کوئی آزمائش سی آزمائش ہے!

کلیم اللہ  جمعرات 23 مئ 2019
ہم ہر شعبہ زندگی میں ہر چھوٹی بڑی بے ایمانی کرتے ہیں اور پھر رونا روتے ہیں کہ ہمارے حکمران بے ایمان ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ہم ہر شعبہ زندگی میں ہر چھوٹی بڑی بے ایمانی کرتے ہیں اور پھر رونا روتے ہیں کہ ہمارے حکمران بے ایمان ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ملک خدا داد پاکستان، اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت، آئین مکمل اسلام کا آئینہ دار، ناداروں اور غرباء کی امداد میں سب سے آگے، عمرہ زائرین کو اگر دیکھیں تو ہر چوتھا شخص پاکستانی نظر آتا ہے مگر ’’کوئی آزمائش سی آزمائش ہے‘‘ کہ آئی ایم ایف کے در پر سر جھکائے بیٹھے ہیں۔ صرف 6 ارب ڈالر، وہ بھی 39 ماہ کے طویل عرصے میں بذریعہ اقساط وصول ہوں گے۔ بدلے میں کیا کرنا پڑے گا؟ خدا جانے، بلکہ خدا ہی جانے۔ پاکستان اتنا بڑا ملک جس میں خدا تعالی کی دی ہوئی ہر نعمت موجود ہے اور پھر بھی وہ مجبور ہے کہ غلامی کی ہر شرط قبول کرتے ہوئے صرف 6 ارب ڈالرز کےلیے آئی ایم ایف کے پاس جائے۔

یہ اور کچھ نہیں، صرف اور صرف ہماری بدعملی اور بے ایمانی کی سزا کے طور پر عذاب خداوندی ہے۔ یہ عذاب خداوندی ہی تو ہے کہ ہم آج سونے میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو اسے مٹی بنا دیتے ہیں۔ ہم تمام پاکستانی من حیث القوم بے ایمان واقع ہوئے ہیں؛ اور جو چند اچھے لوگ ہیں، وہ عطیہ خداوندی ہیں۔ باقی تمام وہ ہیں جو ایمانداری کا ڈھونگ رچاتے ہیں یا پھر وہ ہیں جنہیں کبھی موقع نہیں ملا ہوتا۔ کیونکہ اگر موقع ملنے پر بھی… جو لوگ کچھ نہیں کرتے، کمال کرتے ہیں!

اور اگر ایسا کمال ملاحظہ کرنا ہو تو کبھی رات کے 3 بجے کسی سگنل کے کنارے رک کر نظارہ کرلیجیے۔ سگنل بند ہوتا ہے اور ہم نہیں رکتےکیوں کہ کوئی روکنے والا نہیں، چالان کا کوئی ڈر نہیں۔ جب ہم ایک سگنل کی حد تک ایمانداری نہیں کرسکتے تو ہم سے اور کیا امید کی جاسکتی ہے؟ اسی طرح ہم ہر شعبہ زندگی میں چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بے ایمانی کرتے ہیں اور پھر رونا روتے ہیں کہ ہمارے حکمران بے ایمان ہیں۔

ذرا سوچیے کہ ہمارے حکمران کیا آسمان سے نازل ہوئے ہیں؟ نہیں! انہیں ہم نے منتخب کیا ہے… اپنی بداعمالیوں سے اور اپنے ووٹ سے۔ قرآن پاک میں واضح ارشاد ہے کہ جیسے ہم ہوں گے، ویسے ہمارے حکمران ہوں گے۔ اگر اس پر ہمارا یقین ہے تو پھر رونا کس بات کا ہے؟

خدا تعالی نے مرض کی تشخیص فرما دی اور ساتھ ہی دوا بھی تجویز کر دی۔ اب یہ ہماری مرضی کہ ہم کیا کرتے ہیں؛ اور ہماری مرضی نہ پوچھیے کہ ہم سب لوگ صرف دوسروں کے فرائض بتاتے ہیں اور اپنے حقوق کا رونا روتے ہیں، حالانکہ ہمارا دین ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم پہلے اپنے فرائض اور دوسروں کے حقوق ادا کریں۔ اگر ہم صرف یہی ایک کام کرنا شروع کردیں تو ہمیں آئی ایم ایف کے 6 ارب ڈالروں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ شرط صرف ایک ہے: آزمائش شرط ہے!

قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے، افراد سے اقوام تشکیل پاتی ہیں اور اس کےلیے عمل کی ضرورت ہوتی ہے، باتوں کی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم روز ٹی وی پر ایک نہ ختم ہونے والی بحث دیکھتے ہیں اور یہ بحث ہمارے لیے تفریح کا ذریعہ ہے۔ لطف آتا ہے جب ہم کسی کو چور کہتے ہیں یا یہ سنتے ہیں کہ فلاں ٹیکس چور ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم لطف اٹھانے کے بجائے اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں کہ کیا ہم خود ٹیکس دیتے ہیں؟ اسی طرح ٹیکس جمع کرنے والے ادارے سوچیں کیا ہم پورا ٹیکس وصول کر رہے ہیں؟ کیا پورا ٹیکس وصول کرکے سارا ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرا رہے ہیں۔

یہ خود احتسابی کا عمل ہے اور اگر ہم ایمانداری سے اپنا محاسبہ کرلیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ٹیکس نہ دیں؛ اور کوئی وجہ نہیں کہ ادارے ٹیکس جمع نہ کریں اور اس جمع شدہ ٹیکس کو قومی خزانے میں جمع نہ کرایا جائے۔ جب ہم پوری ایمانداری سے اپنا اپنا کام کریں گے تو حکم خداوندی وہی ہے کہ جیسے ہم ہوں گے، ویسے ہمارے حکمران ہوں گے۔ یقین رکھیے کہ ہمارے حکمران وہ ٹیکس کا جمع شدہ سرمایہ ہم پر ہی لگائیں گے۔

ایمان رکھیے، یقین رکھیے، عمل کیجیے۔ یقیناً، راستے ہمارے ہیں، منزلیں بھی ہماری ہی ہوں گی۔ چھ ارب تو بہت معمولی بات ہے، ہم بہت آگے جاسکتے ہیں مگر شرط صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ آزمائش شرط ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

کلیم اللہ

کلیم اللہ

بلاگر عرصہ تیس سال سے زراعت کے شعبے سے منسلک ہیں۔ زیادہ تر سیلز کے شعبے میں کام کرتے رہے ہیں۔ ٹیکنیکل ٹریننگ کے ساتھ ساتھ موٹیویشنل اسپیکر کے طور پر بھی طبع آزمائی کر رہے ہیں اور مختلف نجی اداروں کے علاوہ زرعی یونیورسٹی کے طالب علموں کےلیے بھی سیشن کرچکے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔