اصلی دہشت گرد، جنگ کے اصل بیوپاری کون؟

مدثر حسیب  پير 20 مئ 2019
اب جنگ، پیسہ بڑھانے کا کاروبار ہے۔ کاروباری ممالک ایک کمزورملک پردھاوابولتے اوراپنے اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ (فوٹو: فائل)

اب جنگ، پیسہ بڑھانے کا کاروبار ہے۔ کاروباری ممالک ایک کمزورملک پردھاوابولتے اوراپنے اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ (فوٹو: فائل)

یہ انیسویں صدی کااختتام تھا۔ 1898 میں سوئٹزر لینڈ کے شہر باسل میں یہودی دانشوروں کا اجلاس ہورہا ہے جس میں انیس ابواب پر مشتمل ایک دستاویز پر غور کیا جارہا ہے۔ اس کتاب میں ایک عالمی تنظیم حکومت کا تصور موجود ہے۔ ایک عالمی حکومت کا قیام اور پھر اس حکومت یا تنظیم کو یہودیوں کے زیر نگیں رکھنے کا خیال پیش کیا گیا ہے۔ پوری دنیا کو قومیتوں اور رنگ و نسل کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے جن میں شامل حکومتوں کو سیاسی، اقتصادی اور عالمی طور پر کنٹرول کیا جائے۔ اخبارات و رسائل پر مکمل اختیار ہو اور اس سے رائے عامہ تبدیل کی جا ئے گی۔ ایک طرح کے نئے ورلڈ آرڈر جاری کرنے کی تیاری تھی۔ ایک آزاد اور طاقتور یہودی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس کا خواب صدیوں سے دیکھا گیا ہے؛ اور ایک عالمگیر معاشی نظام کے تحت تمام اداروں کو اس کے زیراثر کیا جائے گا۔ یہی نظام ہی طے کرے گا کہ کون زندہ رہے گا اور کون مرے گا۔ اسی نظام کے زیر اثر دوسری قومی، مذہبی یا سیاسی تنظیموں کو ختم یا غیر فعال کردیا جا ئے گا۔ اہل ملکوں پر نااہل حکمران مسلط کردیئے جائیں گے۔

ہم اس وقت بیسویں صدی کے آغاز میں ہیں۔ مسلمانوں کی عظمت، سلطنت عثمانیہ اپنی آب وتاب کھوچکی ہے۔ تین براعظموں پر پھیلی اس سلطنت کی ہیبت ابھی یورپ میں قائم ہے۔ لیکن زوال پذیر ہوتی ہوئی یہ عظیم سلطنت روز بروز سکڑ رہی ہے۔ غیر مسلم قوتیں اکٹھی ہوکر اسے اپنے مفادات کےلیے توڑنے کے درپے ہیں۔ کئی علاقے اس کے ہاتھ سے جاچکے ہیں۔ داخلہ امور کا بھی کوئی پرسان نہیں۔ کتنے عرصے سے کوئی اہل حکمران نہیں آیا جو اس کی عظمت کو قائم رکھ سکے یا کم ازکم پسپا ہونے سے بچاسکے۔ اندر ہی اندر معاشی و اقتصادی ابتری نے حالات بدتر کر رکھے ہیں۔ شیعہ سنی فسادات کو کنٹرول کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ تقریباً سو سال سے جاری علیحدگی پسند تحریکوں کو روکنا ممکن نہیں رہا۔ نیشنلزم اور قوم پرستی کا نعرہ بلند سے بلند تر ہو رہا ہے جس کی اسلام میں تو کوئی گنجائش بہرحال نہیں۔ رنگ ونسل پر تفریق بھی جاری ہے۔ اسی دوران یونان آزادی کا اعلان کرچکا ہے۔ سربیا، بوسینا اور مونٹی نیگرو سمیت چھ ریاستوں میں لسانیت اور قومیت کی تقسیم عروج پکڑتی ہے اور یہ بھی الگ ہوجاتے ہیں جو قبل ازیں نیم خود مختار حیثیت سے سلطنت کے سامنے سرنگوں تھیں۔

ایک کے بعد ایک علاقہ اسی قوم پرستی کی بھینٹ چڑھ رہا تھا۔ لیبیا، ہرزیگووینا اور بلقان سے بھی ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ سلطنت عثمانیہ کی افواج دنیا کی عظیم افواج ہوتی تھیں لیکن اب ان میں بھی وہ بات نہ رہی۔ بحریہ اور برّی افواج، دونوں قدیم ہونے کے باوجود دوسروں کی محتاج ہوچکی ہیں کیونکہ سلطنت انہیں جدید بنانے میں پیچھے رہ گئی ہے اور اب دوسرے ممالک کی مصنوعات اور عملی تربیت پر انحصار کرتی ہے۔ برطانیہ کو جدید بحری جہازوں کی مد میں ادا کی جانے والی رقم سے تیار جہازوں کو برطانوی بحریہ نے اپنے لیے استعمال کرلیا ہے؛ اور سلطنت کے ساتھ کیا جانے والا معاہدہ ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے۔ ٹریننگ کےلیے بھیجے گئے فضائیہ کے دو پائلٹس کو بھی واپس بھجوا دیا گیا ہے، کیونکہ کمزور کی مدد کرنا اس دنیا نے نہیں سیکھا اور یہ بات سلطنت سمجھنے سے قاصر ہے۔ اس سارے پس منظر میں سلطنت کے پاس جرمنی کا ساتھ دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

ادھر دوسری طرف پورے یورپ میں جنگ کے طبل بجائے جارہے ہیں۔ قوم پرستی اپنے عروج پر ہے۔ ہر کوئی اس میں خوش ہورہا ہے کہ وہ جرمن، سربین، اطالوی یا انگریز ہے، سفید فام ہے۔ بھاری اور فولادی صنعتوں کا انقلاب آچکا ہے۔ یہودی ساہوکاروں نے سود پر قرضے دینے کی ٹھانی ہے۔ بینکنگ ایک نئی بلندی دیکھ رہی۔ جنگ کو فائنانس کرنے کی پوری منصوبہ بندی ہورہی ہے جس کی وجہ صرف اور صرف قوم پرستانہ رعب قائم کرنا ہے۔

جرمنی میں ایک جنگی کھچڑی پک رہی ہے جسے پکانے میں دو جرمن یہودی بینکار و صنعتکار والٹر رادیہاؤ (Walter Rathehau) اور میکس واربرگ (Max Warburg) کا بڑا کردار ہے، کہ جو جرمن سیاست میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایڈم اسمتھ کا لگایا ہوا کیپٹلزم کا پودا اب بارآور درخت ثابت ہورہا ہے۔ پیسہ اکٹھا ہوچکا ہے، اب اسے خرچ کرکے نیا اور زیادہ پیسہ کمانے کی ضرورت ہے… اور جنگ سے بڑھ کر کوئی اچھا کاروبار نہیں۔ اس جنگ کو ہوا دو، دوسرے ملکوں پر یلغار کردو اور ان کے وسائل کو اپنے وسائل کے ساتھ ملا کر دگنا کرو۔ برطانیہ میں میڈیا کے ذریعے پوسٹرز چھپ رہے ہیں: ’’برطانوی عورتیں تمہیں الوداع کہتی ہیں،‘‘ جبکہ بیلجیئم میں برطانیہ ہی کے حق میں چھپنے والے پوسٹروں کی عبارت کچھ یوں ہے: ’’تمہا رے بادشاہ اور ملک کو برطانوی سلطنت کی شان و شوکت کےلیے تمہاری ضرورت ہے۔‘‘

میدان گرم ہوچکا ہے۔ سربیا، آسٹریا، ہنگری، جرمنی، اٹلی کے ساتھ روس اور برطانیہ کی فوجیں ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتی ہیں۔ سب کے ہاتھ میں اپنی اپنی قومیت کا جھنڈا ہے۔ ہر کوئی افضل اور بر تر ہونے کا نعرہ لگا رہا ہے، ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ تم گھٹیا ہو، ہر ایک ہی اپنی دنیا میں اعلٰی تہذیب کا حامل ہے اور دوسرا دہشت گرد۔ گولیاں چل رہی ہیں، لوگ مر رہے ہیں، پیسہ کمانے والے پیسہ کما رہے ہیں۔ کل کے بادشاہ آج در بدر ہو رہے ہیں۔ کل کی بڑی سلطنتیں ٹوٹ رہی ہیں، چھوٹی ہوکر ٹکڑے ہو رہی ہیں۔

برطانیہ اور فرانس کی فوجیں سلطنت عثمانیہ پر چڑھ دوڑی ہیں۔ انہیں تو موقع چاہیے تھا۔ عثمانی فوجیں بھی بے جگری سے لڑ رہی ہیں۔ برطانوی جنرل موود بغداد پر حملہ کرتا ہے۔ العزیزیہ کے مقام پر سلطنت کی فوجیں سخت مزاحمت کر رہی ہیں۔ جنرل موود پیش قدمی روک کر نئی حکمت عملی بناتا ہے اور ترک فوج سے دگنی فوج اکٹھی کرتا ہے۔ بھاری توپ خانے لاتا ہے اور ساتھ میں فضائیہ کو بمباری کےلیے تیار کرتا ہے۔ پیش قدمی ہوتی ہے، ترک فو ج کےلیے سنبھلنا مشکل ہوگیا۔ بغداد فتح ہوگیا۔

یہ مارچ 1918 کی ایک صبح ہے۔ جنرل مرے آٹھ مہینے سے فلسطین کی طرف پیش قدمی جاری رکھے ہوئے تھا اور آج وہ آگے بڑھنے کےلیے غزہ کا انتخاب کرتا ہے۔ 22 ہزار برطانوی فوجیوں کے مقابلے میں ترک فوج کی تعداد صرف چار ہزار ہے۔ برطانیہ پوری منصوبہ بندی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس پوری جنگ کا محاذ یہیں بنا ہوا ہو۔ برطانیہ جزیرہ نمائے عرب کے ساتھ ساتھ عراق، شام، کویت اور مغربی ایشیا کے علاقے بھی الگ کرنا چاہتا ہے۔ ظاہر ہے جنگ کے فائنانسر یہی کچھ چاہتے ہیں۔ محاذ پر جنگ کا طبل بجتا ہے، برطانوی گھڑ سوار فوج جنرل مرے اور جنرل ڈوبل کے ماتحت پیش قدمی کرتی ہے۔ لیکن دوسری طرف ترک فوج بے دھڑک ہوکر لڑ رہی ہے۔ برطانوی فوج کا بہت نقصان ہورہا ہے۔

ترک فوج نے اپنی ہمت سے شہر کے ارد گرد خند ق کھود لی ہے۔ برطانوی فوج نے شہر کو گھیرے میں لیا ہوا ہے لیکن اندر جانے کا راستہ نہیں۔ فوج، گھوڑے اور توپ خانے بے فائدہ ہورہے ہیں۔ ترک فوج نے اچھی حکمت عملی سے یہ مرحلہ جیت لیا ہے۔ لیکن پھر اچانک نئی کمک منگوائی جاتی ہے۔ ادھر مسلمان فوج بھی کٹ مرنے کو تیار ہے۔ بھرپور حملہ ہوتا ہے، برطانوی افواج پھر پسپا ہوگئیں۔ برطانیہ ٹیلی گرام کیا گیا، نئی حکمتِ عملی بنائی گئی۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی فوج کو مشرق سے حملہ کرنے کا کہا گیا یعنی ہر طرف سے گھیر کر تیسرا حملہ کیا گیا۔ اس بار عثمانی فوج حملہ سہہ نہ سکی اور پسپا ہوگئی۔

اب مزید پیش قدمی کے طور پر یروشلم کی طر ف بڑھا جارہا ہے۔ ظلم اور بربر یت کا بازار گرم کردیا گیا ہے۔ پورا شہر دہشت گردی کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ عام شہریوں کا قتل عام ہورہا ہے۔ تین مذاہب کےلیے مقدس شہر کا تقدس پامال کر دیا گیا ہے۔ عثما نی افواج نے شہر کے تقدس کو قائم رکھنے کےلیے شہر برطانوی حکام کے حوالے کردیا ہے۔

ادھرجزیرہ نمائے عرب میں برطانیہ نے شریف مکہ کو ترکوں کے خلاف بغاوت کا کام سونپا ہے جو پوری طرح جاری وساری ہے۔ یہاں بھی عرب نسل پرستی کو ہوا دی گئی۔ حالانکہ کسی عرب کو کسی عجم پر کوئی فوقیت نہیں، لیکن قوم پرستی اور نسل پرستی ایک بار پھر اپنا کام دکھا گئیں۔ بالکل ویسا ہورہا ہے جیسا سوچا گیا تھا۔ عرب کےلیے برطانیہ کی فضائیہ کے جہاز اڑان بھرتے ہیں اور خلافت کا ایک اور باب بند ہوجاتا ہے۔ جزیرہ نمائے عرب ’’سعودی عرب‘‘ بن جاتا ہے۔

یہ 1918 کا اوائل ہے۔ پوری دنیا دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ اسلحہ ساز مزدور فیکٹریوں میں دن رات اسلحہ بنانے میں لگے ہیں اور ان ہی فیکٹریوں کے بیوپاری، جنگ بیچنے میں لگے ہیں۔ لوگ مررہے ہیں؛ اور جو بچ رہے ہیں ان میں بیماریاں پھیل رہیں۔ بھوک عام ہے، غذا کی کمی ہے۔ سفید فام قوم پرست عوام جو جعلی اور جھوٹی خبروں سے گرمائے گئے تھے، اب امن مانگ رہے ہیں۔ فوجی بے وجہ جنگ سے اکتا کر خودکشیاں کر رہے ہیں یا گھر وں کو بھاگ رہے ہیں۔ جاپان سے یورپ اور برصغیر سے مراکش تک لوگ انتہا پسندی کا شکار ہو رہے ہیں۔ انتہا پسندوں کی دہشت عروج پر ہے۔ نہ چرچ میں لوگ محفوظ ہیں نہ مسجد میں۔ لوگ جنگ زدہ علاقوں سے دور بھاگنے کےلیے نقل مکانی کر رہے ہیں۔ کئی راستے میں گولیوں کا نشانہ بن گئے اور کچھ سمندری موجوں کا۔ وہ خود تو دوسرے علاقے میں نہیں میں پہنچ پاتے لیکن ان کی لاشیں ساحلوں سے آلگتی ہیں۔ امن دنیا میں ناپید ہوچکا۔ زمین ہو یا پانی، ہر جگہ انسان بکھرے پڑے ہیں، لیکن کاروبار کرنے والے امیر ہورہے ہیں۔

ایسے میں امریکی صدر ولسن کھڑا ہوتا ہے۔ اسے یہ رول بھی بیوپاریوں نے دیا ہے۔ وہ اپنے چودہ نکات پیش کرتا ہے۔ جن میں جنگ بیچنے والوں کا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔ وہ سمندروں میں امن اور آزادی کی بات کرتا ہے۔ معاشی رکاوٹیں دور کرکے آزادانہ تجارت بڑھانے کا کہتا ہے۔ یورپی ملکوں کےلیے عوام کی آزادی اور جمہوریت کی تجویز دیتا ہے، جو کیپٹلزم ہی کی ضمنی پیداوار ہے۔ تمام ملکوں کے سرحدی نظام بھی بنائے جائیں اور تقسیم وہی قومیت پرستی والی۔ ایک قسم کی نسل اور قوم کےلیے، جو ایک رنگ کی ہو، ایک بارڈر کی تجویز ہے۔

اس سارے معاملے میں جرمنی، اٹلی اور روس بحال کیے جاچکے ہیں جبکہ ترکی کے کھوئے ہوئے علاقے قوم پرستوں میں تقسیم کیے جارہے ہیں۔ ایک بین الاقوامی تنظیم ’’لیگ آف نیشنز‘‘ پر کام شروع ہوچکا ہے جو ان سب ملکوں میں سے طاقتور کا تحفظ کرے گی۔ قوم پرستوں کے بارڈرز بھی بن گئے؛ لیکن اب ان لوگوں کا کیا کیا جائے جو غریب قوموں سے نقل مکانی کرکے آئیں گے؟ وہ آکر ملکی سلامتی کےلیے خطرہ بن سکتے ہیں، دہشت گردی پھیلائیں گے یا پھر اپنے اپنے ملکو ں میں پیسہ بھجوائیں گے جبکہ امیر ملک کا پیسہ صرف اسی ملک میں ہی رہنا چاہیے۔

ان غیر قانونی تارکین وطن کو کنٹرول کرنے کےلیے ایک کانفرنس پیرس میں بلائی جاتی ہے جس میں پاسپورٹ اور کسٹم کا اجراء کیا جارہا ہے۔ بجلکل ایسے ہی جیسے 450 قبل مسیح میں یہودہ میں آنے کےلیے یہودہ کے بادشاہ نے ایرانی بادشاہ کے ایلچی کو ایک دستاویز دی تھی۔

اب ہم ٹھیک 100 سال بعد 2018 میں ہیں۔ یہودیوں کی ریا ست اسرائیل، قیام کے بعد طاقتور ہوچکی ہے۔

امریکا کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہے جو ایک خاص کمیو نٹی کےلیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ پچھلے 100 سال میں کسی نے ایسے صدر کےلیے خواب دیکھے ہیں۔ چاہے پوری دنیا کچھ بھی کہے، وہ اس کمیو نٹی کےلیے ایک اوتار کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ میکسیکو کے بارڈر پر دیوار بنانے کےلیے کانگریس سے بھی ٹکرا چکا ہے تاکہ کوئی غیر قانونی تارکِ وطن، امریکی تہذیب خراب نہ کرسکے۔ 4 دسمبر 2017 کو صدر ٹرمپ ایک پریس کانفرنس کرتا ہے۔ پریس ریلیز نے دنیا کو حیران کردیا۔ وہ کہتا ہے کہ وہ ایسا کام کرنے جارہا ہے جو 20 سال میں کوئی امریکی صدر نہیں کرسکا، حالانکہ امریکی کانگریس نے اس کا ایکٹ 20 سال پہلے پاس کیا تھا۔ یہ ایک تاریخی موقع ہے کہ آج یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت بننے جارہا ہے جبکہ ہزاروں سال پہلے یہودی ریاست کا دارالحکومت بھی یروشلم تھا؛ اور اس سے مشرق وسطٰی میں امن قائم ہوگا۔

اسرائیل نے مغربی کنارے پر دہشت گردی کےلیے باڑ بھی لگا رکھی ہے جبکہ مغربی کنارے کے لوگوں کےلیے غذا اور دوائیوں کی فراہمی بھی ممکن نہیں۔ علاقہ تنگ ہے، جنگ کےلیے موزوں بھی نہیں۔ کوئی ایسا راستہ نہیں جہاں سے انہیں ہتھیار مہیا ہوسکیں۔ لیکن پھر بھی اسرائیل اپنا رعب قائم رکھنے کےلیے بمباری کرتا رہتا ہے تاکہ دہشت گردی کا سدباب ہو سکے۔ نشانہ دہشت گرد ہی ہوتے ہیں لیکن کولیٹرل ڈیمیج (collateral damage) میں بچے، عورتیں اور بوڑھے مرنا عام سی بات ہے۔

سوشل میڈیا اور گلوبلائیزیشن کا عروج ہے اور دنیا جہان کے لوگوں کا ڈیٹا بینک بنایا جارہا ہے۔ ان کی لوکیشن تک کا ڈیٹا ایک خودکار نظام کے ذریعے کلاؤڈ پر محفوظ ہورہا ہے۔ زیادہ سے زیادہ سوشل میڈیا یوزرز بنانے ضروری ہیں، چاہے تو اس کےلیے غریب ممالک میں فری انٹر نیٹ ہی دینا پڑے۔

مسلمان وطن پرستی اور نسل پرستی چھوڑ کر ایک اللہ کے دین کےلیے اسلامی اخوت اور خلافت کا نام لے تو گناہ گار ٹھہرا جبکہ ان کی معاشی گلوبلائزیشن ثواب بنی۔ کیپٹلزم لازم و ملزوم معاشی نظام بن گیا۔ سود اور سودی بینکاری ہر کاروبار کا حصہ۔ کسی کاروبار کا سرمایہ مالک کی حصہ داری کے ساتھ ساتھ بینکاری لائبلیٹیز (Liabilities) کے بغیر ممکن نہیں۔ امیر، امیر تر ہو رہا ہے۔ پیسے کا ارتکاز اتنا ہوچکا کہ دنیا کے 1810 امیر ترین لوگوں کی مجموعی سالانہ آمدن، پورے جاپان کی سالانہ قومی آمدن سے بھی کہیں زیادہ ہوگئی ہے؛ حالانکہ مجموعی قومی آمدن کے حوالے سے جاپان دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ جمہوریت ایک مستند حکومتی نظام ہے جس کے خلاف بات ایک گناہ بن چکی ہے حالانکہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کی ہی ایک فصل ہے اور اسی کارپوریٹ کلچر کی کوکھ سے پیدا ہو کر اسی نظام کا تحفظ کرتی ہے۔

اب جنگ، جنگ نہیں ایک کاروبار ہے۔ پیسہ بڑھانے کا کاروبار۔ کاروباری ملک اکٹھے ہوکر ایک کمزور ملک پر دھاوا بولتے اور اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔

بی بی سی، اے بی سی، سی این این، ڈیلی میل جیسے اداروں کے ذریعے چھ بلین لوگوں کی رائے کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ میڈیا ہی کی طاقت سے سچ کو جھوٹ اور جھو ٹ کو سچ بنایا جاتا ہے، دہشت گرد امن پسند اور امن پسند دہشت گرد بنائے جاتے ہیں۔ چاہے تو برطانیہ کا جمہوری وزیراعظم ٹونی بلئیر کسی دوسرے ملک پر کیمیائی ہتھیاروں کاالزام لگائے اور میڈیا ہی کی طاقت سے اپنے جھوٹ کو سچ بناکر عوام کے سامنے پیش کرے؛ اور جب اس ملک میں قتل و غارت کا کوئی انجام نہ نکلے تو کہہ دے کہ کیمیائی ہتھیاروں والی معلومات درست نہیں تھیں۔ اور چاہے تو میڈیا پر آکر امریکی صدر بش جونیئر صلیبی جنگ کا نعرہ لگائے، افغانستان پر حملہ کردے اور سترہ سال بعد جب اس جنگ کا کوئی نتیجہ نہ نکلے تو جنگ سے نکلنے کا آسان راستہ تلاش کرے۔

پوری دنیا رنگ برنگے پاسپورٹوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ اب تو دوسرے ملک میں جانے کےلیے ایک الگ دستاویز یعنی ویزا بھی لینا ضروری ہوگیا ہے۔ اب کوئی تارک وطن اپنے پاسپورٹ اور ویزا کے بغیر دوسرے ملک نہیں جا سکتا۔ اب اس سب کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ جنگیں اور دہشت گردی ختم ہوجاتیں، ہتھیاروں کے بجائے امن کی فصل کاشت ہوتی۔ لیکن یہ آگ ہے جو روز بروز بڑھتی جا رہی۔

مگر آج بھی تارکین وطن، سمندر کی بے رحم لہروں کا شکار ہوتے ہیں؛ آج بھی گولیوں اور بارود سے مسجد محفوظ ہے نہ چرچ۔ ایک یہودی مضمون نگار سیموئل ہنٹنگٹن لکھتا ہے کہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد مغرب کو ایک نئے دشمن کی ضرورت تھی کیونکہ جنگ کبھی نہیں رکے گی، چاہے ہتھیار زنگ آلود ہوجائیں لیکن پھر بھی ممالک کے مابین جنگ چلتی رہے گی۔ ممکن ہے یہ عسکری جنگ نہ ہو لیکن امریکا اور مغرب دوسرے فریق کے ساتھ مسلسل حالت جنگ میں رہیں گے۔

امریکا اور مغرب کی تہذیب محفوظ ہوچکی ہے، وہاں امن بھی قائم ہے۔ لیکن دہشت گردی کی جنگ ابھی جاری ہے، تاہم امریکا اور یورپ سے باہر۔ یورپ نے اپنی سرحدیں بھی آپس میں کھولی ہوئی ہیں، بارڈرز پر فری ٹریڈ بھی ہورہا ہے اور سیر و سیاحت بھی۔ وہاں نہ کوئی پاسپورٹ چاہیے اور نہ ویزا۔ تو تقسیم کون ہوا؟ کس کےلیے سرحدوں پر باڑیں لگائی جارہی اور دیواریں کھڑی کی جارہی؟ کون ہیں تارکین وطن؟ کون ہیں جو دنیا سے جنگ ختم نہیں ہونے دیتے؟ کون ہیں اصلی دہشت گرد؟ کون ہیں جنگ کے بیوپاری؟

کیا اتنا سب کچھ جاننے کے بعد بھی آپ انہیں نہیں پہچان پائیں گے؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

مدثر حسیب

مدثر حسیب

بلاگر نے مالیات (فائنانس) کے شعبے میں ایم فل کیا ہوا ہے اور دس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ آج کل متحدہ عرب امارات میں بھی شعبہ مالیات میں کام کررہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔