شادی کی عمر

شیخ جابر  پير 26 اگست 2013
shaikhjabir@gmail.com

[email protected]

ووٹ ڈالنے کے لیے عمر متعین ہے، اسکول میں داخلے کے لیے عمر کا تعین ہے، ملازمت کے لیے جائیں تو عمر کا تعین ہے، ملازمت سے رخصت ہونے کے لیے عمر طے ہے۔ لیکن شادی کس عمر میں ہونی چاہیے؟ یہ تعین غیر اہم ہوتا جارہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک بچے کے بڑے ہوتے ہی والدین کو اس کی شادی کی فکر ہوا کرتی تھی۔ اب بچپن سے پچپن تک شادی کی فکر ثانوی اور بعض اوقات غیر ضروری نظر آنے لگتی ہے۔ آج شادی سے زیادہ اہم سوال ’’کیریئر‘‘ کا ہے۔ بچپن سے ہی یہ بات ذہن میں بٹھادی جاتی ہے کہ ’’کیریئر بنانا ہے، مستقبل سنوارنا ہے‘‘۔ آج والدین اور بچے، اور آج کے تمام تر (نام نہاد) تعلیمی ادارے صرف ایک مقصد کے حصول میں دن رات ایک کیے رہتے ہیں اور وہ ہے کیریئر بنانا اور اس کیریئر بنانے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب ہے زیادہ سے زیادہ پیسے کمانا۔

بچے کا بہتر مستقبل کیا ہے؟ کہ وہ زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے والا بن جائے۔ بس اس ایک مقصد کے لیے ماں باپ نے اپنا عیش آرام، حقوق، فرائض، اخلاق، مروت، ہمسائیگی، عزیز داری یہاں تک کہ دین مذہب تک سب کچھ تج دیا۔ جو والدین ہیں انھیں اپنے ضعیف والدین کی خدمت کی نہ فکر ہے اور نہ فرصت، ان کے سر پر تو بس ایک ہی دھن سوار ہے کہ کسی طرح گھر سے نکل جائیں، خوب کام کریں اور بہت سے پیسے کمائیں۔ بچوں کو اچھے اسکولوں میں داخل کروائیں تاکہ ان کا مستقبل خوب روشن ہوسکے۔ معصوم چھوٹے چھوٹے بچے اپنے وزن سے زیادہ وزن کا بستہ اٹھائے اسکول وین میں ٹھنسے چلے جارہے ہیں۔

صبح سویرے جب محلے کے ضعیف افراد فجر کی نماز کے لیے مسجد کا رخ کررہے ہیں، قریباً اسی وقت بچے ایک اچھے اسکول میں پڑھنے کے لیے گھر سے نکل رہے ہیں، اونگھتے نیند کے خمار سے جھومتے، یہ کیا ہے؟ وہ کون سا مقصد ہے جس نے ان معصوموں سے اپنی زندگی جینے کا، کھیلنے کودنے کا، مزے کرنے کا حق چھین لیاہے۔ غور کیجیے کہ وہ مقصد صرف اور صرف پیسہ ہے۔ کیا یہ کوئی بہت اچھا، بہت اعلیٰ وارفع مقصد ہے؟ انسانی تاریخ پر نظر دوڑائیے، کیا تاریخ کے کسی دور کے کسی خطے کے انسانوں کا یہ مقصد زندگی کبھی رہا؟ کہ جس کے گرد اس کی اس کے معصوم بچوں کی زندگی گھومتی ہو۔ وہ خود گھومتا ہو کولہو کے کسی بیل کی مانند دن رات۔ پیسہ کس لیے؟ اچھا کیریئر کس لیے؟ کیا آج کے نام نہاد اچھے کیریئر کے بغیر اچھی زندگی ممکن نہیں؟ اس کیریئر کی جد وجہد کے نتیجے میں خود انسان کہاں رہ جاتاہے؟

پاکستان کی ایک بڑی جامعہ کی ایک سینئر پروفیسر، ان کی اکلوتی صاحب زادی آپ نے بھی اپنی بچی کی کیریئر پلاننگ اس کی پیدائش سے قبل ہی سے شروع کردی۔ بہت چھوٹی عمر سے بچی کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔ اسے زبردستی انگریزی کی نظمیں اور جملے رٹائے گئے۔ بہت بچپن میں آنے جانے والے مہمانوں کے سامنے چند رٹی رٹائی چیزیں دہرانا اس کا مقصد حیات تھا۔ اسے بتایا گیاکہ ٹھیک ٹھیک پڑھ دینے کے نتیجے میں سب افراد جو تالیاں بجاتے ہیں یہ کوئی بہت اچھی چیز اور تمہاری اور تمہارے والدین کی عزت افزائی ہے۔ غرض اس نے رٹنا اور پڑھنا شروع کیا۔ مسابقت اور مقابلے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ، وہ ایک کے بعد ایک امتحان دیتی رہی، دن رات محنت کرتی رہی۔ یہاں تک کہ امتیازی نمبروں سے ماسٹرز کرلیا۔ لائق پروفیسر کی بیٹی تھی، بلوغت کے بعد سے کئی اچھے رشتے آئے لیکن اسے تو کیریئر بنانا تھا۔

پروفیسر صاحب یہی چاہتے تھے کہ ابھی تو بچی کی تعلیم ہی مکمل نہیں ہوئی، شادی کیسے کردی جائے، غرض ماسٹرز کے بعد اسے اسکالر شپ مل گئی اور بچی پڑھنے کے لیے سات سمندر پار چلی گئی۔ کئی برس تک مزید پڑھتی رہی، پھر باپ کی خواہش پر اس ملک کی ایک اور جامعہ میں تعلیم مکمل ہونے کے بعد ایک برس تک پڑھاتی بھی رہی۔ یہ تمام تر تعلیم اور تجربہ لے کر وہ جب واپس اپنے ملک آئی تو اسے کارپوریٹ کلچر نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اسی دوران اس کے والدین یکے بعد دیگرے انتقال کرگئے۔ اس کے والد جس جامعہ میں پڑھاتے تھے اسی جامعہ میں اپنے مضمون کے لحاظ سے اسے ایک اہم عہدہ بھی مل گیا۔ جامعہ نے اسے عہدے اور رتبے کی مناسبت سے ایک بڑی سی رہائش گاہ اور ایک عمدہ گاڑی بھی دے رکھی ہے۔

گاہے گاہے اس کے مضامین عالمی مجلوں اور مقامی اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ ٹاک شوز میں بھی کبھی مدعو کرلیا جاتا ہے۔ غرض آج سب کچھ ہے شوہر اور بچوں کے سوا۔ یہ تمام تر کامیابیاں جن جذبات، احساسات اور ارمانوں کا خون کرکے حاصل کی گئی ہیں اس کرب کے نقش کا عکس چہرے پر تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ممتا طاقت ور ترین جذبہ ہے، عورت ممتا، قربانی، وفا اور ایثار کا دوسرا نام ہے۔ یہ جذبات تمام تر جدیدیت کے باوجود اپنے اظہار کی راہ بنا ہی لیتے ہیں۔ یہ تمام تر لکھواس اسی لیے ہے کہ یہ خاتون اپنے ساتھ اپنی ہی جیسی ایک غیر شادی شدہ دوست کو رہنے کے لیے لے آئی ہیں۔ دونوں نے کچھ پلے پال رکھے ہیں۔ دونوں خواتین نے پلوں کے انسانی نام رکھ دیے ہیں اور انھیں اپنی اولاد قرار دے کر ان سے ویسا ہی برتائو کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہ سب دیکھ کر مجھ جیسے کم زور دل کا تو کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔

ارض پاک کے بچے اور بچیوں کے ساتھ ایسا کیوں کیا جارہا ہے؟ کیریئر بنانے کے نام پر ان کی زندگی کیوں بگاڑ دی جاتی ہے؟ آج ایک خاکروب کی ملازمت کے لیے بھی عمر کا تعین کیا جاتا ہے، کیا معاشرتی سطح پر آنے والے اس بگاڑ کی اصلاح کے لیے شادی کی عمر کا تعین ممکن نہیں۔ کیا روپیہ، پیسہ، انسانی خواہشات، جذبات اور احساسات سے بڑھ کر ہے؟

قدیم روم پر نظر ڈالیں تو وہاں بھی بلوغت کے فوراً بعد شادی کردی جاتی تھی۔ کم سے کم شادی کی عمر البتہ 12 برس تھی۔ ’’کینان لا‘‘ کے تحت یورپ وغیرہ میں کم عمر بچوں کی شادی بھی کردی جاتی تھی۔ والدین کے ایما پر 7 برس یا اس سے کم عمر بچوں کی شادیاں بھی کی جاتی رہی ہیں۔ تفصیلات بچوں کے انسائیکلوپیڈیا سے دیکھی جاسکتی ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ بچوں کی شادیاں 7 برس یا 12 برس کی عمر میں کردی جائیں، بات صرف اتنی سی ہے کہ خاندانوں میں معاشرتی سطح پر یہ ادراک ہونا چاہیے کہ خاندان زیادہ اہم ہے یا کیریئر؟ اگر دونوں کا انتخاب کرنا ہو تو اس کی کیا عمدہ صورت ہوسکتی ہے؟ اگر کسی کیس میں ایک کو دوسرے پر ترجیح دینی پڑجائے تو کیا اہم ہے؟ کیا تعلیم کے نام پر نوجوانوں کے جذبات اور استحصال کی اجازت دی جاسکتی ہے؟ اس سے معاشرے میں کیا برائیاں جنم لیتی ہیں۔

جذبات کے دھارے کو بہنے کے لیے جب شاہراہ کو بند کردیا جائے تو وہ کن چور راستوں کا انتخاب کرکے ان پر چل پڑتا ہے۔ انسان صرف گوشت پوشت کا لوتھڑا یا چند ہڈیوں وغیرہ ہی کا مجموعہ نہیں وہ ایک روحانی وجود بھی ہے۔ چور راستوں کے انتخاب سے کیا اس روحانی انسان کی موت واقع نہیں ہوجاتی جو ہر انسان میں موجود ہے۔ کون نہیں چاہتا کہ آنے والی نسلیں ایک عمدہ زندگی بسر کریں۔ لیکن عمدہ کیا ہے؟ اس کا تعین کیسے ہوگا؟ آج خاص کر شہروں میں دیکھا یہ گیا ہے کہ غیر شادی شدہ لڑکیاں تعداد میں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ یہ رجحان نہایت خطرناک ہے۔ معاشرتی سطح پر اس مسئلے کو گمبھیر سمجھا جانا چاہیے۔ چشم پوشی اس کا علاج نہیں ہے۔ آج کے والدین کے پاس نوجوانوں کے اس شدید ترین مسئلے کا حل موجود ہے۔ یہ مسئلہ کسی نہ کسی سطح پر توحل ہونا ہے… اور ہونا ہی ہے، اگر آج کے والدین اپنے فرائض سے غفلت برتنے اور چشم پوشی کے بجائے ان مسائل کا عملی حل اپنالیںگے تو اس سے کئی نسلیں خراب ہونے سے بچ سکیںگی۔

اس اہم تر معاشرتی مسئلے کے حل کے لیے ہمیں اپنی زندگیوں میں یہ طے کرلینے کی اشد ضرورت ہے کہ ’’کیریئر انسان کے لیے ہے یا انسان کیریئر کے لیے؟‘‘

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔