تمباکو نوشی سے نجات! رمضان المبارک اہم ترین موقع

پروفیسر سہیل اختر  جمعرات 16 مئ 2019
تمباکو کی عادت پڑنے کے بعد اس کو چھوڑنا آسان نہیں لیکن اگر انسان عزم کر لے تو سب کچھ ممکن ہے۔ فوٹو: فائل

تمباکو کی عادت پڑنے کے بعد اس کو چھوڑنا آسان نہیں لیکن اگر انسان عزم کر لے تو سب کچھ ممکن ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان ان ترقی پزیر ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں تمباکو استعمال کرنے والے اور اس کے نتیجے میں جان لیوا بیماریوں کا شکار ہونے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

تقریباً ایک لاکھ افراد سالانہ تمباکو کے استعمال کی وجہ سے لاحق ہونے والی مختلف بیماریوں کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔اس کے باوجود ملک میں اب بھی بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو تمباکونوشی (سگریٹ، پان، چھالیا، گٹکا وغیرہ کا استعمال) کرتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق اس وقت ان کی تعداد23.9ملین ہے۔

تمباکونوشی کے انسانی صحت پر مضر اثرات کے بارے میں عوامی آگاہی کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر ہمیشہ مہمات چلائی جاتی ہیں، اس سے ہونے والے نقصانات سے بڑے پیمانے پر لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے، ملک میں پبلک مقامات پر اس کے استعمال کی ممانعت پر مبنی قانون سازی بھی کی گئی ہے جبکہ کم عمر افراد کو اس کی فروخت کے خلاف قانون بھی موجود ہے۔ ان تمام تر انسدادی تدابیر کے باوجود بھی تمباکونوش اس نشے سے چھٹکارا حاصل نہیں کرپاتے۔ اس ضمن میں رمضان المبارک ایک اہم موقع ہے جس میں تھوڑی سی کوشش کے ساتھ تمباکونوشی کی بُری عادت سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ملک میں ڈاکٹرز کی نمایاں تنظیم پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی (پیما)، پاکستان چیسٹ سوسائٹی اور دوسری غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے رمضان المبارک کے آغاز میں ’’قومی یومِ انسداد تمباکونوشی‘‘ منایا جاتا ہے ۔ یہ دن منانے کا مقصد یہ ہے کہ چونکہ روزے داراس دوران کھانے پینے اور تمباکو نوشی سے وقتی طور پر رک جاتا ہے ، جس سے اس میں صبر اور برداشت کی قوت پیدا ہوتی ہے، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ صبر و برداشت کی اس قوت کوتمباکو نوشی سے دائمی چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے اور رمضان المبارک میں اس بری عادت کو ترک کرنے کی ترغیب اور حوصلہ افزائی کی جائے ۔

ماہِ رمضان اپنے ساتھ مسلمان معاشرے میں غیر معمولی طور پر نیکیوں کی رغبت اور برائیوں سے دوری اختیار کرنے کا اجتماعی ماحول لاتا ہے۔ چھوٹے بڑے اس ماہ میں ہر وہ کوشش کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ رب کی رضا پاسکیں، اس کی رحمت اور مغفرت کااپنے آپ کو مستحق ٹھہرا سکیں اور اپنے نامہ اعمال میں ان اقوال و افعال کو زیادہ سے زیادہ درج کروا سکیں جن کے نتیجے میں ان کا رب ان سے راضی ہو جائے ۔ صبح سے شام تک وہ اپنے آپ پر ان چیزوں کا کھانا بھی حرام کر لیتے ہیںجو عام حالات میں ان کے لیے حلال ہوتی ہیں۔ اسی بناء پر تمباکونوشی کے خلاف سرگرمِ عمل ادارے اور تنظیمیں اس ماہِ مبارک میں ہی کوشش کرتی ہیں کہ تمباکونوش افراد اس عادت سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا پالیں۔

اس سال بھی رمضان میں روزے کا دورانیہ نسبتاً طویل ہے۔ روزے دار16 گھنٹے سے زائد اپنے آپ کو ہر طرح کے کھانے سے روکے رکھیں گے۔ اسی طرح تمباکونوش حضرات بھی غروب آفتاب تک سگریٹ نوشی یا تمباکو کھائے بغیرہی یہ وقت گزاریں گے۔ یہ ثابت شدہ ہے کہ 8 گھنٹے بعد خون میںنکوٹین اور کاربن مونوآکسائیڈ کی سطح نصف سے کم رہ جاتی ہے جبکہ 48 گھنٹے بعد جسم اور پھیپھڑے کاربن مونوآکسائیڈ سے بالکل پاک ہوجاتے ہیں۔ اس لیے اگر تھوڑی سی کوشش کی جائے تو اس عادت کو پختہ بنا کر رمضان کے بعد بھی تمباکوشی سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔

سب سے پہلے ضروری ہے کہ خود کو اس رمضان میں تمباکونوشی ترک کرنے کیلئے ذہنی طور پر تیارکیا جائے۔ روزہ داروں کو چاہیے کہ تمباکو نوشی کرنے والوں سے دور افطاری کریں۔ ایسی خوراک یا ڈرنک سے پرہیز کریں جو آپ بالعموم تمباکونوشی کے ساتھ استعمال کرتے رہے ہیں۔ افطار کے فوراً بعد میز چھوڑ کر کھلی فضا میں چلے جائیں تاکہ تمباکونوشی کا کوئی موقع نہ ملے۔ سگریٹ نوشی کی جانب سے ذہن ہٹانے کیلئے دوسری مصروفیات تلاش کریں۔

ذیل میں ہم تمباکو نوشی کے انسانی زندگی پر پڑنے والے مضر اثرات کے ساتھ ساتھ اس کے دینی پہلو کا بھی جائزہ لیں گے۔

تمباکو کے نقصانات

سگریٹ/حقہ کے دھویں کے ساتھ چار ہزار نقصان دہ کیمیکل (کاربن مونو آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ، سائنائیڈ) پھیپھڑوں اور جسم کے دیگر حصوں تک پہنچ جاتے ہیں، جن سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں سانس کی بیماریاں، دائمی کھانسی، نمونیہ، ٹی بی، دل کا دورہ، دھڑکن تیز ہونا، ہائی بلڈ پریشر، دورانِ خون کم ہونا اور اس سے فالج، گردوں کے فعل میں کمی، ہڈیوں کی کمزوری اور دیگر کئی امراض شامل ہیں۔ پھیپھڑوں کا کینسر90فیصد تمباکو کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دیگر اعضاء کے کینسر میںجن کی وجہ تمباکو ہے، منہ، گلا، نرخرہ، غذا کی نالی، معدہ، لبلبہ، مثانہ، رحم کا نچلا حصہ اور چھاتی کا کینسر شامل ہے۔طبی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ تمباکو میںشامل نکوٹین نشہ آور ہے، جس کا اثر ہیروئن سے بھی طاقت ور ہے،یہی وجہ ہے کہ آدمی تمباکو کا غلام بن کر رہ جاتا ہے، نیزاسی سے مزاج میں خشکی ، چڑچڑا پن اور ڈپریشن پیداہوتا ہے۔

تمباکو سے موت کا خطرہ

پاکستان میںاس وقت22 ملین سے زائد نوجوان تمباکو استعمال کر رہے ہیں۔ یہاں سگریٹ پینے والے سالانہ ایک لاکھ سے زائد افراد پھیپھڑوں کے کینسر، سٹروک، دل اور سانس کی بیماریوں کے سبب ہلاک ہو جاتے ہیں۔ عالمی سطح پر تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ تمباکو استعمال کرنے والے ہر 100میں سے 50افراد کی موت کہ وجہ تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریاں ہیں۔ طبی ماہرین کے خیال میں سگریٹ زندگی کے11قیمتی منٹ روزانہ ضائع کرتا ہے۔اس طرح سگریٹ نوش کی زندگی کے اوسطاً10سال کم ہو جاتے ہیں۔

تمباکو نوشی کا دینی پہلو

دورِ نبویﷺ اور صحابہ کرامؓ میں چونکہ تمباکو موجود نہیں تھا اس لیے اس کی ممانعت کی احادیث موجود نہیں ہیں۔ابتدا میں فقہا نے یہ دیکھتے ہوئے کہ اس کی تاثیر چونکہ شراب جیسی نہیں ہے،اس لیے اسے مکروہ کے درجے میں ہی رکھا لیکن جدید تحقیق سے جب اس کے نقصانات سامنے آئے تو یہ رائے تبدیل کرنا پڑی۔ مارچ1982ء میں مدینہ منورہ میں ہونے والی اسلامی کانفرنس برائے انسدادِ منشیات میں عالم اسلام کے 17ممالک کے جید علمائے کرام نے تمباکونوشی کے استعمال کو حرام قراردے دیا۔ ان علماء میں مفتی اعظم سعودی عرب عبدالعزیز بن باز، ریکٹر جامع ازھر ڈاکٹر احمد عمر ہاشم، مفتی اعظم عمان شیخ احمد بن عماد الخلیلی اور علامہ یوسف القرضاوی شامل ہیں۔ تمباکونوشی کی حرمت کے لیے درج ذیل دلائل دیے گئے:

تمباکو کے نتیجے میں بیماریاں اور موت

’’اور تم اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو۔‘‘ ( البقرہ195)

’’اور اپنے آپ کو قتل مت کرو، بلاشبہ اللہ تم پر بہت مہربان ہے۔‘‘ (النساء29)

’’جس نے کسی زہر کے استعمال سے خود کو ہلاک کیا تو (روزِ قیامت) وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہو گا اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ اسے استعمال کرتا رہے گا۔‘‘ (بخاری)

تمباکو کے استعمال سے منہ اور سانس کی غلاظت

’’اور نبیؐ پاک چیزوں کو ان کے لئے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں۔‘‘ (الاعراف157)

’’حلال کر دی گئی ہیں تمھارے لئے تمام پاکیزہ چیزیں۔‘‘ (المائدہ4)

’’جو بھی ادرک یا پیاز کھاتا ہے، وہ ہم سے، ہماری مسجد سے دور رہے، فرشتوں کو یقینا ان چیزوں سے تکلیف ہوتی ہے جن سے انسانیت کو تکلیف ہوتی ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم)

’’صفائی ایمان کی شرط ہے۔‘‘ (مسلم)

تمباکو کے دھویں سے دوسروں کو تکلیف

تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ تمباکو نوش کے ساتھ رہنے والا ایک گھنٹے میں جتنا تمباکو سونگھتا ہے، وہ ایک سگریٹ پینے کے برابر ہے۔ ’’تکلیف نہ دو دوسروں کو اور نہ ہی اپنی ذات کو۔‘‘ (مسند احمد)

’’مومن وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔‘‘ (بخاری)

’’جو شخص اللہ اور اس کے رسولؐ پر یقین رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے۔‘‘(بخاری)

’’دراصل ایک اچھے اور برے ساتھی کی مثال یوں ہے جیسے ایک عطر فروش اور لوہار ۔ جیسے ایک عطر فروش تمھیں یا تو خوشبو دے گا یا تم اس سے خوشبو خریدو گے یا کم از کم تمھیں اس میں سے اچھی خوشبو تو آئے گی اور بھٹی پھونکنے والا یا تو گندگی بودے گا یا پھر کپڑے جلا دے گا۔‘‘ (بخاری و مسلم)

تمباکو نشہ آور ہے

’’اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر شیطان کے گندے کاموں میں سے ہیں۔ سو ان سے بچتے رہنا تاکہ کامیاب ہو جاؤ۔‘‘ (المائدہ90)

’’ہر نشہ آور شے خمر ہے اور نشہ آور شے حرام ہے۔‘‘ (مسلم)

’’جس شے کی زیادہ مقدار سے نشہ ہوتا ہے اس کی کم مقدار کا استعمال بھی حرام ہے۔‘‘ (ابو داؤد)

تمباکو فضول خرچی ہے

’’اور مال بے جا نہ اڑاؤ۔ بے شک فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔‘‘ (بنی اسرائیل26-27)

’’اللہ تعالیٰ کو تین چیزوں سے نفرت ہے: فضول باتیں کرنا، بھیک مانگنا اور مال ضائع کرنا۔‘‘ (بخاری و مسلم)

’’روز قیامت ابن آدم کے قدم ہل نہ سکیں گے جب تک پانچ باتوں کے بارے میں پوچھ نہ لیا جائے: زندگی کے بارے میں کہ کیسے گزاری ، جوانی کے بارے میں کہ کہاں کھپائی، مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اور جو علم حاصل کیا اس پر کتنا عمل کیا؟‘‘ (ترمذی)

تمباکونوشی کے اخلاقی پہلو

٭بیماری اورہلاکت سے خود کو نقصان

٭سگریٹ کے دھویں سے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے نزدیک بیٹھنے والوں کو تکلیف

٭مال کا بے جا اسراف

٭دوسرں بالخصوص بچوں کے لیے بری مثال قائم کرنا

٭نشہ میں دیگر لوگوں کوملوث کرنا، کیونکہ ایک نشہ دوسرے کو دعوت دیتا ہے

تمباکو کا ترک ممکن ہے

تمباکو کی عادت پڑنے کے بعد اس کو چھوڑنا آسان نہیں لیکن اگر انسان عزم کر لے تو سب کچھ ممکن ہے۔ رمضان المبارک اس سلسلے میں انسان کو بہترین موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اللہ پر توکل کرتے ہوئے مضبوط ارادہ کر لے اور جس طرح صبر و برداشت کی قوت سے کام لے کر دن میں اس بری عادت سے رک جاتا ہے اسی طرح رات میں بھی اس کا استعمال ترک کر لے۔ اگر تمباکو چھوڑنے کی علامتیں (Withdrawl Symptoms)پیدا ہوں تو انھیں ماہر ڈاکٹر کی مدد سے دور کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے پیش نظر یہ بات ضرور رہنی چاہیے کہ چند دنوں کی یہ دشواری، عمر بھر کی فضول، بے مقصد اور بیماری کی زندگی سے بدرجہا بہتر ہے۔

(پروفیسر سہیل اختر، انڈس ہسپتال کراچی میں بطور ماہر امراضِ سینہ خدمات سر انجام دے رہے ہیں اورپاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن(پیما) کے مرکزی صدر بھی رہ چکے ہیں)۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔