برتولت بریخت (1898-1956)

ایکسپریس اردو  جمعـء 6 جولائ 2012
’’دو بیٹے‘‘ دوسری بڑی جنگ کے پس منظر میں ایک چھوٹی سی حکایت ہے۔فوٹو ایکسپریس

’’دو بیٹے‘‘ دوسری بڑی جنگ کے پس منظر میں ایک چھوٹی سی حکایت ہے۔فوٹو ایکسپریس

میںمشرقی جرمنی کے ناٹک نویس بریخت (یابریشٹ؟) کے نام سے تو آشنا تھا مگر اس کے قلم سے نکلی ہوئی کسی تحریرکے پڑھنے کی نوبت کبھی نہیں آئی تھی۔ ویسے بھی مجھے لکھے ہوئے ڈرامے پڑھنے کا شوق نہیں۔ عجیب طور سے میرا ذہن اس جرمن مصنف کو ہمیشہ سموئیل بیکٹ کے ساتھ بریکٹ (گڈ مڈ) کرتا رہا اور میرے دل میں بیٹھا تھا کہ بریخت ان لکھنے والوں میں سے ہو گا جو ہائی برو‘ انٹلکچوئل لوگوں کے لئے لکھتے ہیں اور جنہیں آسانی سے پڑھا اور سمجھا نہیں جا سکتا۔ پھر چند ماہ پہلے بہاولپور کی سینٹرل لائبریری سے بریخت کی ایک چھوٹی سی کتاب میرے ہاتھ لگ گئی Tales from the Calendar یعنی ’’جنتری سے حکایات‘‘۔ بریخت نے اپنا یہ کہانیوں‘ نظموں‘ حکایتوں کا مجموعہ 1947ء میں اپنی جلاوطنی سے لوٹنے کے فوراً بعد خود ہی ترتیب دیا تھا۔

یہ کتاب پہلے پہل جرمنی میں 1949ء میں طبع ہوئی۔ جب میں نے بریخت کی کہانیاں اور نظمیں ایک ایک کر کے پڑھیں تو مجھے اس ایسٹ جرمن سے محبت ہو گئی اور اس نے میرے دل میں گھر کر لیا۔ میں نے یوں محسوس کیا جیسے مجھے ایک نیا‘ خوبیوں والا دوست میسر آ گیا ہے۔ ایک مدت سے کسی دوسرے لکھنے والے نے میری روح کو اس طرح نہیں ہلایا جس طرح اب بریخت نے ہلا دیا۔ اس کی کہانیاں جو طالسطائی کی حکایات کی پرفریب سادگی‘ سچائی اور اختصار سے لکھی ہوئی ہیں‘ اپنے اندر تاثیر کا طلسم رکھتی ہیں۔ ہر کہانی ایک ترشا ہوا ادبی ہیرا ہے۔ بریخت ان مصنفوں میں سے ہے جن کا دردمند دل وسیع انسانیت کے لئے دھڑکتا ہے۔ وہ ایک بڑا ہیومنسٹ لکھنے والا ہے۔ بلاشبہہ ایک عظیم سحرکار۔ ’’دو بیٹے‘‘ دوسری بڑی جنگ کے پس منظر میں ایک چھوٹی سی حکایت ہے۔ میں اسے ایک عظیم مختصر افسانہ کہوں گا۔ ایک دفعہ پڑھنے کے بعد کون اس کہانی کو بھلا سکتا ہے؟ یہی بات ’’ٹیلزفرام دی کیلنڈر‘‘ کی دوسری کہانیاں اور نظموں کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔