مجبور ہوں کہ آپ کو جواب دوں

ایکسپریس اردو  جمعـء 6 جولائ 2012
اس وقت مجھے اپنے بھائی کی صحت کی فکر تھی، ان کی پبلسٹی کی نہیں۔‘۔فوٹو ایکسپریس

اس وقت مجھے اپنے بھائی کی صحت کی فکر تھی، ان کی پبلسٹی کی نہیں۔‘۔فوٹو ایکسپریس

مجبور ہوں کہ آپ کو جواب دوں۔ میں نے اس بات کو نوٹ کیا کہ اصل واقعہ سے نہیں بلکہ میرے مکتوب سے آپ کو رنج پہنچا ہے۔ کاش کہ آپ محسوس کرسکتے کہ آپ کے زیر جواب مکتوب نے کس طرح زخم پر نمک پاشی کی ہے۔ (دست خط) مس فاطمہ جناح‘‘

اگلے روز بخاری صاحب نے محترمہ فاطمہ جناح کے اس مکتوب کا جواب بھی تحریر کیا۔ اس مرتبہ جواب کا لب و لہجہ نہایت عاجزانہ تھا۔ انہوں نے لکھا:’’محترمہ فاطمہ جناح! مجھے اس بات کا انتہائی قلق ہے کہ میں اپنے خط مورخہ 23 ستمبر کے ذریعہ آپ کی معافی حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ میں صدق دل سے اس بات کا اظہار کرتا ہوں کہ آپ کا احترام کرنے میں ہرگز کسی سے پیچھے نہیں ہوں۔ یہ میری بد قسمتی ہے کہ آپ مجھ سے ناراض ہوئیں۔ اب میں صرف یہی کرسکتا ہوں کہ ایک بار پھر میں آپ سے معافی کا طلب گار بنوں۔ میں انتہائی صمیم قلب سے یہ معذرت پیش کرتے ہوئے آپ سے شفقت کا طلب گار ہوں۔ (دست خط) زیڈ اے بخاری‘‘

لگتا ہے اس مرتبہ بخاری صاحب کا لب و لہجہ محترمہ پر اثر کر گیا اور انہوں نے اس خط کا کوئی جواب نہیں دیا، جس کا مطلب یہی لیا گیا کہ یہ معاملہ رفت گزشت ہوگیا ہے۔

محترمہ فاطمہ جناح کی تقریر کو سنسر کرنے پر پاکستان کے قومی پریس نے جس طرح بے خوفی سے اپنا کردار ادا کیا، وہ پاکستان کی صحافتی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ اس سے قبل روزنامہ ڈان کے مدیر الطاف حسین بھی قائداعظم کی 11 اگست 1947ء کی تقریر کے بعض جملے سنسر کروانے والوں کے خلاف شان دار کردار ادا کرچکے تھے۔

اس واقعے کے اگلے برس محترمہ فاطمہ جناح نے قائداعظم کی برسی پر کوئی تقریر نشر نہیں کی۔ تاہم قائداعظم کی پانچویں برسی (11 ستمبر 1953ء) کے موقع پر سید ہاشم رضا کے قائل کرنے پر ان کی تقاریر کے سلسلے کا آغاز اس شرط پر دوبارہ شروع ہوا کہ مسودہ نشر ہونے سے پہلے نہیں دکھایا جائے گا اور تقریر براہ راست نشر ہوگی۔

محترمہ فاطمہ جناح کی جس تقریر کے نشریہ کے دوران گڑ بڑ کی گئی تھی، اس کا متن حسب ذیل ہے:

’’ایسے غمگین موقع پر جب کہ پاکستان کے گوشے گوشے میں قائداعظم کی یاد منائی جارہی ہے، آپ کو مخاطب کرنا میرے لیے بڑی دل سوزی کا باعث ہوتا ہے۔ پھر بھی ایک فرض سمجھ کر میں اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ اس طرح میں ان دور دراز مقامات کے باشندوں سے بھی مخاطب ہوسکتی ہوں، جہاں میرا جانا ممکن نہیں ہے اور قائداعظم کی برسی کے موقع پر ان کی شریک غم ہوسکتی ہوں۔

تین سال قبل آج کے دن پاکستان پر بدقسمتی کی ایک کاری ضرب پڑی، جس نے ہمارے محبوب قائداعظم کو ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا کردیا۔ سوائے ان کی یاد اور تصور کے، جو ہمیں عزیز ترین ہے، ہمارے ہاں قائداعظم کی کوئی نمایاں یادگار بجز پاکستان موجود نہیں ہے۔ پاکستانیوں کو ان کی یاد تازہ رکھنے کے لیے محض ظاہری یادگاروں کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستانی عوام قائداعظم اور ان کے اصولوں سے جس قدر والہانہ محبت رکھتے ہیں، وہ کسی جاہ و منزلت کی حفاظت یا بچائو کی غرض سے نہیں، بلکہ یہ ان کے دلی جذبات عقیدت و محبت کی آئینہ دار ہے۔ وقت گزرنے سے ان کی اس محبت میں کوئی کمی نہیں ہوئی، بلکہ فی الحقیقت اس میں اضافہ ہی ہوا ہے۔

میں نے قائداعظم کی گذشتہ برسی کے موقع پر کہا تھا کہ آخر وقت تک مسئلہ کشمیر ان کو عزیز ازجان رہا۔ تین طویل سال گزرنے کے باوجود یہ مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا ہے۔ اس کی اہمیت آج بھی وہی ہے اور اس کی نزاکت میں ذرہ برابر کمی نہیں، بلکہ زیادتی ہوگئی ہے۔ اس کے قریبی حل کا یقین دلایا گیا، جسے اب بھی بار بار دہرایا جارہا ہے۔ نتیجہ کچھ بھی نہیں۔ مجلس اقوام متحدہ نے تجویز پر تجویز منظور کی اور اپنے خاص نمائندے بھی روانہ کیے، پھر بھی یہ مسئلہ اب تک جہاں کا تہاں ہے۔ مجھے امید ہے کہ کشمیر کے عوام بہت ہوشیاری اور احتیاط سے کام لیں گے، تاکہ یہاں اس صورت حال کو دہرایا نہ جائے جو فلسطین کے معاملے میں پیش آئی۔

ہم نہایت شدت سے اس زبردست حکمت عملی کی کمی محسوس کررہے ہیں، جس کے ہم جدوجہد پاکستان کے زمانے میں گذشتہ دس سال میں عادی رہے۔ ایسے کتنے ہی مواقع آج بھی ہمیں یاد ہیں، جب کوئی صورت حال ہمارے خلاف پیدا ہوچکی تھی، مگر بروقت صحیح اقدام کی بدولت ہم کام یاب نکل آئے۔ آج اس دانش مندی اور بصیرت کی جگہ تزلزل نے لے لی ہے۔ پاکستان کے عوام کے لیے سوائے اپنی اندرونی قوت کو ابھارنے کے کوئی دوسرا بہتر طریقہ موجود نہیں ہے۔ مسلمان ایک آہنی قوت ہے اور نازک مرحلے پر ہی وہ اپنے بہترین جوہر کا اظہار کرتا ہے۔ اس کی یہی حیرت انگیز قابلیت ہے، جس کے باعث صدیوں کے دور پستی میں اس نے اپنے وجود کو برقرار رکھا۔ اس لیے اس قابلیت کی نشوونما ہی ایسی چیز ہے، جو بالآخر پاکستان کو یہ مقصد حاصل کرنے کے قابل بنائے گی، جو بظاہر ایک مشکل امر معلوم ہوتا ہے۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جو مسائل قائداعظم کی وفات کے وقت فوری حل طلب تھے، آج بھی اسی منزل میں ہیں۔ کشمیر کے علاوہ مہاجرین کا مسئلہ ہے۔ لاکھوں افراد جنہوں نے پاکستان کے قیام و بقا کے لیے اپنے تمام دنیاوی مال و متاع کو قربان کردیا ، آج سخت مصیبت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بے شک یہ ایک عظیم مسئلہ ہے، لیکن یہ نہ بھولنا چاہیے کہ یہ ایک انسانی معاملہ ہے اور ہم اتنی کثیر مخلوق کو عرصہ دراز تک جاں کنی کی حالت میں نہیں چھوڑ سکتے۔ ورنہ اس کے نہایت برے اثرات مملکت پر پڑیں گے۔

میں آپ کو یاد دلائوں کہ کن اغراض کی بنا پر پاکستان کے قیام کی ضرورت محسوس کی گئی، یہی کہ مسلمان اپنی معاشرت، تہذیب، اقتصادیات اور تعلیمات کے مطابق ایک علیحدہ، پروقار، باعزت اور پُرحمیت زندگی بسر کرسکیں۔ آزادی کا مطلب یہی ہے کہ انفرادی طور پر ہر پاکستانی آزادی کی فضا کو محسوس کرے اور پرسکون زندگی گزارے۔ اراکین ملت! تم ہی معمار قوم ہو اور تمہارا فرض ہے کہ اپنے ملک اور قوم کی بقا کے لیے ہر ممکن کوشش کرو۔ تمہاری فلاح اسی وقت ہوسکتی ہے، جب تم قائداعظم ہی کے زاویۂ نگاہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے، ان کے نقش قدم پر چلو اور ایمان داری سے اپنی چار سالہ زندگی کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی مملکت میں جن امور کی کمی بیشی ہو، اپنی پوری قوت سے ان کی تکمیل کرو۔ یاد رکھیے، قائداعظم علم عام کرنا چاہتے تھے، تاکہ ہمارے ملک سے ناخواندگی دور ہوجائے۔ وہ اردو زبان کو سرکاری اور قومی زبان بنانا چاہتے تھے۔ وہ صحت عامہ کے انتظامات وسیع پیمانے پر دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ ملک کا اندرونی نظم و نسق معیاری اور مثالی چاہتے تھے۔ اور خارجہ سیاست کو باوزن، پروقار، طاقت ور اور فیصلہ کن دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ کشمیر کو پاکستان کا جُز بنتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے اور یہی ان کی آخری تمنا تھی۔ ان کی گردن کبھی باطل کے آگے نہیں جھکی اور نہ وہ کبھی اپنی مملکت کے مفاد کے معاملے میں اغیار کے فیصلے کے منتظر رہے۔ ان کے عزائم استوار تھے۔ ان کی نگاہیں دور رس، ضمیر روشن اور فیصلہ اٹل ہوتا تھا۔ پاکستان کی تشکیل میں قائد کے کردار کو سب سے بڑا دخل ہے۔ ان کی آہنی قوت ارادی کے آگے کئی طاقت ور قوتیں سرنگوں ہوگئیں۔ پاکستان کی آزادی اور بقا کے نعرے لگانے والو! اپنی مملکت کی اس عظمت کو قائم رکھو، جس کی خاطر قائداعظم نے دنیا سے اپنے حقوق منوالیے۔ اپنے ملک کی بقا کے لیے اندرونی یا بیرونی کسی ایسے اثر کو قبول نہ کرنا، جس سے تمہارے قومی وقار کو ٹھیس لگے۔ قوم کی قسمت کی کلید تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اپنی ذمے داریوں کو پہچانو اور اپنی بے پناہ طاقت سے پاکستان کو ہر تباہی سے بچالو۔ دنیا تمہیں آزمائش میں مبتلا کرنا چاہتی ہے۔ اسے تمہاری طاقت کا امتحان مقصود ہے۔ ایسا نہ ہو تمہارے عزائم کو ٹھیس لگ جائے۔

قائداعظم کی صحیح یاد یہی ہے اور یہی ان کا خراج عقیدت کہ بے باک صداقت، جوش عمل اور پرعزم اقدام کے ساتھ قائداعظم کی رفتار، گفتار اور کردار کو اپنائو اور اپنی مملکت اور قوم میں وہ انقلاب پیدا کرو جس سے دنیا لرز اٹھے اور پھر کسی کو تمہارے مقابلہ کی جرأت نہ ہو۔ قائداعظم ایسے پاکستان کا تصور نہیں رکھتے تھے، جس کے باشندے کم زور ہوں یا جو طاقت ور قوموں کے لیے ترغیب کا باعث ہوں۔ ان کے پیش نظر ایسا پاکستان تھا، جو دنیا کی بڑی طاقتوں میں سب سے اولین ہو اور میں چاہتی ہوں کہ پاکستانی قوم قائداعظم کے اس تصور کی تکمیل میں اپنی پرجوش جدوجہد کا آغاز کردے۔‘‘
………٭٭٭………

یہ تو تھی محترمہ فاطمہ جناح کی ایک تقریر کو سنسر کرنے کے واقعے کی تفصیل۔ دوسرا واقعہ محترمہ فاطمہ جناح کی ایک تحریر کو سنسر کرنے کا ہے اور یہ تحریر کسی اور ادارے نے نہیں بلکہ اس ادارے نے کی جو قائداعظم کی تعلیمات کو فروغ دینے کے لیے وجود میں آیا تھا۔ اس ادارے کا نام ہے قائداعظم اکیڈمی، اور محترمہ فاطمہ جناح کی تحریر کو سنسر کرنے کا یہ ’’خوش کن‘‘ فریضہ اکیڈمی کے اس وقت کے ڈائریکٹر جناب شریف المجاہد نے یہ کہتے ہوئے انجام دیا:

’’موجودہ کتاب (مائی برادر) میں مذکورہ مسودے کو تسلیم شدہ اصولوں کے تحت مدون کرکے پیش کیا جارہا ہے، سوائے ایک اقتباس کے جو بڑی حد تک ایک جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کتاب میں مکمل مسودے کو صداقت کے ساتھ منتقل کردیا گیا ہے۔‘‘

نہیں معلوم کہ قائداعظم اکیڈمی اور واجب الاحترام جناب شریف المجاہد کے قریب صداقت کا معیار کیا ہے اور وہ کون سے ’’تسلیم شدہ اصول‘‘ ہیں جن کے تحت کسی مصنف (اور وہ بھی مرحوم مصنف) کی تحریر کو اپنی مرضی کے تحت سنسر کیا جاسکتا ہے۔ جناب شریف المجاہد، ’’مائی برادر‘‘ کے دو پیراگراف سنسر کرنے میں بظاہر کام یاب ہوگئے، مگر کتاب کا اصل مسودہ جو قومی ادارہ برائے تحفظ دستاویزات (نیشنل آرکائیوز آف پاکستان) میں محفوظ تھا، وہاں یہ پیراگراف بدستور موجود رہے۔ قدرت اﷲ شہاب نے اپنی کتاب ’’شہاب نامہ‘‘ میں یہ دونوں پیراگراف شامل کیے۔ ہم نے بھی نیشنل آرکائیوز آف پاکستان سے اس کتاب کا اصل مسودہ حاصل کیا۔ قدرت اللہ شہاب نے ’’مائی برادر‘‘ کے جو دو پیراگراف اپنی کتاب میں شامل کیے ہیں، وہ تو بالکل اصل کے مطابق تھے، مگر ان کا ترجمہ قدرت اﷲ شہاب نے قدرِمختلف انداز میں کیا تھا۔ ہم اس مضمون کے ساتھ ان دونوں پیراگرافوں کی عکسی نقل اور ان کا ترجمہ آپ کے استفادے کے لیے شامل کررہے ہیں:

’’وزیر اعظم نے ڈاکٹر الٰہی بخش سے پوچھا کہ قائد اعظم کی صحت کے متعلق ان کی تشخیص کیا ہے؟ ڈاکٹر نے کہا کہ انہیں مس فاطمہ نے یہاں بلایا ہے، اس لیے وہ اپنے مریض کے متعلق کوئی بات صرف انہی کو بتاسکتے ہیں۔ ’’لیکن وزیراعظم کی حیثیت سے میں یہ جاننے کے لیے بے چین ہوں۔‘‘ ڈاکٹر نے ادب سے جواب دیا، ’’جی ہاں بے شک۔ لیکن میں اپنے مریض کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں بتاسکتا۔‘‘
میں قائد اعظم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، جب مجھے معلوم ہوا کہ وزیر اعظم اور سیکرٹری جنرل ان سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے اس کی اطلاع ان کو دی۔ وہ مسکرائے اور بولے ’’فطی تم جانتی ہو وہ یہاں کیوں آئے ہیں؟‘‘ میں نے کہا کہ مجھے ان کی آمد کے سبب کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔ وہ بولے ’’وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ میری بیماری کتنی شدید ہے۔ میں کتنا عرصہ اور زندہ رہ سکتا ہوں۔‘‘
چند منٹ بعد انہوں نے مجھ سے کہا ’’نیچے جائو…وزیراعظم سے کہو… میں ان سے ابھی ملوں گا۔‘‘

’’جن! بہت دیر ہوچکی ہے۔ وہ کل صبح آپ سے مل لیں گے۔‘‘

’’نہیں۔ انہیں ابھی آنے دو۔ وہ خود آکر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔‘‘

لیاقت علی خان نے نصف گھنٹے تک علیحدگی میں قائداعظم سے ملاقات کی۔ جوںہی وہ واپس نیچے آئے، تو میں اوپر اپنے بھائی کے پاس گئی۔ وہ بری طرح تھکے ہوئے تھے اور ان کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ انہوں نے مجھ سے پھلوں کا جوس مانگا اور پھر انہوں نے چوہدری محمد علی کو اندر بلالیا۔ وہ پندرہ منٹ تک ان کے پاس رہے۔ پھر جب دوبارہ وہ اکیلے ہوئے تو میں اندر ان کے پاس گئی۔ میں نے پوچھا کہ وہ جوس یا کافی پینا پسند کریں گے۔ انہوں نے کوئی جواب نہ دیا‘ ان کا ذہن کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ اتنے میں ڈنر کا وقت ہوگیا۔ انہوں نے مجھ سے کہا۔ ’’بہتر ہے کہ تم نیچے چلی جائو اور ان کے ساتھ کھانا کھائو۔‘‘

’’نہیں‘‘ میں نے زور دے کر کہا ’’میں آپ کے پاس ہی بیٹھوں گی اور یہیں پر کھانا کھالوں گی۔‘‘

’’نہیں یہ مناسب نہیں ہے۔ وہ یہاں ہمارے مہمان ہیں، جائو اور ان کے ساتھ کھانا کھائو۔‘‘

کھانے کی میز پر میں نے وزیراعظم کو بہت خوش گوار موڈ میں پایا۔ وہ لطیفے سنا رہے تھے اور ہنسی مذاق کررہے تھے۔ جب کہ میں قائداعظم کی صحت کی طرف سے خوف کے مارے کانپ رہی تھی، جو اوپر کی منزل پر تنہا بسترِعلالت پر پڑے ہوئے تھے۔ کھانے کے دوران چوہدری محمد علی بھی چپ چاپ کسی سوچ میں گم رہے۔ کھانا ختم ہونے سے پہلے ہی میں اوپر کی منزل پر چلی گئی۔ جب میں کمرے میں داخل ہوئی تو قائداعظم مجھے دیکھ کر مسکرائے اور بولے ’’فطی ۔ تمہیں ہمت سے کام لینا چاہیے۔‘‘ میں نے اپنے آنسوئوں کو چھپانے کی بڑی کوشش کی، جو میری آنکھوں میں ا مڈ آئے تھے۔‘‘
قائداعظم اکیڈمی کی شایع کردہ مائی برادر میں محترمہ فاطمہ جناح کا تحریر کردہ جو دوسرا پیراگراف سنسر کی زد میں آیا ہے اس کا ترجمہ کچھ یوں ہے:’’ یوم پاکستان کے چند روز بعد وزیرخزانہ مسٹر غلام محمد قائداعظم سے ملنے کوئٹہ آئے۔ لنچ کے وقت جب مس فاطمہ جناح ان کے ساتھ اکیلی بیٹھی تھیں، تو مسٹر غلام محمد نے کہا: ’’مس جناح میں ایک بات آپ کو ضرور بتانا چاہتا ہوں۔

یوم پاکستان پر قائداعظم نے قوم کے نام جو پیغام دیا تھا، اسے خاطر خواہ اہمیت اور تشہیر نہیں دی گئی۔ اس کے برعکس وزیراعظم کے پیغام کے پوسٹر چھاپ کر انہیں شہر شہر دیواروں پر چسپاں کیا گیا ہے،بلکہ ہوائی جہازوں کے ذریعہ اسے بڑے بڑے شہروں پر پھینک کر منتشر بھی کیا گیا ہے۔

میں نے یہ بات خاموشی سے سن لی، کیوں کہ اس وقت مجھے اپنے بھائی کی صحت کی فکر تھی، ان کی پبلسٹی کی نہیں۔‘‘
………٭٭٭………

مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی تقریر اور تحریر کو حکومت کے ذمہ دار اداروں کی جانب سے سنسر کرنے کی دونوں کارروائیاں آپ نے ملاحظہ کیں۔ ان کارروائیوں کے پیش نظر بعض اوقات یہ خیال آتا ہے کہ اگر قائداعظم زندہ ہوتے تو شاید یہ ادارے ان کی تقریروں اور تحریروں کو بھی اسی طرح سنسر کرنے کی کوشش کرتے۔ اس صورت حال پر سوائے کف افسوس ملنے کے اور کیا کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔