مادرِ ملت، سنسر کی زد میں محترمہ فاطمہ جناح کی تقریر اور تحریر کو سنسر کرنے کے دو واقعات

ایکسپریس اردو  جمعـء 6 جولائ 2012
محترمہ فاطمہ جناح، قائداعظم محمد علی جناح کی بہن ہی نہیں، بلکہ ان کی فکری وراثت کی بھی امین تھیں۔فوٹو ایکسپریس

محترمہ فاطمہ جناح، قائداعظم محمد علی جناح کی بہن ہی نہیں، بلکہ ان کی فکری وراثت کی بھی امین تھیں۔فوٹو ایکسپریس

محترمہ فاطمہ جناح، قائداعظم محمد علی جناح کی بہن ہی نہیں، بلکہ ان کی فکری وراثت کی بھی امین تھیں۔ ان کی زندگی کا بیش تر حصہ اپنے عظیم بھائی کی رفاقت میں بسر ہوا، خصوصاً قائداعظم کی زندگی کے آخری انیس برس تو ایسے تھے جب محترمہ فاطمہ جناح لمحہ بہ لمحہ اپنے بھائی کے ساتھ رہیں۔ بھائی اور بہن کے مزاج میں ذرہ بھر بھی فرق نہیں تھا۔ وہی جذبۂ خدمت، وہی جرأت و بے باکی اور وہی یقین محکم جو بھائی کی خصوصیات تھیں، قدرت نے بہن کو بھی ودیعت کردی تھیں۔

محترمہ فاطمہ جناح نے اپنے بھائی کے دوش بدوش 1936ء ہی میں خدمت قوم و وطن کا بیڑا اٹھالیا اور مسلمان عورتوں میں زندگی کی ایک نئی روح پھونک دی۔ مسلمانوں کی پسماندگی کی جو حالت تھی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، مگر خاتون پاکستان نے برصغیر کا شہر بہ شہر دورہ کرکے مسلمان عورتوں میں ایک نئی زندگی پیدا کردی اور یہ محترمہ کی مساعی کا ہی نتیجہ تھا کہ حصول پاکستان کی جدوجہد میں مسلمان عورتوں نے بھی مردوں کے شانہ بشانہ قابل تعریف خدمات انجام دیں۔

پاکستان بننے اور قائداعظم کی وفات کے بعد محترمہ فاطمہ جناح کے پیش نظر ہمیشہ یہ رہا کہ کس طرح اس مملکت خداداد کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا جائے اور اسے دنیا کی ایک بہترین مملکت کے قالب میں ڈھالا جائے۔ اس حوالے سے انہوں نے مسلسل جدوجہد کی اور وہ مختلف مواقع پر قوم سے مخاطب بھی ہوتی رہیں۔ انہوں نے پاکستان کے مختلف قومی دنوں اور تہواروں کے مواقع پر ریڈیو پاکستان سے بھی عوام سے خطاب کیا۔ اس سلسلے کا آغاز قائداعظم کی زندگی ہی میں ہوچکا تھا۔

ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ اور محترمہ کی تقاریر کے ایک نایاب مجموعے ’’گلبانگ حیات‘‘ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ریڈیو پاکستان سے محترمہ فاطمہ جناح کی پہلی تقریر 5 نومبر 1947ء کو نشر ہوئی تھی۔ قائداعظم کی زندگی ہی میں محترمہ فاطمہ جناح کی دوسری تقریر 28 مارچ 1948ء کو ریڈیو پاکستان ڈھاکا سے نشر ہوئی۔ محترمہ فاطمہ جناح نے قائداعظم کی رحلت کے بعد ریڈیو پاکستان سے جو پہلی تقریر کی اس کی تاریخ نشریہ27 ستمبر 1948ء ہے۔

ریڈیو پاکستان سے محترمہ فاطمہ جناح کی تقاریر کا یہ سلسلہ جاری رہا اور یوم آزادی، یوم وفات قائداعظم اور عیدالفطر کے مواقع پر وہ اپنی نشری تقریروں کے ذریعہ قوم کی راہ نمائی کا فریضہ انجام دیتی رہیں۔ ان تمام تقاریر اور بیانات کے مسودے محترمہ کی تقاریر کے پہلے مجموعے ’’گلبانگ حیات‘‘ میں محفوظ ہیں۔

مگر 11 ستمبر 1951ء کو قائداعظم کی تیسری برسی کے موقعے پر محترمہ فاطمہ جناح کی ایک تقریر کے قضیے نے پورے ملک کو ہلاکر رکھ دیا۔ہوا یوں کہ اس دن ریڈیو پاکستان کے کراچی اسٹوڈیوز سے محترمہ فاطمہ جناح کی اردو زبان میں ایک تقریر نشر ہوئی، جس میں انہوں نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا اور نام لیے بغیر وزیراعظم لیاقت علی خان کی حکومت پر تنقید کی۔ تقریر کے آخر میں انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ قائداعظم کی رفتار، گفتار اور کردار کو اپناتے ہوئے اپنی مملکت اور قوم میں وہ انقلاب پیدا کردیں، جس سے دنیا لرز اٹھے اور پھر کسی کو ان سے مقابلے کی جرأت نہ ہو۔

تقریر کی ریکارڈنگ سے قبل ریڈیو پاکستان کے کنٹرولر زیڈ اے بخاری نے، جو تقریر کا مسودہ دیکھ چکے تھے، محترمہ فاطمہ جناح سے درخواست کی کہ وہ اس تقریر کے بعض ’’قابل اعتراض‘‘ حصے حذف کردیں، مگر محترمہ نے یہ بات ماننے سے انکار کردیا اور اصرار کیا کہ ان کی تقریر کو یا تو بلاترمیم نشر کیا جائے یا اعلان کردیا جائے کہ آج وہ تقریر نہیں کرسکیں گی۔

زیڈ اے بخاری اس وقت تو خاموش ہوگئے کہ مگر عملی طور پر یہ ہوا کہ جب تقریر نشر ہوئی تو سننے والوں نے دو مواقع پر محترمہ فاطمہ جناح کی آواز کو ڈوبتا ہوا محسوس کیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ دونوں مواقع ان دو جملوں سے مطابقت رکھتے تھے جن پر زیڈ اے بخاری کو اعتراض تھا۔

یہ معاملہ جونہی محترمہ فاطمہ جناح کے علم میں آیا، انہوں نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور پریس نے بھی فوراً ہی اس کے حوالے سے خبریں چھاپنی شروع کردیں۔ یہ خبریں شایع کرنے میں انگریزی اخبارات ’’ایوننگ ٹائمز‘‘ اور’’ ٹائمز آف کراچی‘‘ اور اردو اخبار’’ جنگ‘‘ پیش پیش تھے۔ ان اخبارات نے نہ صرف اس واقعے کے حوالے سے خبریں شایع کیں، بلکہ حکومت کے خلاف تندوتیز اداریے بھی تحریر کیے۔ ’’ایوننگ ٹائمز‘‘ نے اپنے اداریے میں لکھا کہ محترمہ فاطمہ جناح کی نشری تقریر میں گڑ بڑ کی ذمے داری صرف ریڈیو پاکستان پر نہیں بلکہ وزارتِ اطلاعات و نشریات اور ساری حکومت پاکستان پر بھی عاید ہوتی ہے۔ اخبارات کے دبائو کے بعد ریڈیو پاکستان کے کنٹرولر آف براڈ کاسٹنگ زیڈ اے بخاری نے محترمہ فاطمہ جناح کو ایک معافی نامہ روانہ کیا، مگر محترمہ نے ان کی معروضات کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اگلے روز بخاری صاحب نے محترمہ کو ایک اور معذرت نامہ ارسال کیا اور اعلان کیا کہ 24 ستمبر کی شب محترمہ کی تقریر دوبارہ نشر کی جائے گی۔ محترمہ فاطمہ جناح نے بخاری صاحب کی ان معروضات کو بھی ماننے سے انکار کردیا، جس کے بعد بخاری نے ایک تیسرا معذرت نامہ تحریر کیا اور اس دوران محترمہ کی تقریر بھی ریڈیو پاکستان سے بغیر کسی سنسر کے دوبارہ نشر کردی۔

قدرت اللہ شہاب نے اپنی کتاب شہاب نامہ میں اس واقعے کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:

’’(محترمہ فاطمہ جناح کی) تقریر نشر ہورہی تھی کہ ایک مقام پر پہنچ کر اچانک ٹرانسمیشن بند ہوگئی۔ کچھ لمحے ٹرانسمیشن بند رہی۔ اس کے بعد خود بخود جاری ہوگئی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ مس جناح کی تقریر میں کچھ فقرے ایسے تھے جن میں حکومت پر کچھ تنقید تھی۔ وہ تو بدستور ان فقروں کو مائک پر پڑھتی گئیں، لیکن ٹرانسمیشن بند ہوجانے کی وجہ سے وہ فقرے براڈ کاسٹ نہ ہوسکے۔ اس بات پر بڑا شور شرابا ہوا۔ اخباروں میں بہت سے احتجاجی بیانات بھی آئے۔ اگرچہ ریڈیو پاکستان کا مؤقف یہی تھا کہ ٹرانسمیشن میں رکاوٹ کی وجہ یہ تھی کہ اچانک بجلی فیل ہوگئی تھی، لیکن کوئی اس بات پر یقین کرنے کو تیار نہ تھا۔ سب کا یہی خیال تھا کہ مس جناح کی تقریر میں ضرور کوئی ایسی بات تھی جسے حذف کرنے کے لیے یہ سارا ڈھونگ رچایا گیا ہے۔ اس ایک واقعے نے حکومت کے اعتماد کو جتنیٹھیس پہنچائی، اتنا نقصان مس فاطمہ جناح کے چند تنقیدی جملوں سے نہیں پہنچ سکتا تھا۔

جن دنوں یہ قضیہ اپنے عروج پر تھا، ایک روز ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ وزیر داخلہ و اطلاعات کے کمرے میں یہ بات طے کرنے کے لیے میٹنگ ہوئی کہ اس قصے کے متعلق پبلک میں جو چہ می گوئیاں ہورہی ہیں، ان پر کس طرح قابو پایا جائے۔ بے حد طویل اور بعیداز کار بحث و تمحیص کے بعد آخر مسٹر جی احمد نے تجویز پیش کی کہ کسی نام ور شخصیت سے انکوائری کروا کے یہ ثابت کیا جائے کہ مس جناح کی تقریر کی براڈ کاسٹنگ کے دوران بجلی فیل ہوگئی تھی۔ اس انکوائری رپورٹ کی اشاعت کے بعد زبان خلق خود بخود بند ہوجائے گی۔ اس کے برعکس وزیر اطلاعات خواجہ شہاب الدین کو اصرار تھا کہ انکوائری بے لاگ اور غیرجانب دار ہونی چاہیے۔ اگر یہ ثابت ہواکہ بجلی فیل نہیں ہوئی، تو اس کا بھی برملا اعتراف کرنا ضروری ہے، تاکہ عوام کے ذہن میں مزید بدگمانیاں پیدا نہ ہوں۔ سیکریٹری اور وزیر کے درمیان اس بحث کی تلخ کلامی نے بڑا طول کھینچا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ خواجہ صاحب بھی یہی سمجھتے تھے کہ بجلی فیل نہیں ہوئی، اور اب وہ اس بات کو کھلم کھلا منظرعام پر لانے کے لیے بے تاب تھے۔ ‘‘

یہی واقعہ ذرا سی تبدیلی کے ساتھ ممتاز صحافی ضمیر نیازی نے بھی اپنی کتاب Press in Chains میں رقم کیا ہے۔ وہ زیڈ اے سلہری کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’ان موقعوں پر جہاں مس فاطمہ جناح لیاقت کی حکومت پر تنقید کررہی تھیں، ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی… معلوم ہوا کہ جب مس جناح 11 ستمبر 1951ء کو قائد کی برسی پر قوم کے نام اپنے معمول کا سالانہ براڈ کاسٹ تیار کررہی تھیں، کنٹرولر آف براڈ کاسٹنگ زیڈ اے بخاری نے ان سے تقریر کا مسودہ حاصل کیا اور اس کے دو ناقدانہ جملوں پر ناخوشی محسوس کرتے ہوئے انہیں حذف کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ مس جناح نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ وہ اپنی گفتگو براڈ کاسٹ کرانے کی غرض سے ریڈیو اسٹیشن گئیں، جو ان کے خیال میں مناسب طور پر نشر ہوگئی۔ درحقیقت ایسا نہیں ہوا تھا۔ سننے والوں نے دو موقعوں پر تقریر کی آواز کو ڈوبتا ہوا محسوس کیا، اور بعد میں پتا چلا کہ یہ دونوں موقعے ان دو جملوں سے مطابقت رکھتے تھے، جن پر بخاری نے اعتراض کیا تھا۔ ممکن ہے یہ کنٹرولر آف براڈ کاسٹنگ کا اپنے مالکوں کی خدمت کا جوش رہا ہو، جس نے اسے ان دو جملوں پر آواز مدھم کردینے پر اکسایا ہو، لیکن اس واقعے کی ذمے داری آخر کار حکومت ہی پر عاید ہوئی کہ اس نے اس ہستی کی آواز کو دبانے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی جسے مادرِ ملت کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس پر جو ملک گیر ایجی ٹیشن شروع ہوا، اس سے لیاقت کو کوئی فائدہ نہ پہنچا۔ ایک طویل عرصے تک اس واقعے کی وضاحت کرنے میں حکومت کی ناکامی عوام کے بدترین خدشات کی تصدیق کرتی معلوم ہوتی تھی۔ اس خاموشی سے حکومت کے گرد مسلط ہوجانے والی حساسیت اور افسروں کے اختیار کردہ خوشامدانہ رویے کا انکشاف ہوا۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ اگر مس جناح جیسی ہستی کے ساتھ یہ سلوک کیا جاسکتا ہے، تو پھر کوئی بھی شخص اپنی آواز بلند نہیں کرسکتا۔‘‘

اس واقعے کے دوران زیڈ اے بخاری نے محترمہ فاطمہ جناح کو جو معافی نامے ارسال کیے اور محترمہ نے ان کے جوابات روانہ کیے وہ اب نایاب کے ذیل میں آتے ہیں۔ یہ معافی نامے اور ان کے جوابات قارئین کے استفادے کے لیے درج کیے جارہے ہیں:

12 ستمبر 1951ء کو زیڈ اے بخاری نے خاتون پاکستان کو مندرجہ ذیل خط روانہ کیا: ’’محترمہ مس فاطمہ جناح! گذشتہ شب آپ کی نشری تقریر میں ذراسی دیر کے لیے جو خلل واقع ہوا، اس کے لیے میں آپ سے معذرت خواہ ہوں۔ گذشتہ شنبہ (ہفتے) کو ہمارے جنریٹر خراب ہوگئے اور ہماری طرف سے ممکنہ کوشش کی گئی کہ ہمارے ٹرانسمیٹر کو کل رات آٹھ بجے سے سوانو بجے تک قومی پروگرام کے دوران پوری قوت بہم پہنچائی جائے۔ مجھے انتہائی افسوس ہے کہ ٹرانسمیٹروں کو ان کی پوری قوت پر چلانے میں ہم پوری طرح کام یاب نہ رہے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری تیسری نشریات میں ہمارے سامعین اور ہمارے ٹرانسمیٹر مانیٹروں کو کچھ وقفے محسوس ہوئے۔ تاہم میں آپ کو یقین دلاسکتا ہوں کہ اس وقفے کے باعث آپ کے نشر کی عمدگی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی، جس کی نسبت مجھے اپنے علاقائی اسٹیشنوں سے رپورٹیں موصول ہوئی ہیں۔ (دست خط) زیڈ اے بخاری‘‘

محترمہ فاطمہ جناح نے 20 ستمبر کو مسٹر بخاری کو ان کے مندرجہ بالا خط کے جواب میں یہ خط بھیجا:

’’جناب بخاری صاحب! مجھے آپ کا خط مورخہ 12 ستمبر 1951ء موصول ہوا۔ آپ نے 11 ستمبر کو شام کے سات بجے مجھ سے میری تقریر کی ایک نقل طلب کی اور آٹھ بجے آپ میرے ہاں تشریف لائے۔ آپ بہت مضطرب تھے اور آپ نے آبدیدہ ہوکر مجھ سے فرمائش کی کہ میں تقریر کے بعض حصے حذف کردوں۔ میں نے آپ کے جذبات سے متاثر ہونے کے بجائے آپ کو دلائل سے سمجھانا چاہا اور آپ سے کہہ دیا کہ اگر ایک جمہوری اور آزاد ملک میں اظہارخیال کی آزادی نہیں ہے، تو میں تقریر کے متعلقہ حصے حذف کرنے پر اس بات کو ترجیح دوں گی کہ اس تقریر کو، جسے آپ کی فرمائش پر میں نشر کرنے پر آمادہ ہوئی تھی، نشر ہی نہ کروں۔ تقریر کے خاتمے پر حسب دستور میں نے آپ سے کہاکہ مجھے میری تقریر کا ریکارڈ سنادیا جائے۔ ریکارڈ بالکل ٹھیک تھا اور اس میں کوئی نقص نہیں تھا۔ مجھے بے حد حیرت ہے کہ اس وقت آپ یا آپ کے عملے میں سے کسی اور نے مجھے یہ نہ بتایا کہ اس وقت ٹرانسمیٹر میں کوئی خرابی ہوگئی تھی یا وہ فیل ہوگیا تھا، مجھے گھر پہنچ کر اس امر کا پتا چلا کہ میری تقریر میں خلل اندازی ہوئی تھی۔ مزید حیرت کی بات یہ تھی کہ تعطل ان حصوں میں واقع ہوا، جنہیں آپ نے حذف کرنا چاہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے ٹرانسمیٹر بڑے معتمد اور معاملہ فہم ہیں، کیوںکہ وہ عین آپ کی خواہش اور فرمائش کے مطابق فیل ہوئے، جن سازشیوں نے میری تقریر میں خلل اندازی کی اور میری آواز کو قوم تک پہنچنے سے روکا، ان کی کوشش اس بات پر منتج ہوئی کہ میری تقریر کے وہی حصے اجاگر اور واضح ہوگئے، جنھیں انہوں نے دبانا چاہا تھا۔ آپ نے اپنے خط میں دوسرے اسٹیشنوں کی ان اطلاعات کا ذکر کیا ہے، جن سے آپ کو پتا چلا کہ میری تقریر عمدگی سے نشر ہوئی۔ اگر یہ اطلاعات آپ کے نزدیک تسلی بخش ہیں تو آپ نے معذرت کی زحمت کیوں گوارا کی؟ اس بارے میں جہاں تک عوام کی شکایت کا تعلق ہے، یہ آپ کا فرض ہے کہ جن کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، ان کی پوری تشفی کریں، آپ کی معذرت میرے نزدیک نہ تسلی بخش ہے اور نہ قابل تسلیم، ایسے حالات میں معذرت، اعتراف کا ایک عاجزانہ اظہار ہے۔ (دست خط) مس فاطمہ جناح‘‘

23 ستمبر کو زیڈ اے بخاری نے محترمہ فاطمہ جناح کو اپنا دوسرا معافی نامہ روانہ کیا، جس میں تحریر کیا گیا تھا:

آپ کے خط مورخہ 20 ستمبر نے دلی صدمہ پہنچایا۔ شومئی قسمت کہ میرا بیان مورخہ 12 ستمبر 1951ء مشکوک گردانا گیا اور ایک ٹیکنیکل خرابی میں وہ معنی ڈالے گئے، جن کی وہ حامل نہیں تھی۔ بہرحال، چوںکہ ہم سب کے دل میں آپ کی بے حد قدرومنزلت ہے۔ میں آپ کے ساتھ بحث و تمحیص سے گریز کرتا ہوں، اور ایک مرتبہ پھر اس ٹیکنیکل خرابی پر اظہار رنج کرتا ہوں۔ نیز اس غرض سے کہ آپ کے دل میں کسی قسم کا شک و شبہہ نہ رہے، آپ کی 11 ستمبر والی تقریر کا ریکارڈ، 24 ستمبر کو شام کے ساڑھے آٹھ بجے قومی پروگرام کے وقت، نشر کرنے کا انتظام کررہا ہوں۔ آپ کا مخلص (دستخط) زیڈ اے بخاری۔‘‘

ریڈیو پاکستان سے محترمہ فاطمہ جناح کی تقریر دوبارہ نشر ہوگئی اور بخاری صاحب نے محترمہ سے مکرر معذرت بھی چاہ لی، مگر محترمہ کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔ انہوں نے بخاری صاحب کے دوسرے مکتوب کا جواب 25 ستمبر 1951ء کو تحریر کیا۔ انہوں نے لکھا:

’’جناب بخاری صاحب! آپ کا مکتوب مورخہ 23 ستمبر بدست ہوا۔ آپ اس کو بدقسمتی خیال کرتے ہیں کہ آپ کی تحریر پر شبہہ کیا جائے۔ یہ بدقسمتی کی بات تو ہے، لیکن جن عجیب حالات کے تحت یہ واقعہ ظہور پذیر ہوا، ان پر نظر کرتے ہوئے میں کوئی دوسری رائے قائم نہیں کرسکتی۔ حالات کذب بیانی نہیں کرتے اور یہ واقعہ ہے کہ ٹرانسمیٹر بعینہ ان ہی حصوں کی نشر کے وقت خراب ہوگئے، جن کے حذف کرنے کی نسبت آپ نے پہلے ہی مجھ سے کہا تھا۔ اس بارے میں کوئی شبہہ باقی نہیں کہ عین اس وقت جب میں نے ان حصوں کو ادا کیا، آپ کے ٹرانسمیٹروں نے آپ کے جذبات کی ترجمانی کی اور ایک دفعہ نہیں بلکہ دو مرتبہ خراب ہوگئے۔ ہر چند کہ آپ کا کہنا ہے کہ آپ بحث نہیں کرنا چاہتے، لیکن اس امر کا اعادہ کرنے سے کہ ٹیکنیکل خرابی ہی میری نشر میں خلل کا باعث تھی، یہی ظاہر ہوا ہے کہ آپ اس بحث کو طول دینا چاہتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔