس کی خیریت معلوم کرنے چلے گئے اور فتح مکہ کے دوران اسلام کے سب سے بڑے دشمن ابو سفیان کے گھر کو دارالامان قرار دے دیا اور جب وہ حبشی سامنے آیا جس نے حضرت حمزہ ؓ کا کلیجہ نکالا تھا تو اسے بھی معاف کر دیا اور جب دنیا سے پردہ فرمایا تو اس پورے کرہ ارض پر کوئی ایسا شخص نہیں تھا جو یہ کہتا‘ محمدؐ نے میرا دل دکھایا تھا‘ یہ ہے اسلام‘ مگر ہم لوگ چرس پی کر بلیو ایریا میں رائفل لہرا کر اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں‘ ہمارے کریکٹر کی حالت یہ ہے سکندر کی ماں اسے عاق کر دیتی ہے مگر وہ رائفل لہرا کر ریاست کو حکم دیتا ہے ’’فوراً اسلام نافذ کرو‘‘ کیا اس ملک میں اسلام پر اس سے زیادہ ظلم ہو سکتا ہے‘ مجھے سکندر کے ہاتھ میں رائفل اور ہونٹوں پر اسلام دیکھ کریہ مذہب بے چارہ بھی لگتا ہے اور مظلوم بھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔